ڈالر گراٶ ملکی معاشیت بچاٶ آج میں جہاں پر سب سے ایک بات کہناچاہوں گی پاکستان کی پوری قوم کوڈالرگرنے سے پٹرول سستا کرو ڈالرگرانے سے مہنگاٸ ختم ہوجاٸے ملکی حالات میں بہتری آٸےگی بہتری سے انسانی دماغ پریشانی سے نکلے گے اگر انسانی دماغ فریش ہوگٸے تو کیا ہوجاٸےگا اگر سب چیزیں سستی ہوگی بھی گی تو جن کیلٸے اتنی بھاگ ڈور کر رہے ہواس وقت تک تمہارے بچے نہ رہے تو کیافاٸدھ ہوگا سستاٸی کا اتنی محنت کا جب تک تم اپنی اصلی دولت اپنے بچوں کیلٸے بہترین تحفظ نہیں حکومت سے مانگ سکوں گے سب تبدیلیاں بیکار ہے ہر کوٸ جنگ اپنی نسل کی بقإکیلٸےلڑتاہے ہم واحد قوم پاکستانی قوم ہے جو ہر جنگ صرف وقتی فاٸدےکیلٸے لڑتے جارہے اورہماری سب سےقمیتی دولت ہمارے اثاثے ہمارے جگر گوشے ہوس زادوں کی ہوس کا شکار ہوکر اپنی تواناٸ اپنی رعناٸ کھورہے ہے کوٸ زینب کوڑے سے مل رہی ہے کوٸ پانی کی ٹینکی ہے سے مل رہی ہےکوٸ حمزھ گنے کے کھیت سے مل رہاہے کوٸ ندی کوٸ گندے نالے سے مل رہا ہے ہوش کے نخن لوپورے ملک کی عوام جس اولاد کیلٸےاتنی جہدوجہد کر رہے ہو پہلے اس کیلٸے کوٸ حفاظتی تدبیر تو کرلو تمہارےمہنگاٸ اور ڈالر پٹرول کی قمیتیں گراتے گراتےتمہاری اولاد بے مول ہوکر سب چیزوں سے سستی ہوکر گندے ندی نالوں میں گر رہی ہے کہیں پر تمہارے پسینوں سے فیکٹریاں بن رہی ہے توکہیں پر تمہاری اولادوں کے خون سے سڑکیں اور ندی نالے بھر رہے ہے بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہے
اخبارات ٹی وی چینل بھرتے جارہے بچے ملازمین جلاٸےجارہےاگر والدین برقت قدم نہیں اٹھاٸےگے تو کون اٹھاٸے گاقدم جیسے پٹرول بیلنس مہنگاٸ ڈالر کیلٸے متحد ہوجاتے ہو ایسے ہی پورے ملک کے بچوں کیلٸے اکھٹےہوکر تحفظ مانگوں ظالموں کو سزادلاٶ عبرت کانشان بناٶ تاکہ اس ملک کے بچے ندی نالوں کے بجاٸے عزت اور تحفظ کے ساتھ مر اور جی سکےیہ سب جنگ ہماری اولادکیلٸے ہی تو ہے بقإ نسل کے تحفظ کیلٸے ہی تو سب کیاجارہے ہے ہم سبھی یہ جنگ۔ اک اور جنگ سہی اپنی اولاد کے بہترین تحفظ کیلٸے ان کی آزادی کیلۓان کے اندر بسے ہوٸے خوف کو نکالنے کیلٸے اک قدم قاٸد نے اٹھایاتھاہم سب کو آزادی دلانے کیلٸے ہم آزاد ہوگٸے بہت ساری قربانیوں کے بعد چند پل اچھے گزرے گٸے تھے ۔اب ہماری اولاد پھر انہی زنجیروں میں گھر کی چار دیواری میں قید ہورہی ہے صرف کچھ خباثت بھرے غلیظ اور بیمارذہنوں کی وجہ سےجن کوختم کرنے کیلٸے۔ اک والدین نے نہیں بلکے پورےملک کے والدین نے مل کر یہ اپنے بچوں کی آزادی کیلٸے تحفظ کیلٸےمضبوط جنگ لڑنی ہے اور اپنے بچوں کو آزاد فضاٶں میں سکون کی اک سحر نوید دینی ایساتبھی ہی ممکن جب تم سبھی متحد ہوکر سڑکوں پرنکلوں گے اور سانپوں کا سرسرعام کچلوں گے پھتروں سے ان کے چیتھڑے اڑادو گے اک عبرت ناک سزا دیکرظالم کیلٸے دنیامیں عبرت کی بہترین مثال قاٸم کردوں گے تبھی ہمارے بچوں کیلٸےآزاد تحفظ ممکن ہوسکے گا ورنہ نہیں جب تک والدین عزت کیلٸے اپنی ہی اولاد پر چپ کے پہرے بیٹھانے کے بجاٸےاس کی آوازنہیں بنے گے تب تک بچوں کی آزادی ممکن نہیں اور ہماری بقٕانسل کی کوٸ ضمانت نہیں ڈالر گرے تیل سستا ہوپٹرول سستا ہو ہر آساٸش ہم اگر صرف اولاد کیلٸے چاہتے تو پھر یہ جنگ یہ قدم بھی ہمیں اپنی اولاد کیلٸے اٹھانا ہے اگر اب چیز قمیتی ہے تو سب سے سستی ہماری اولاد اور ہماری عزتیں ہورہی ہے جوبےمول ہر گلی ہر کوچے میں نیلام ہورہی ہے اب ہم سب کواک آواز بننا ہوگا ملازمین بچوں سے لیکر ہر عام وخاص بچے کیلٸے نکلنا ہوگا ہمارے بچے ہمارے باغیچے ہے ہمارے آنگنوں کے پھول ہے اگر ہم مالی ہی اپنے باغ اپنے پھولوں کی نگہداشت سے غفلت برتے گے تو کون ہمارے پھولوں کو مرجھانے سے ٹوٹنے سے بچاٸے گا ہمیں خود اپنے پھولوں کی نگہداشت کرنی ہے بناتیرا میرا بولے ہر دھوپ میں ان کوسایہ فراہم کرنا ہےیہ ہمارے بچے نہیں ہے صرف ہمارا قیمتی سرمایہ ہماری دولت عزت مان تحفظ سب کچھ ہے اگر آج ہم ان کو سانپوں کے حوالے کردے گے تو بڑھاپے میں پھر کیایہ ہمیں بچاکر رکھے گے ہر ملک وقوم قوم کی زینت ملک وقوم کے بچے ہی مانے جاتے ہے اور ہمارےملک میں بچوں کو سرمایہ سمجھنے کے بجاٸےکبھی جلادیاجاتاہے کبھی اغواکرکے بےنشان کردیاجاتاہے کبھی گولیوں کا نشانہ بنادیاجاتاہے جوبچ گے ہے ان کو ہوس کانشانہ بناکرختم کیاجارہا ہے کیونکہ ہمارےملک پاکستان کےوالدین کمزور ہے ہم اپنے بچو ں کیلٸے گاڑی کی بنگلے کی اعلی اور معیاری تعلیم بینک بیلنس کی توجہدوجہد کرتے ہے لیکن ان کی خوشیوں کی سکون کی فکر نہیں کرتے ہے ان کو یاتو ملازموں کے رحم کرم پرچھوڑ دیتے ہے یا تہناٸ کاشکار کرکےانٹرنیٹ سے معتارف کروادیتے ہے جس کی وجہ سے اسی فیصد بچے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہے ان کی شخصیت دب جاتی ہے خوف کاشکار ہوجاتے جس وجہ سے وھ ہراچھا برا فعل بتانے سے گھبراتے ہے بے عدم توازنی کا شکار ہوکر بہت چھوٹی عمر میں مختلف بری عادتوں کاشکار ہوجاتے ہے یہی سے ہی گھریلوں ملازمین اور مختلف لوگو ں کو موقع مل جاتاہے بچوں کے ساتھ بدفعلی کا جب والدین کوہوش آتی ہے تبھی تک پانی سروں سے گزر چکاہوتاہے معذرت کےساتھ
بس ہر والدین بلکے پورے ملک کے والدین سے کہناچاہوں گی صرف کمانے والی مشینری نہ بنے اچھے اور دوست والدین بنے اپنی اولاد کے۔ ڈالر کیلٸے نہیں اولاد کے تحفظ کیلٸے لڑےیابھیگ مانگے سرکار سے ورنہ اگر بچوں کیلٸے یہ سب چیزیں بیکار ہے
ثنا ظہیر
منڈی بہاٶالدین













