ڈالرسے اہم اولاد ہے۔ ثنا ظہیر‎

0
713

ڈالر گراٶ ملکی معاشیت بچاٶ آج میں جہاں پر سب سے ایک بات کہناچاہوں گی پاکستان کی پوری قوم کوڈالرگرنے سے پٹرول سستا کرو ڈالرگرانے سے مہنگاٸ ختم ہوجاٸے ملکی حالات میں بہتری آٸےگی بہتری سے انسانی دماغ پریشانی سے نکلے گے اگر انسانی دماغ فریش ہوگٸے تو کیا ہوجاٸےگا اگر سب چیزیں سستی ہوگی بھی گی تو جن کیلٸے اتنی بھاگ ڈور کر رہے ہواس وقت تک تمہارے بچے نہ رہے تو کیافاٸدھ ہوگا سستاٸی کا اتنی محنت کا جب تک تم اپنی اصلی دولت اپنے بچوں کیلٸے بہترین تحفظ نہیں حکومت سے مانگ سکوں گے سب تبدیلیاں بیکار ہے ہر کوٸ جنگ اپنی نسل کی بقإکیلٸےلڑتاہے ہم واحد قوم پاکستانی قوم ہے جو ہر جنگ صرف وقتی فاٸدےکیلٸے لڑتے جارہے اورہماری سب سےقمیتی دولت ہمارے اثاثے ہمارے جگر گوشے ہوس زادوں کی ہوس کا شکار ہوکر اپنی تواناٸ اپنی رعناٸ کھورہے ہے کوٸ زینب کوڑے سے مل رہی ہے کوٸ پانی کی ٹینکی ہے سے مل رہی ہےکوٸ حمزھ گنے کے کھیت سے مل رہاہے کوٸ ندی کوٸ گندے نالے سے مل رہا ہے ہوش کے نخن لوپورے ملک کی عوام جس اولاد کیلٸےاتنی جہدوجہد کر رہے ہو پہلے اس کیلٸے کوٸ حفاظتی تدبیر تو کرلو تمہارےمہنگاٸ اور ڈالر پٹرول کی قمیتیں گراتے گراتےتمہاری اولاد بے مول ہوکر سب چیزوں سے سستی ہوکر گندے ندی نالوں میں گر رہی ہے کہیں پر تمہارے پسینوں سے فیکٹریاں بن رہی ہے توکہیں پر تمہاری اولادوں کے خون سے سڑکیں اور ندی نالے بھر رہے ہے بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہے

اخبارات ٹی وی چینل بھرتے جارہے بچے ملازمین جلاٸےجارہےاگر والدین برقت قدم نہیں اٹھاٸےگے تو کون اٹھاٸے گاقدم جیسے پٹرول بیلنس مہنگاٸ ڈالر کیلٸے متحد ہوجاتے ہو ایسے ہی پورے ملک کے بچوں کیلٸے اکھٹےہوکر تحفظ مانگوں ظالموں کو سزادلاٶ عبرت کانشان بناٶ تاکہ اس ملک کے بچے ندی نالوں کے بجاٸے عزت اور تحفظ کے ساتھ مر اور جی سکےیہ سب جنگ ہماری اولادکیلٸے ہی تو ہے بقإ نسل کے تحفظ کیلٸے ہی تو سب کیاجارہے ہے ہم سبھی یہ جنگ۔ اک اور جنگ سہی اپنی اولاد کے بہترین تحفظ کیلٸے ان کی آزادی کیلۓان کے اندر بسے ہوٸے خوف کو نکالنے کیلٸے اک قدم قاٸد نے اٹھایاتھاہم سب کو آزادی دلانے کیلٸے ہم آزاد ہوگٸے بہت ساری قربانیوں کے بعد چند پل اچھے گزرے گٸے تھے ۔اب ہماری اولاد پھر انہی زنجیروں میں گھر کی چار دیواری میں قید ہورہی ہے صرف کچھ خباثت بھرے غلیظ اور بیمارذہنوں کی وجہ سےجن کوختم کرنے کیلٸے۔ اک والدین نے نہیں بلکے پورےملک کے والدین نے مل کر یہ اپنے بچوں کی آزادی کیلٸے تحفظ کیلٸےمضبوط جنگ لڑنی ہے اور اپنے بچوں کو آزاد فضاٶں میں سکون کی اک سحر نوید دینی ایساتبھی ہی ممکن جب تم سبھی متحد ہوکر سڑکوں پرنکلوں گے اور سانپوں کا سرسرعام کچلوں گے پھتروں سے ان کے چیتھڑے اڑادو گے اک عبرت ناک سزا دیکرظالم کیلٸے دنیامیں عبرت کی بہترین مثال قاٸم کردوں گے تبھی ہمارے بچوں کیلٸےآزاد تحفظ ممکن ہوسکے گا ورنہ نہیں جب تک والدین عزت کیلٸے اپنی ہی اولاد پر چپ کے پہرے بیٹھانے کے بجاٸےاس کی آوازنہیں بنے گے تب تک بچوں کی آزادی ممکن نہیں اور ہماری بقٕانسل کی کوٸ ضمانت نہیں ڈالر گرے تیل سستا ہوپٹرول سستا ہو ہر آساٸش ہم اگر صرف اولاد کیلٸے چاہتے تو پھر یہ جنگ یہ قدم بھی ہمیں اپنی اولاد کیلٸے اٹھانا ہے اگر اب چیز قمیتی ہے تو سب سے سستی ہماری اولاد اور ہماری عزتیں ہورہی ہے جوبےمول ہر گلی ہر کوچے میں نیلام ہورہی ہے اب ہم سب کواک آواز بننا ہوگا ملازمین بچوں سے لیکر ہر عام وخاص بچے کیلٸے نکلنا ہوگا ہمارے بچے ہمارے باغیچے ہے ہمارے آنگنوں کے پھول ہے اگر ہم مالی ہی اپنے باغ اپنے پھولوں کی نگہداشت سے غفلت برتے گے تو کون ہمارے پھولوں کو مرجھانے سے ٹوٹنے سے بچاٸے گا ہمیں خود اپنے پھولوں کی نگہداشت کرنی ہے بناتیرا میرا بولے ہر دھوپ میں ان کوسایہ فراہم کرنا ہےیہ ہمارے بچے نہیں ہے صرف ہمارا قیمتی سرمایہ ہماری دولت عزت مان تحفظ سب کچھ ہے اگر آج ہم ان کو سانپوں کے حوالے کردے گے تو بڑھاپے میں پھر کیایہ ہمیں بچاکر رکھے گے ہر ملک وقوم قوم کی زینت ملک وقوم کے بچے ہی مانے جاتے ہے اور ہمارےملک میں بچوں کو سرمایہ سمجھنے کے بجاٸےکبھی جلادیاجاتاہے کبھی اغواکرکے بےنشان کردیاجاتاہے کبھی گولیوں کا نشانہ بنادیاجاتاہے جوبچ گے ہے ان کو ہوس کانشانہ بناکرختم کیاجارہا ہے کیونکہ ہمارےملک پاکستان کےوالدین کمزور ہے ہم اپنے بچو ں کیلٸے گاڑی کی بنگلے کی اعلی اور معیاری تعلیم بینک بیلنس کی توجہدوجہد کرتے ہے لیکن ان کی خوشیوں کی سکون کی فکر نہیں کرتے ہے ان کو یاتو ملازموں کے رحم کرم پرچھوڑ دیتے ہے یا تہناٸ کاشکار کرکےانٹرنیٹ سے معتارف کروادیتے ہے جس کی وجہ سے اسی فیصد بچے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہے ان کی شخصیت دب جاتی ہے خوف کاشکار ہوجاتے جس وجہ سے وھ ہراچھا برا فعل بتانے سے گھبراتے ہے بے عدم توازنی کا شکار ہوکر بہت چھوٹی عمر میں مختلف بری عادتوں کاشکار ہوجاتے ہے یہی سے ہی گھریلوں ملازمین اور مختلف لوگو ں کو موقع مل جاتاہے بچوں کے ساتھ بدفعلی کا جب والدین کوہوش آتی ہے تبھی تک پانی سروں سے گزر چکاہوتاہے معذرت کےساتھ
بس ہر والدین بلکے پورے ملک کے والدین سے کہناچاہوں گی صرف کمانے والی مشینری نہ بنے اچھے اور دوست والدین بنے اپنی اولاد کے۔ ڈالر کیلٸے نہیں اولاد کے تحفظ کیلٸے لڑےیابھیگ مانگے سرکار سے ورنہ اگر بچوں کیلٸے یہ سب چیزیں بیکار ہے

ثنا ظہیر

منڈی بہاٶالدین 

 

SHARE

LEAVE A REPLY