دوسروں کو دیکھ کر اپنے پیسے کو آگ نہیں لگاتے،نباہت علی

0
641

بچت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے میں کچھ چیزیں ون پائونڈ شاپ سے خریدتی ہوں ، کل کافی عرصےکے بعد یہاں خریداری  کرتے ہوئے مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ بہت سی چیزوں پر دو پائونڈ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔۔ مجھے خیال آیا کہ ہاں جب ہر بڑے شاپنگ مال پر چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں تو ون پائونڈ کیسے ٹو پائونڈ نہیں ہو سکتا۔۔۔لیکن اتنے سال دیار غیر میں رہ کر بھی ہر جیز کا مقابلہ اپنےپیارے ملک سے کرنے کی عادت نہیں بدل سکی

سو اس وقت بھی زہن اسی گتھی کو سلجھانے میں لگا ہوا تھا کہ وطن عزیز میں ہر وقت مہنگائی کو لیکر واویلا مچا رہتا ہے جبکہ دنیا کے اس سب سے مہنگے شہر میں پٹرول سمیت اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور کوئی شور نہیں مچاتا، کہیں ٹی وی شوز میں روز حکومت کو اس وجہ سے گرانے کی باتیں نہیں ہوتیں شاید اس لئے کہ یہا ں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوتی۔۔۔۔چور بازاری نہیں ہوتی۔۔۔تاجر اور صارف کے درمیان ایک ٹرسٹ کا رشتہ ہے۔۔۔۔یا شاید لوگ یہاں اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلاتے ہیں۔۔ دوسروں کو دیکھ کر اپنے پیسے کو آگ نہیں لگاتے اور سب سے بڑی بات کہ آنے والے وقت کے لئے اپنے آپ کو پہلے سے تیار کرتے ہیں سوچ کے اس بوجھ کو اٹھائے میں شاپ سے باہر آگئی ۔۔۔

نباہت علی

SHARE

LEAVE A REPLY