پاکستان۔۔۔
کتنا خوبصورت احساس ہے۔۔۔اس ایک نام میں۔۔۔
جیسے انسان کے وجود کو اسی کی مٹی سے گوندھا گیا ہو۔۔۔اور اسکی سرزمین سے جڑی ہوں دل اور روح کے سارے احساس۔۔۔
جب کبھی ترانہ سنائی دیتا ہے۔۔۔بچپن کے وہ دن یاد آجاتے ہیں جب ہم کتنی چاہت سے کتنی محبت سے کتنے یقین کے احساس سے اسکو سنا کرتے تھے۔۔۔
پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد۔۔
جیسے روح و قلب کو اپنی مٹھی میں کر لیتا ہو کوئی۔۔۔
جیسے لگتا ہو یہ میرا وطن یہ میری مٹی۔۔۔یہ وہ مٹی۔۔۔
جسکی گود میں آنکھیں کھلیں اور جسکے سینے پر سر رکھے ہنستے ہنستے ہم نے بجپن اور جوانی کے ایام طے کیے۔۔۔
یاد کروں تو ایک ایک پل جیسے محبتوں ۔۔۔کی راہ ہو جیسے۔۔۔
میرے وطن سے جڑی ہر چیز جیسے سکون اطمینان اور خوشی کا باعث ہو۔۔۔
میرا وطن کتنا پیارا ہے اسکی تعریف ممکن ہی نہیں۔۔۔۔
مگر۔۔۔
آج جب کوئی میرے گھر۔۔۔
میری زمین۔۔۔
میری چھاوں۔
۔میری ماں سی معتبر دھرتی کو برے ناموں۔۔۔
اور القابات سے پکارتا ہے۔۔۔تو روح اور دل پر جیسے کرچیاں چبھنے لگتی ہیں۔۔۔
جب کوئ fuckistan
تو کوئی الباکستان۔۔
بلائے تو خیال یہ آتا ہے کہ پوچھوں اس سے کہ ہوتے تم کون ہو میرے گھر کو ایسا کہنے والے۔۔۔؟
کیا درد سہا تم نے کیا قربانی دی اسکی خاطر۔۔۔؟
کیا کسم کیا تم نے اسکی سر بلندی کے لیے۔ ۔؟
اسکی بھلائی کے لیے۔۔۔؟
کون ہو تم اس کو ایسا کہنے والے۔۔۔؟
کیا حق ہے تمہیں کہ تم اسکو توڑو پھوڑو۔۔۔؟
پھر سنتے ہیں کہ۔۔۔بھوک ہے افلاس ہے۔۔۔
غربت ہے ۔۔۔
بیماری ہے۔۔۔
نہیں جاب کوئی ملتی یہاں کیسی یہ قسمت ہماری ہے۔۔۔
پھر یہ سنتے ہیں کہ نا پانی ہے نہ بجلی ہے۔۔۔کیسی یہ حکومت ہماری ہے۔۔۔
بات تو سچ ھے مگر کریں بھی تو کیا کریں؟
ہر طرف کرپشن ہے۔۔۔
ہر طرف اجارہ داری ہے۔۔۔
زندگی ہر انسان کی اس گھر میں تباہ ہی ہے۔۔۔۔
مگر ۔۔۔وطن تو ماں کی طرح ہوتا ہے ناں۔۔۔
اگر ماں بچے کی صحیح سے دیکھ بھال نہیں کر پائے تو کیا ماں کو برے نام دیے جاتے ہیں؟
گالی گلوچ کی جاتی ہے؟
یا کہ
طعنہ زنی کی جاتی ہے۔۔۔؟
کبھی غور کریں تو معلوم ہو گا کہ۔۔۔
پاکستان۔۔۔
ایک تحفہ ہے۔۔۔پاک زمین ہے۔۔۔
وہ پاک مٹی جس میں تین تین نسلوں کا خون شامل ہے یہاں تک کہ موجودہ نسل کا بھی۔۔۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہماری خاطر۔۔۔
اپنے بچے۔۔۔
اپنے بزرگ۔۔۔
اپنے جوان ۔۔۔
اپنی عورتیں۔۔۔
قربان کیں۔۔۔کیا وہ لوگ جانتے تھے ہمیں جو ہماری خاطر تین تین نسلوں کی قربانی دی۔۔۔
نہ صرف جانوں کی بلکہ۔۔۔
اپنے مال وزر کی۔۔۔
اپنے سکون اطمننان کہ۔۔۔
اپنا سب لٹا دیا جنہوں نے۔۔۔کیا وہ فالتو لوگ تھے؟
کیا انکی جانوں۔۔۔مال۔۔۔اولاد۔۔۔گھر بار کی کوئی اہمییت نہیں تھی۔۔۔۔؟
یا کہ صرف ہم اہم ہیں۔۔۔؟
ہمارے گھر بار بچے۔۔۔
اہم ہیں انکا خون اہم ہے۔۔۔؟
کہ آج ہم اپنی ماں۔۔۔
اپنی چھاوں۔۔۔
اپنی زمین کو گالی دینے سے دریغاں نہں ہوتے۔۔۔کیوں آخر۔۔۔کیا حق ہے ہمیں۔۔۔؟
حق تو اسکو ہوتا ہے۔۔۔۔
جسکی زمین ہوتی ہے۔۔۔
جسکا گھر ہوتا ہے۔۔۔
جسکی ماں ہوتی ہے۔۔۔
جسکو کوئی اپنا مانتا ہے۔۔۔
جب ہم کسی چیز کو اپنا سمجھتے ہیں ناں۔۔۔
تو سب سے پہلے ادکی عزت اور تکریم کی جاتی ہے۔۔۔
جس سے محبت ہوتی ہے۔۔۔
اسکو انسان خود ہی بہترین سا سجا بنا لیتا ہے جسقدر بھی ممکن ہو۔۔۔اسکو اپنا لیتا ہے۔۔۔
اس سے شکوہ کناں نہیں بلکہ اسکی خدمت کا خواستگار ہوتا ہے۔۔۔
مگر جسکو محبت ہو۔۔۔
جو مالک ہو۔۔۔
جو کے ہر خیر وخوبی سمیت اسکو اپنا سمجھتا ہے۔۔۔
چاہتا ہے۔۔۔
محبت کرتا ہے۔۔۔
وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ یہ میرا گھر۔۔۔
یہ میرا وطن ہے۔۔۔
یہ میری عزت یہ میرا باطن ہے۔۔۔
اسکی ترقی ۔۔
خوشحالی نیک نامی میں اضافہ
میرا بھی فرض ہے۔۔۔
اسکے گلی کوچے در دیوار زمین آسمان سب میرے ہیں۔۔۔
جب یہ سب میرے ہیں۔۔۔
تو میں ہوں ادکی عزت و تکریم کا محافظ ہوں۔۔۔
اسکے مان اور احترام کی حفاظت میری زمہ داری ہے۔۔۔
تو کیا ہم واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان۔۔۔
یہ ہماری ماں۔۔۔یہ ہمارا گھر ہے؟
کیا ہم واقعی ہی اسکی عزت اور تکریم کا باعث ہیں؟
کیا اسکی چوٹ ہمیں درد دیتی ہے؟
کیا اسکی روح پر پڑنے والی کاری ضربیں ہمیں زخم زخم کرتی ہیں۔۔۔؟
کیا ہم بس اس سے لینے کے لیے ہی بنے ہیں یا کہ ۔۔۔
اسکی سجاوٹ۔۔۔
اسکی حفاظت۔۔۔
اسکے سارے دکھ اور درد۔۔۔
اس کے متعلق ہونیوالے فیصلوں میں ہمارا بھی کوئی مثبت کردار ہے۔۔۔؟
کیا سیا ستدان کرپٹ ہیں کہہ کر۔۔۔اور ہر طرف کرپشن ہے ۔۔۔کیاکیا جائے۔۔۔کیا حل ہو۔۔۔۔کہہ کر ہم اپنی زمہ داری سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔۔۔کیا ایساکرنا درست ہوگا؟؟؟
کیا یہی ہوتی ہے محبت ملک سے۔۔۔گھر سے۔۔۔ وطن سے۔۔۔؟
محبت تو وہ جزبہ ہے جو کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔۔۔
اپنے محبوب کی بھلائی۔۔۔
اسکی ترقی۔۔۔
اسکی عزت وتکریم میں اضافے کے لیے ہر پل جو کوشاں رکھے۔۔۔
کسی بدلے۔۔۔
کسی شکوے۔۔
کسی تعریف کی طلب و فکر کے بنا۔۔۔۔
بے سبب۔۔
بے لوث۔۔۔
بے انتہا۔۔۔۔
محبت ہو میری میرے گھر سے تو دیکھو ہوتا ہے کیا۔۔۔
پھر تم دیکھ لوگے کسطرح سے۔۔۔
مصیبت ۔۔۔پریشانی۔۔۔ازیت اور ناکامی۔۔۔
کو ہوتی ہے مات۔۔۔
ہوتی ہے شکست۔۔۔
اور کسطرح۔۔۔محبت بدل دیتی ہے۔۔۔انداز فکر۔۔۔
اور کسطرح آگہی دکھاتی ہے رستے روشن۔۔۔
اور کسطرح بنتا ہے گھر ایک خوبصورت نگر۔۔۔
جب گھر کا ہر مکین کوشاں ہو جائے۔۔۔
اسکی ترقی۔۔۔
اسکی کامیابی۔۔۔
کرے بے لوث اسکی فکر۔۔۔
تو دیکھنا تم کیسے بدل جائیگی ہر انسان کی نگاہ۔۔۔
اسکا عمل اسکی روش اسکی نظر۔۔۔
تب یہ پاکستان میرا ہو گا
تمہارا ہو گا
اس پر سارے کا سارا حق۔۔
ہمارا ہو گا۔۔۔
ہم ہونگے جو بدل دینگے دن رات اسکے۔۔۔
ہم ہونگے جو بدل دینگے ماہ و سال اسکے۔۔۔
یہ وہ گھر ہو گا جہاں روشنی ہو گی۔۔۔
علم سے محبت۔۔۔جینے کی آگہی ہوگی۔۔۔۔
پھر نہ کوئی توڑ پائیگا ہمیں رنگ۔۔نسل اور زات پات پر۔۔۔
کوئی نہ لڑوا سکے گا ہمیں مزہب کی بنیاد پر۔۔۔
پھر یہ ملک ہمارا ہو گا۔۔۔
امن و سکون کا گہوارہ ہوگا۔۔۔
خوشیاں ہونگی۔۔۔ہر کوئی ایکدوسرے کا سہارا ہوگا۔۔۔
یہ جب ہو گا جب۔۔۔
پاکستان نہ ہی میرا نہ تمہارا ہوگا۔۔۔
بلکہ اسکے سب باسی ہوں گے۔۔۔یہ ملک ہمارا ہوگا۔۔۔
اسکی جیت ہماری ہوگی۔۔۔اسکی ہار کا رنج ہمارا ہو گا۔۔۔
ہم ہیں پاکستان۔۔۔یہ ہے اپنا گھر۔۔۔
یہ گھر ہے پاک زمین۔۔۔
اسکا ہے ہم پہ قرض۔۔۔
آج قربانی ہماری ہوگی۔۔۔
اسکا ہر اک قرض ہمارا ہو گا۔۔۔
یہ وطن ہے اپنا گھر۔۔۔
کرو اسکی ایسے فکر۔۔
جیسے سورج کی روشنی سے پھیل جائے روشن سحر۔!!!
محبت اگر ہو تو پھر
ڈرتے نہیں کبھی۔۔۔
ڈٹ جاتے ہیں انسان اپنے گھر کی خاطر۔۔۔
بالکل ایسے ہی جیسے طوفان میں گھر ٹوٹ رہا ہو اور انسان اسکو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔۔۔
ایسے ہی اپنا ملک دشمنوں میں گھرا ہے اور باسی ہیں اسکے جھالت میں ڈوبے ہوئے۔۔۔
انتشار کو تم حکمت و دانا ئئ کی مات دو ۔۔۔
گر پیار تم کرتے ہو تو ہاتھوں میں ہا تھ دو۔۔۔
بھول جاو ساری رنجشیں دشمنی کی ہر دلیل۔۔۔
ڈٹ جاو تم ایسے کہ بس دشمن رہے زلیل۔۔۔
اپنے گھر اپنے ملک اپنی دھرتی کو سجا دو۔۔۔
محبتوں کو تم فروغ دو۔۔۔
علم یہاں ہو۔۔۔
کچھ ایسا سب کرو کہ دشمن کو ہو خبر۔۔۔
وہ کر نہیں سکتا کبھی کچھ کہ تم نگہباں ہو۔۔۔۔۔!!!!
فائزہ عباس












