پیغامِ تبریک و تشکر
بلا شبہ خامنہ ای کوثر ہیں ۔۔۔۔
شہید امت کانفرنس سید علی خامنہ ای کے کوثر ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔🌹♥️♥️
ادارۂ روشنیِ کوثر کی جانب سے مینارِ پاکستان لاہور میں منعقدہ “شہیدِ اُمت کانفرنس” کے شاندار، منظم اور تاریخی انعقاد پر تحریکِ بیداریِ اُمت، متحدہ مجلسِ عمل، آئی ایس او، آئی او، آئی ڈی سی، علمائے کرام، معاون تنظیموں، رضاکاروں اور تمام شرکائے کانفرنس کو دلی مبارکباد پیش کرتےہیں۔ اور اس عظیم خدمت پر تہہ دل سے شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔تقریباً دو لاکھ افراد کی شرکت سے منعقد ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، شعور، بیداری اور اپنے قائدین سے والہانہ وابستگی کا بھرپور اظہار کیا۔ اجتماع کے بہترین انتظامات، مؤثر سکیورٹی، نظم و ضبط، شرکاء کے لیے سہولیات کی فراہمی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر میڈیا کوریج منتظمین کی شبانہ روز محنت، اخلاص اور بہترین منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہیں۔
ادارۂ روشنیِ کوثر اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پر حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام معاونین کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتا ہے، جن کی کاوشوں سے یہ عظیم اجتماع پُرامن، باوقار اور منظم انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچا۔
ہم بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام منتظمین، رضاکاروں اور شرکاء کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ملتِ اسلامیہ کو اتحاد، بصیرت، استقامت اور عزت و سربلندی کی نعمتوں سے مالامال رکھے۔
ادارۂ روشنیِ کوثر
چیر پرسن
سمانہ رباب

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

رپورٹ: سمانہ رباب

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے نمائندہ وفد کی خانۂ فرہنگ ایران پشاور اور ایرانی قونصل خانہ میں حاضری
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانسوز شہادت کی خبر نے عالمِ اسلام سمیت دنیا بھر کے بیدار ضمیر انسانوں کو گہرے صدمے اور رنج و الم سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کی رحلت ایک ایسی ہمہ جہت فکری، روحانی اور سیاسی شخصیت کے فقدان کا احساس دلاتی ہے جس نے اپنی بصیرت، استقامت اور نظریاتی پختگی کے ذریعے نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس المناک سانحے پر دنیا کے مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تعزیت، ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔
اسی سلسلے میں بروز جمعرات 12 مارچ 2026ء کو انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز پشاور، خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے تنظیم کی صدر محترمہ نصرت نسیم کی جانب سے ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کے لیے خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران پشاور اور ایرانی قونصل خانے پشاور کا دورہ کیا اور اپنے تاثرات تعزیتی رجسٹر میں قلم بند کیے۔
تعزیتی پروگرام کے پہلے مرحلے میں وفد نے خانۂ فرہنگ ایران پشاور کے ڈائریکٹر جنرل محترم آقائے حسین چاقمی سے ملاقات کی۔ وفد میں ادبیاتِ اطفال کی ممتاز قلمکار اور انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جنرل سیکریٹری سدرہ المنتہیٰ، قرطبہ یونیورسٹی کے شعبۂ تحقیق کی انچارج اور تنظیم کی نائب صدر محترمہ تریئن گل، اردو و پشتو ادب سے وابستہ افسانہ نگار محترمہ شاہین آمین صاحبہ اور تنظیم کی رکن، نیز اباسین آرٹس کونسل کے چنرل سیکرٹری جہانزیب ملک صاحب شامل تھے۔
وفد کے اراکین نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نابغۂ روزگار رہنما تھے جنہوں نے فکری بصیرت، روحانی گہرائی اور سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے مسلم دنیا میں بیداری، استقامت اور وحدت کا شعور پیدا کیا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت “واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً” کا حوالہ دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں امتِ مسلمہ کو باہمی اختلافات سے بالا تر ہو کر مشترکہ اقدار، اخوت اور اتحاد کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔
اس موقع پر آقائے حسین چاقمی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہید رہبر کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک گہری علمی و فکری بصیرت کے حامل رہنما تھے جنہیں علومِ انسانی، ادب اور عالمی سیاسیات پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔ شعر و ادب سے ان کی خصوصی وابستگی اور دنیا کے اہم مفکرین و مصنفین کی تصانیف کا وسیع مطالعہ ان کی شخصیت کو مزید نمایاں بناتا تھا۔
ملاقات کے اختتام پر شہید رہبر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور وفد کے اراکین نے تعزیتی رجسٹر میں اپنے تاثرات اور دعائیہ کلمات تحریر کیے۔
وفد کا دوسرا مرحلہ ایرانی قونصل خانہ پشاور کے دورے پر مشتمل تھا جہاں انہوں نے کونسلر جنرل آقائے علی بنفشہ خواہ سے ملاقات کی۔ وفد کے ارکان نے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کو پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ دکھ قرار دیا۔
اس موقع پر کونسلر جنرل نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے خلوص، ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات کو قابلِ قدر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط باہمی احترام اور اخوت کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بعض عالمی طاقتوں اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان واقعات نے عالمی سیاست کے کئی تلخ حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں مسلم دنیا کے درمیان اتحاد، بصیرت اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
اگرچہ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی صدر محترمہ نصرت نسیم علالت کے باعث وفد کے ہمراہ شریک نہ ہو سکیں، تاہم ان کا تحریری تعزیتی پیغام دونوں معزز میزبانوں کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے امت مسلمہ کے گراں قدر رہبر کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ان کا کہنا ہےکہ پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی دونوں اقوام کے درمیان محبت اور اتحاد کی مضبوط علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پوری امت کے لیے مشترکہ روحانی سرمایہ اور ورثہ ہیں۔ ان کی سیرت ایثار، عبادت، عدل اور انسان دوستی کی اعلیٰ مثال پیش کرتی ہے اور یہی اقدار آج کے دور میں مسلم دنیا کے اتحاد و استحکام کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ شہید امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اقبال شناس رہنما تھے جنہوں نے علامہ محمد اقبال کے افکارِ حریت اور فکری پیغام کو گہرائی سے سمجھا اور اسے عملی سطح پر فروغ دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ثقافتی، ادبی، لسانی اور مذہبی مشترکات دونوں اقوام کے درمیان دیرپا تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ملاقات کے دوران انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جنرل سیکریٹری سدرہ المنتہی صاحبہ نے خانۂ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل آقائے حسین چاقمی کو محترمہ نصرت نسیم کا وہ مضمون بطور تحفہ پیش کیا جو شہید امت سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت کے طور پر تحریر کیا گیا تھا اور ایک بین الاقوامی اخبار(عالمی اخبار )میں شائع ہو چکا ہے۔
اس موقع پر آقائے حسین چاقمی نے خیبر پختونخوا کی خواتین ادبی شخصیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے خصوصاً محترمہ نصرت نسیم کی ادبی اور فکری خدمات کو پاکستان کا قیمتی ادبی سرمایہ قرار دیا۔
تعزیتی ملاقاتوں کے اختتام پر ایران کی سلامتی، استحکام اور سربلندی کے لیے دعا کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم اور وسعت پذیر ہوں گے۔
یہ تعزیتی دورہ نہ صرف ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا مظہر تھا بلکہ اس نے پاکستان اور ایران کے درمیان ادبی، ثقافتی اور روحانی رشتوں کی مضبوطی کو بھی نمایاں کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY