ہم نے قیاس زیست کا ، اُس کے خیـال پر کِیا
اور کِیا جو رقص تو ، جشنِ وصـــــال پر کیا

وصل کی رَو بہت تھی تیز ، کرتا رہا کوئی گریز
ہم نے بھی بس مکالـمہ ، ایکـــــ سـوال پر کیا

عشق تھا اِس قدر وقیع ‘کر لیا حسن کو مطیع
اُس نے غـرور تو بہت ، اپنے جمال پر کیا

مثلِ نشاطِ ہر نفَس، تھا جو نصیب رنگ رس
ہم نے گزارہ پھر اُسی سَـطوتِ حــال پر کیا

دُور تھا اُس کی ذات سے، دور تھا انبساط سے
اس نے مگـر بہت ملال ، میرے ملال پر کیا

چاہا تھا جس کو بے پناہ ، ہو نہ سکا مگر نباہ
ہم نے وفا کا تجــرِبہ ، اس کی مثــال پر کیا

آئے خزاں کے دن کڑے، زاغ و زغن اُمنڈ پڑے
ہم نے ٹھکانا کیا ظفرؔ! شــاخِ نہـال پر کیا
٭صابر ظفــر

SHARE

LEAVE A REPLY