آج پھر کھانا اندازے سے زیادہ پک گیا اور مجھے یہ سوچ کر پریشانی ہو رہی تھی کہ یا تو یہ سب کھانا فوڈ بن میں جائے گا یا پھر فریزر میں رکھ کر کئ دن تک مجھے خود ہی کھانا پڑے گا دونوں صورتیں میرے لئے زیادہ پسندیدہ نہیں تھیں اور میں شدت سے ماضی میں کھوئ ہوئ تھی جب کھانا جان بوجھ کر زیادہ پکانا پڑتا تھا تا کہ اگر کوئی اچانک آجائے یا کسی دوست کو پتہ چل جائے کہ اسکی پسندیدہ چیز بنی ہے تو شیئر کی جا سکے۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے میں نے کھانا پیک کرنا شروع کیا
اور اگلے لمحے میں اپنے ہمسائی کے دروازے پر تھی دل سوچ رہا تھا کہ کہیں بوڑھی گوری پولیس ہی کو نہ بلا لے کہ میں اس کو تنگ کر رہی ہوں پر پھر اپنی نیت پر بھروسہ کیا اور دروازہ کھلتے ہی ایک زور دار مسکراہٹ کے ساتھ کہا کیا میں تمہارے ساتھ اپنا کھانا شیئر کر سکتی ہوں اس کے چہرے کی رونق دیدنی تھی بولی ..مائی وش کم ٹرو..اس تک ہمارے گرم مصالحے کی خوشبو پہنچ چکی تھی میں واپس آتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔ہم اکثر دوسروں کے بارے میں کتنے غلط اندا زے لگاتے ہیں ۔۔۔۔بات صرف نیت درست کر کے قدم بڑھانے کی ہوتی ہے۔
نباہت علی













