ہم اکثر دوسروں کے بارے میں کتنے غلط اندا زے لگاتے ہیں۔نباہت علی

0
873

آج پھر کھانا اندازے سے زیادہ پک گیا اور مجھے یہ سوچ کر پریشانی ہو رہی تھی کہ یا تو یہ سب کھانا فوڈ بن میں جائے گا یا پھر فریزر میں رکھ کر کئ دن تک مجھے خود ہی کھانا پڑے گا دونوں صورتیں میرے لئے زیادہ پسندیدہ نہیں تھیں اور میں شدت سے ماضی میں کھوئ ہوئ تھی جب کھانا جان بوجھ کر زیادہ پکانا پڑتا تھا تا کہ اگر کوئی اچانک آجائے یا کسی دوست کو پتہ چل جائے کہ اسکی پسندیدہ چیز بنی ہے تو شیئر کی جا سکے۔۔

یہ سب سوچتے سوچتے میں نے کھانا پیک کرنا شروع کیا

اور اگلے لمحے میں اپنے ہمسائی کے دروازے پر تھی دل سوچ رہا تھا کہ کہیں بوڑھی گوری پولیس ہی کو نہ بلا لے کہ میں اس کو تنگ کر رہی ہوں پر پھر اپنی نیت پر بھروسہ کیا اور دروازہ کھلتے ہی ایک زور دار مسکراہٹ کے ساتھ کہا کیا میں تمہارے ساتھ اپنا کھانا شیئر کر سکتی ہوں اس کے چہرے کی رونق دیدنی تھی بولی ..مائی وش کم ٹرو..اس تک ہمارے گرم مصالحے کی خوشبو پہنچ چکی تھی میں واپس آتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔ہم اکثر دوسروں کے بارے میں کتنے غلط اندا زے لگاتے ہیں ۔۔۔۔بات صرف نیت درست کر کے قدم بڑھانے کی ہوتی ہے۔

نباہت علی

SHARE

LEAVE A REPLY