پاکستان میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی بنیادی اشیائے خورد و نوش بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ایسا ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے کہ صارفین کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور آج تک کوئی حکومت اسمسلے پر قابو نہیں پا سکی
تحریک انصاف کی حکومت بھی باقی حکومتوں سے مختلف نہیں اس حکومت نے تو پہلے ہی عوام کو مہنگائی سے ادھ موا کر رکھا ہے لیکن رمضان میں عوام وہ رحمت تلاش کرتے ہیں جسکا وعدہ اللہ نے کیا ہے
رمضان کے آخری عشرے میں عوام عید کے بارے میں فکر مند ہونے لگتے ہیں کہ اب مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ وہ خاندان جہاں چار پانچ بچے ہیں انکی جیسے نیندیں اُڑ جاتی ہیں۔ سونے کی بات یہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں جہاں رمضان کو رحمت کا مہینہ کہا جاتا ہے کیا عوام کے لیئے واقعی یہ مہینہ رحمت کا مہینہ ہے؟
رسد اور طلب میں عدم توازن، ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی اور متعلقہ حکومتی اداروں کی صورتحال پر قابو رکھنے میں مکمل ناکامی پاکستان میں اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں جو کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی بعض اوقات قیمتوں میں 100 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
شاید باقی اسلامی ممالک میں ایسی دگر گوں صورت حال نہ ہو جیسی پاکستان میں ہیں۔ رمضان بازار کے نام پر چلنے والے بازاروں کی حالت مزید ابتر ہے جہاں بدترین کوالٹی کی چیزیں بھی بہت اچھے داموں میں فروخت ہو جاتی ہیں
مغربی ممالک میں صورت حال اس سے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے لوگ عرف عام میں جن ممالک کو کافر ملک کہتے ہیں وہاں رمضان کی آمد پر بڑے بڑے سٹوروں میں خصوصی رمضان کارنر بنا دیئے جاتے ہیں اور چیزوں کی قیمتوں میں واقعی کمی کی جاتی ہے۔ ان اشیا میں خاص طور پر افطاری سحری میں استعمال ہونے والی اشیا ہیں

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں، جہاں مسلمان کل آبادی کا صرف پانچ فیصد ہیں، بڑے بڑے سٹورز بہت سی اشیا سستی کر دیتے ہیں۔
برطانیہ بھر میں ہر سال کی طرح رمضان کی آمد کے ساتھ ہی تمام بڑے بڑے گراسری ( کریانہ) سٹورز جن کا جال ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے ملک کی پانچ فیصد مسلمان اقلیت کے لیے بہت سی اشیاء رعایتی نرخوں پر لگا دیتے ہیں۔
یہ ہی نہیں رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان ہوتے ہی ٹیسکو، ایسڈا، سینسبریز اور موریسن سمیت دیگر سٹورز کے اندر رمضان مبارک کے پوسٹر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں اور خصوصی شیلف ممتاز کر کے لگائے جاتے ہیں جن پر رمضان میں رعایتی نرخوں پر فروخت کی جانے والے اشیاء بڑے اہتمام سے لگا دی جاتی ہیں۔

رمضان پیکجز کا اعلان کرتے ہوئے یہ سٹور مسلمانوں کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء جن میں کھجوریں، بیسن، چاول اور مخلتف اقسام کے جوس اور حلال مشروبات شامل ہیں وہ رعایتی نرخوں پر لگائی گئی اشیاء میں نمایاں کر کے لگا دیے جاتے ہیں۔ ان کے نرخ عام دنوں سے یا تو کم ہوتے ہیں یا پھر ‘بائے ون گیٹ ون فری’ یعنی ایک خریدو ایک مفت لو کے تحت صارفین کو مہیا کیے جاتے ہیں۔
سنہ 2011 میں برطانیہ میں ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق برطانیہ کی کل آبادی میں مسلمانوں کی شرح صرف پانچ فیصد ہے۔ کل آبادی میں مسلمانوں کی کم شرح کے باوجود ٹیسکو، سینسبریز، موریسن اور ایسڈا مختلف ‘ڈیلز آفر’ کرتے ہیں۔ ان سٹورز کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ایسا لگتا ہے کہ تمام سٹورز زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اپنا مستقل گاہک بنانے کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں ہوں۔

لندن کے علاوہ برمنگھم، کونٹری، لیسٹر، مانچسٹر اور بریدڈ فورڈ جہاں مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر ملکوں کے مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں وہاں رمضان کا احساس اور بھی زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کی دکانیں تقریباً ہر بازار میں مل جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی یہ دکانیں نرخ کم کرنے کی دوڑ میں بڑے بڑے سٹورز کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ یہاں معاشیات کا اصول ’اکونومی آف سکیل‘ کار فرما نظر آتا ہے۔
صفدر ھمدانی
اس رپورٹ کی تیاری میں بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ سے بھی مدد لی گئی ہے













