“یوں لگتا ہے تم آئے ہو “
جب بھیگے بھیگے لہجے میں
سب بھنورے گیت سناتے ہیں
جب من آنگن کے پیڑوں پر
خوش رو پنچھی کچھ گاتے ہیں
جب ڈالی ڈالی بگیا میں
گل اپنی مہک لٹاتے ہیں
اور سندر روپ سجاتے ہیں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
خوشبو جب گھلے ہواؤں میں
سرمستی مست فضاؤں میں
شوخی ہو حشر اداؤں میں
اور تھرکن سی ہو پاؤں میں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
جب دل کا موسم اچھا ہو
جب من آنگن بھی مہکا ہو
جب بوٹا بوٹا نکھرا ہو
اور چاند فلک پر پورا ہو
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
میں بیٹھے بیٹھے ھنستی ہوں
اور ھنستے ھنستے روتی ہوں
میں اپنی بھیگی آنکھوں میں
جب وصل کے خواب پروتی ہوں
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
یوں لگتا ہے تم آئے ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی
تیرے کمرے کے کونے میں
رکّھی ہوئی الماری کے
اک خانے میں
خاموشی سے بیٹھی رہتی
کچھ سنتی
اور نہ کچھ کہتی
دُور سے تجھ کو تکتی رہتی
کاش کہ میں اک چڑیا ہوتی
تیرے نقش کفِ پا سے میں
تنکے چُنتی
تیرے گھر آنگن کے پیڑ پہ
تنکوں سے اک گھونسلا بُنتی
صبح سویرے حمد و ثنا کے
میٹھے میٹھے گیت سُناتی
تجھے جگاتی
اپنے پروں میں پانی بھر کر
تیرے بکھرے بال بِھگوتی
شانہ کرتی / سَر سہلاتی
کاش کہ میں اک تتلی ہوتی
کیاری کیاری گھومتی رہتی
نرگس کے ہر پھول کو
تیری آنکھ سمجھتی
جھومتی رہتی
سرخ گلابوں کی پتّیوں کو
تیرے رسیلے ہونٹ سمجھتی
چومتی رہتی
اپنے پروں کے سارے رنگ
میں تیرے گالوں میں بھر جاتی
جیون تجھ پر وار کے ساجن !
تیرے قدموں میں مر جاتی
( ســعـدیـہ کوکبؔ قــریشـی )
ایبٹ آباد پاکستان













