آپ نےتومجھکو فروخت ہی کردِیا تھا:مولانا حسرت موہانی

0
996

آپ نے تو مجھ کو فروخت ہی کر دِیا تھا: مولاناحسرتؔ موہانی
ندیم ؔصدیقی

شوکت تھانوی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ریڈیو پروگرام میں ریکارڈنگ کے بعد مولانا حسرت موہانی کو جب فیس دِی گئی تو وہ برہم ہو گئے ۔ شوکت تھانوی ہی کے لفظوں میں یہ روداد پڑھیے:
’’۔۔۔ اسٹیشن ڈائریکٹر نے ہمت کی اور سَو روپے کا چیک پیش کیا تو مولانا سَو کا ہندسہ پڑھ کر بھڑک اُٹھے: سَو روپئے ؟ یہ کس بات کے ہیں ۔ میں اسی لئے تو آتا نہیں تھا کہ مجھ کو اسی قسم کے خدشے تھے ، لاکھ کہا گیا کہ یہ خصوصیت صرف آپ کے ساتھ نہیں ہے ریڈیو پر جو بھی آتا ہے اس کو معاوضہ ملتا ہے اور آپ کیلئے تو یہ معاوضہ بھی نہیں بلکہ نذرانہ ہے مگر وہ کسی طرح اس چیک کو چھونے کو بھی تیار نہ تھے بمشکل تمام اس بات پر راضی ہوئے کہ کانپور سے لکھنؤ تک( ریل کے) تیرہ آنے لکھنؤ سے کانپور تک تیرہ آنے ایک روپیہ دس آنے تو یہ ہوئے ،باقی رہا ( رکشہ یا تانگے کا)کرایہ لہٰذا دو روپے دیدیجئے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہر کوشش جب ناکام ہو گئی تو مجبوراً کنٹریکٹ کو آنریری کرنا پڑا۔ چیک کینسل کیا گیا اور دو روپے کسی نے اپنی جیب سے دیدیئے۔ مَیں ( شوکت تھانوی) ٹرین میں بٹھانے لکھنؤ اسٹیشن تک گیا اور جب تک گاڑی روانہ نہیں ہوئی مولانا یہی کہتے رہے کہ خدا نے مجھ کو بچایا ورنہ آپ نے تو مجھ کو فروخت ہی کر دِیا تھا۔‘‘۔۔۔
مولاناحسرت موہانی اپنی زندگی ہی میں مشہور نہیں ہوئے بلکہ منجانب قدرت انھیں مثالی احترام و وقار بھی نصیب رہا۔ وہ سیاسی لیڈر کے طور پر تو ممتاز تھے ہی مگر ایک شاعر کی حیثیت سے بھی اُن کی شہرت و عزت تھی، وہ کس درجے کے شاعر تھے ان کی شاعری کا کیا مقام ہے۔؟
ہم ان موضوعات پر گفتگو کرنے کے اہل نہیں مگر یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ قدرت یوں ہی کسی کو عزت و احترام نہیں دیتی۔ مولانا حسرتؔ کی زندگی ایک تاریخ ہے
برِ صغیر کے مسلمانوں میں اپنے وقت میں ایسے کئی گزرے ہیں جن میں مولانا حسرت ؔموہانی بہر لحاظ ممتاز ہیں، اور یہ امتیاز صرف اُن کے علم کےسبب نہیں بلکہ انکے مخلصانہ کردار کے نتیجے میں ملا تھا۔ ادب کے ثقہ حضرات کچھ کہیں مگر زمانے کو اُن کا
’’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا ۔۔۔‘‘
یاد ہے اور یاد رہے گا اور یقین ہے کہ یہ آنسو ایسے نہیں کہ وقت کا تغیر انھیں خشک کر سکے۔ برسوں قبل کسی بزرگ نے مولانا ہی کے نام سے یہ شعر سنایا تھا، آپ بھی پڑھیے: اشکوں کو مِرے لے کر دامن پَہ ذرا پرکھو
جم جائے تو خوں سمجھو، بہہ جائے تو پانی ہے
دورِ گزشتہ میں ایسے ہی لوگ ہوتے تھے، اب سوچتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ کارخانۂ قدرت میں کیا اب وہ سانچے نہیں رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہَوَس اور دُنیا پرستی نے ہمیں ہی نہیں زندگی کے پورے نظام کوتہس نہس کر رکھا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بھئی یہ تو انقلاباتِ زمانہ ہیں اور ہمیشہ تبدیلی اور تغیر ہوتا رہا ہے، بیشک تبدیلی تو نظامِ کائنات کا جزو ِ خاص ہے اور یہ تغیر اور انقلابات
تو ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے مگر ہم جو فی زمانہ دیکھ رہے ہیں وہ تبدیلی، تغیر یا انقلابات ِ زمانہ نہیں یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی کمرے کو بہت سلیقے سے صاحب نے سجایا سنوارا اور کسی ضرورت سے باہر چلے گئے جب لوٹے تو دیکھا کہ اُن کا وہ سجانا ، سنوارنا سب غارت کر دیا گیا جو چیز نیچے تھی وہ اوپر نظر آرہی ہے، کرسی یہاں تھی، وہ وہاں ،اور ٹیڑھی پڑی ہوئی ہے۔ قلم جو قلمدان میں رکھ چھوڑا تھا ، اس کی نِب زمین پر ٹوٹی پڑی ہے، دوات اُلٹی اور اُس کی روشنائی سے میز پوش سیاہ ہے،لیٹر پیڈ کےاوراق بھی پھٹے اور بکھرے ہوئے ہیں۔
جناب ِ والا کو تشویش ہوئی کہ ایسا کیسے ہو گیا؟ تو پتہ چلا کہ
’’ وہ فلاں بی بی کے ساتھ اُس کا لاڈلا آیا تھا ہم لوگ آنگن میں اس کی ماں سے باتوں میں لگے ہوئے تھے اس کی طرف دھیان نہیں گیا، یہ کارستانیاں اُسی کی ہوںگی۔‘‘ ۔۔۔
جو ہونا تھا سو ہوگیا ۔۔۔ جناب ِ والا اب کیا کر سکتے تھے، سوائے۔۔۔ ہائے اور اُف۔۔۔ اُن کے منہ سے کچھ نہ نکلا۔
تو بھائی! یہ دَور ایسا ہی لگتا ہے کہ بزرگ سجا سنوار کے رخصت ہوئے مگر کسی شرارتی بچے نے اتھل پتھل مچا دی ، بلکہ مچا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ٹُک ٹُک دیدم ،دَم نہ کشیدم کے مصداق یعنی ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی ہیں اور دَم سادھے بیٹھے ہیں کہ اب کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔
ایک واقعہ یہ بھی گو ش گزار ہو جائے : ایک دِن دادا جان نے پوتے سے اس کی کسی حرکت پر صرف یہ کہہ دِیا کہ
۔۔۔ پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔؟؟
تو پڑھی لکھی بہو نے فوراً کہا :
’’ بابا! آپ بچے کو ایسا مت کہیں اسکی نفسیات خراب ہوجائے گی۔‘‘
بچےکی نفسیات خراب ہوئی یا نہیں مگردادا کے جیون کی کی تمام تپسیا ضرور بھنگ ہوکر رہ گئی ۔ دادا جان گم صم ہیں ، شاید سوچ رہے ہیں کہ اپنے بچوں کی تربیت میں ہم سے کیا کمی رہ گئی کہ یہ سننے کی نوبت آگئی۔!!
زمانے کی اس اتھل پتھل نے کہاں کہاں اورکیا کیا تہس نہس کیا ہے، بیان کیا جائے تو ایک لمبی روداد بن جائیگی۔ ۔۔
یہ واقعہ بھی مذکور ہوجائے کہ بھیونڈی کا مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچا، مہتمم مشاعرہ ایڈوکیٹ یٰسین مومن اپنے بریف کیس سے شعرا کو نذرا نہ ٔ ملفوف دے رہے تھے۔ ایک مشہور اور مشاعرے کے کامیاب ترین حضرت انھیں گوشے میں لے گئے اورکہنے لگے کہ وکیل صاحب میرے نذرانے میں پانچ سو روپے بڑھا دِیجیے۔ وکیل صاحب نے کہا:
کیا لفانے میں پانچ سَوروپے کم ہیں؟
انہیں جواب ملا:
نہیں بھئی میں تو پانچ سو روپے مزید چاہتا ہوں۔
ہم کچھ دورکھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ شریف النفس وکیل صاحب نے ہماری طرف گھور کے دیکھا(تو محسوس ہوا کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ کم ظرف کہیں کا) اور پھر کامیاب ترین شاعر کو،نظریں جھکا کر ان کی مطلوبہ رقم دے دِلاکر بات ختم کی۔ اسی طرح کوئی پچیس تیس برس اُدھر،چندر پور آرڈیننس فیکٹری کے مشاعرےکے بعد کا واقعہ بھی ذہن سے محو نہیں ہوا، اکثر شعرا کو ہم نے مدعو کیا تھا مگر لکھنؤ کے ایک شاعر جو مہتمم مشاعرہ کے ذریعے مدعو ہوئے تھے۔ ان کو کہیں سے سُن گُن ہوئی کہ معراج فیض آبادی کو مجھ سےپانچ سَو روپے زیادہ ملے ہیں۔ وہ مہتممِ مشاعرہ سے لڑ گئے کہ
’’مَیں معراج سے سینئرہوں، مجھے اس سے کم نذرانہ قبول نہیں۔‘‘۔۔۔۔
مہتمم مشاعرہ نے کہا: جناب! جو نذرانہ آپ کو دعوت نامے میں لکھا گیا تھا ہم نے آپ کو اس سے دو روپے بھی کم نہیں دِیے، آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔۔۔!!
مختصر یہ کہ سینئر حضرتِ ’والا‘ نے زائد سَو روپے لے کر مہتممِ مشاعرہ کی گلو خلاصی کی۔
حضرت ِ جگر مراد آبادی کے بارے میں سنا ہے اور کیفؔ بھوپالی کو تو ہم نےخود دیکھا ہے کہ وہ اپنے نذرانے کی پوری رقم لے کر کبھی گھر نہیں پہنچے ،کوئی ضرورت مند نظر آگیا اور اُن کی رحم دِلی نےجو کچھ پاس تھا وہیں اس کے ہاتھ میں رکھ دِیا اور بڑھ گئے۔ اب اس زمانے کے ہم جیسے تجارِ ادب ہیں کہ جو مذکورہ بزرگوں کے مقابل کسی طور بھی، کسی لائق نہیں وہ اب ہزار ہا ہزار نہیں بلکہ لاکھ لاکھ روپے طلب کر رہے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ رقم بصد خوشی مشاعرے کے بعد نہیں بلکہ قبل مشاعرہ ہی ان کے بینک اکاونٹ میں جمع کر دی جاتی ہے۔ جتنی رقم ان لوگوں کو ملتی ہے ، ہمارے اکابر شعرا نے وہ خواب میں بھی نہ دیکھی ہوگی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جیسی عزت و توقیر ہی نہیں ان کے کلام کو جو زندگی عطا ہوئی وہ آج کےبیچارے شہرت زدہ اور زر گزیدوں کو کیا
ملے گی۔
!!
حال ہی میں پاکستان کے ایک مشاعرے کے تعلق سے کچھ پڑھا تو اپنے قاری کو بھی اس
میں شریک کر نے کو جی چاہا۔ رؤف کلاسرہ کے کالم کا یہ اقتباس دیکھیں:۔۔۔
’’
عمران خان کے نامزد صدرِ (پاکستان) عارف علوی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایوانِ صدر میں مشاعرہ کرایا جس میں واہ واہ کے ڈونگرے برسے اور کل خرچہ 36 لاکھ روپے آیا۔ ذرا ذہن میں رکھیں کہ ایک ہی رات میں 36 لاکھ روپیہ ایک مشاعرے پر خرچ کر دِیا گیا۔ کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی صدر آرٹ، ادب اور شاعری کا دِل دادہ نکلا ہے تو اس پر ہمیں داد کے ڈونگڑے توبرسانے ہی چاہئیں۔‘‘
مذکورہ منظر نامے سے یہ بات تو واضح ہوئی کہ اُردو ترقی کر رہی ہے یا نہیں مگر اُردو والوں کے ایک حلقے کے لوگ ترقی کے پروں پر ضرور اُڑ رہے ہیں۔۔۔ اورہم سوچ رہے ہیں کہ ہماری نئی نسل مولاناحسرت موہانی کے اس جملے ’’ آپ نے تو مجھ کو فروخت ہی کر دِیا تھا۔‘‘ کو ۔۔ اگر ۔۔ پڑھے تو یہی کہے گی: ۔۔۔۔’’ ہونہہ، بیچارے مولانا حسرتؔ۔۔۔!! ‘‘٭

روزنامہ’ممبئی اُردو نیوز‘ ممبئی

SHARE

LEAVE A REPLY