احمد مشتاق..تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

0
1260

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں
برق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میں

باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہے
وقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں

شہر ویران ہوئے بحر بیابان ہوئے
خاک اڑتی ہے در و دشت کی پہنائی میں

ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا
اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں

اس تماشے میں نہیں دیکھنے والا کوئی
اس تماشے کو جو برپا ہے تماشائی میں
احمد مشتاق

SHARE

LEAVE A REPLY