بریگزٹ معاہدے کے تحت یورپی اور برطانوی شہریوں کی آمدروفت اور لین دین یورو میں جاری رہے گی۔ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہوگی، قانون نافذکرنے والے اداروں اور عدلیہ کے مابین تعاون جاری رہے گا۔ برطانیہ 2 سال تک یورپی یونین کے بجٹ میں حصہ ملائے گا، برطانوی پارلیمان میں معاہدے پر ووٹنگ کی توقع دسمبر کے اوائل میں ہے لیکن لیبر، لب ڈیم، ایس این پی، ڈی یوپی اور متعددٹوری ایم پیز کی مخالفت کے باعث توثیق کی گارنٹی نہیں ہے۔ اتوار کے روز یورپین قانون میں علیحدگی کے آرٹیکل 50 کے تحت برسلز میں یورپین کونسل کا خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں یورپی یونین کے 27 ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے 44 سال تک یونین کا ممبر رہنے کے بعد
برطانیہ کی یورپ اور یورپین اٹامک انرجی کمیونٹی (یوراٹوم) سے علیحدگی کے لئے دونوں فریقین کے درمیان آئندہ تعلقات کیلئے لائحۂ عمل کی منظوری دیدی۔ اس موقع پر یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک، یورپین کمیشن کے سربراہ جاں کلاڈ جنکر اور دیگر رہنماؤں نے اس ڈیل کیلئے برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا تاکہ وہ برطانوی پارلیمنٹ سے اس ڈیل کی توثیق حاصل کرسکیں۔
یورپی رہنماؤں نے کہا کہ یہ دن کوئی خوشی کا دن نہیں ہے لیکن پیش کیا جانے والا معاہدہ ایک بہترین پیش کش ہے۔ یورپی رہنماؤں نے یہ بھی باور کرایا کہ اگر برطانوی پارلیمنٹ نے اس معاہدے کی منظوری نہ دی تو پھر برطانیہ سے آئندہ کے معاشی تعلقات کیلئے مزید مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ اس معاہدے کے اہم نکات کے تحت یورپی اور برطانوی شہریوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کے شہری حقوق پہلے ہی کی طرح قائم رہیں گے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے ڈیٹا بیس سے معلومات حاصل کرسکیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اور جوڈیشل اداروں کے درمیان تعاون بھی جاری رہے گا۔ معاہدے کے تحت سرکاری حکام، یورپین سینٹرل بنک، یورپین انوسٹمنٹ بنک اور دوسرے اداروں کے ملازمین کی آزادانہ آمدورفت جاری رہے گی۔
یورپ اور برطانیہ کے درمیان اپنے حسابات اکاونٹس اور ادائیگیوں کیلئے بطور کرنسی یورو استعمال کیا جائے گا۔ برطانیہ 2019 اور 2020 کیلئے یورپین یونین کے بجٹ میں اپنا حصہ ادا کرے گا۔ اس معاہدے کے ٹرانزیشنل پیریڈ کا تعین بھی کردیا گیا ہے، جس کی آخری تاریخ دسمبر 2020 ہے، جس میں استثنائی صورتحال کے تحت ایک یا دو سال کا اضافہ بھی کیا جاسکے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی پارلیمان میں معاہدے پر ووٹنگ کی توقع دسمبر کے اوائل میں ہے لیکن لیبر، لب ڈیم، ایس این پی، ڈی یوپی اور متعددٹوری ایم پیز کی مخالفت کے باعث توثیق کی گارنٹی نہیں ہے۔ ہفتے کو مسٹر ٹسک نے سپین کی جانب سے
آخری منٹ میں جبرالٹر کے حوالے سے تحفظات ختم کرنے کے بعد یہ اشارہ دیا تھا کہ ڈیل ہو جائے گی۔
دوسری جانب ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ بریگزٹ ڈیل سے جبرالٹر کے حوالے سے ہسپانوی
پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہت مضبوط ہوئی ہے۔ اتوار کے روز یورپی یونین کی جانب سے بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے بعد سانچیز نے کہا کہ اب سپین ایک ایسی پوزیشن میں آ گیا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل میڈرڈ کبھی اس پوزیشن میں نہیں تھا۔ واضح رہے کہ 1713 سے جبرالٹر کا علاقہ برطانیہ کے قبضے میں ہے، تاہم سپین برطانیہ کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔













