اکثر مجھے اس بات پر شدید حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسا دین جسکا بانی اللہ کا حبیب ہر حال میں تعلیم اور علم کے حصول پر زور دیتا ہے اس معاشرے میں وسیع پیمانے پر علم اور تعلیم سے دشمنی کئی جہت سے موجود ہے۔ پاکستان کی حکومتیں اور پاکستانی معاشرہ جو بڑے فخر سے خود کو اسلامی ملک اور اسلامی معاشرہ کہتا ہے وہاں بھی علم دشمنی کی مثالیں ہر دور میں ہر قدم پر ملتی ہیں لیکن اسکے باوجود ہم سینہ تان کر خود کو نبی کا غلام اور آقا کے پیرو کار کہتے ہیں
پاکستان کے دوردراز علاقوں میں آج بھی سکول خواب ہیں اور کتنے ہی علاقے ہیں جہاں لڑکیوں کو تعلیم سے دور دور رکھا جاتا ہے اور اگر کہیں چھوٹے موٹے سکول ہیں بھی تو وہاں طلبا کی جگہ جانور بندھے ہوتے ہیں۔ حکومتوں کے بجٹ اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ صحت کے ساتھ تعلیم کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ ایک مسلسل نوحہ ہے جو مجھ جیسے لوگ برسوں سے لکھ رہے ہیں اور خود ہی اس پر اشکبار بھی ہوتے ہیں اور سینہ زنی بھی کرتے ہیں
اس مختصر تمہید کا مقصد لاہور فیصل ٹاون میں مقیم جناب شاہد بخاری کی علم دوستی اور لائبریری سے محبت کو مسلسل پہنچنے والے نقصان کو اُجاگر کرنا اور انکی مساعی میں شامل ہو کر علم دشمنوں اور مطالعے کے دشمنوں کے خلاف اپنے حصے کی آواز بلند کرنا اور انکی مضبوط آواز میں اپنی آواز شامل کرنا اور اپنے حصے کی روشنی کرنا ہے
جناب شاہد بخاری کو لاہور فیصل ٹاؤن کے ڈی بلاک میں ایک مطالعہ گاہ یعنی لائبریری کے قیام کے لیئے کوشش کرتے ہوئے پانچ برس گزر گئے ہیں لیکن انکی مساعی ہنوز تشنہ انجام ہیں اور انکا علم دوستی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پارہا جسکی وجہ وہ ذہنیت ہے جنکے نزدیک علم کی قطعی کوئی قدرو قیمت نہیں اور جو خاص طور پر اپنی نئی نسل کو مطالعے اور حصول علم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں
دوہزار سترہ میں انہوں نے درخواست دیکر ڈی .بلاک،فیصل ٹاؤ ن لاھور کے پارک میں واقع ایک سابقہ ٹیوب ویل چیمبر کو لائبریری بنوانا چاہا جہاں وزیر تعلیم نے اپنے وعدے کے برعکس دفتر یونین کونسل شفٹ کروا دیا،جو اسوقت کے عبوری چیف منسٹر ڈاکٹر حسن عسکری صاحب نے انکی درخواست پر شفٹ نہ ھونے دیا تھا۔ لیکن طرفہ تماشہ کہ اب وھاں مالیوں کاسٹور روم بن گیا ھے، دوہزار اٹھارہ میں
،D.G.,PHA for Library
اسکی منظوری دے چکے تھے لیکن بعد ازاں موجودہ شہباز حکومت کے آنے کے بعد اسکو منسوخ کر دیا اور شاہد بخاری اپنے ساتھیوں سمیت ہاتھ ملتے رہ گئے
اس وقت دنیا کی چالیس بڑی لائبریریز میں، مسلمان دنیا جس کی آبادی دو ارب ہے، کی ایک لائبریری ہے جس میں فقط پانچ لاکھ کتابیں ہیں اسکندریہ کی یہ لائبریری مصر میں اس لئے محفوظ ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے پرانی لائبریری ہے ورنہ مسلمانوں کو کتب خانے بنانے کی توفیق نہیں رہی۔
اس وقت امریکہ کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو تب بھی ان کتب کی تعداد اس ایک لائبریری کے برابر نہیں بنتی۔ کانگریس لائبریری 170 ملین یا پھر 17 کروڑ کتابیں رکھتی ہے ان کتابوں کا احاطہ 800 میل بک شیلف ہے۔
پاکستان کی حالت انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری فقط تین لاکھ کتب رکھتی ہے۔ ان کتب میں بھی زیادہ تعداد ریاستی مؤقف کی تائید کرتی ہے اور ان میں ایسی کتب بہت کم ہیں جو قوم کی جذباتیت ابھارنے کے علاوہ ان کا علم بڑھا سکیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی بات کریں تویہاں چھ مشہور لائبریریاں ہیں۔ جن کے ناموں میں قائداعظم پبلک لائبریری، ماڈل ٹائون پبلک لائبریری، دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری، ڈیفنس پبلک لائبریری کمپلیکس اور چغتائی پبلک لائبریری شامل ہیں۔
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اِن چھ لائبریریوں کے کل ممبر ز کی تعداد 117,448 ہے اور اِن لائبریریوں میں کل کتب کی تعداد صرف 478, 613 ہے۔ اِن تمام لائبریریوں میں روزانہ پڑھنے کے لئے آنے والوں کی تعداد صرف 2500 سے 3000 کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر ظہیراحمد بابر نے بتایا کہ پنجاب میں کل 1033 لائبریریاں ہیں جن میں سے 550 کالجوں میں 155 یونیورسٹیوں میں 171 لوکل گورنمنٹ کے زیرِ انتظام اور 160 بلدیہ کے زیرِ انتظام چل رہی ہیں۔ ہمیں تعلیم و تحقیق کی خاطر لائبریریوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور آسان اور قابلِ رسائی تعلیم ہر فرد کا حق ہے۔
لائبریریوں کی ایک جدید صورت ہیومن لائبریری ہے جسکا پاکستان میں وجود ہی نہیں۔پاکستان میں اب تک نہ تو کوئی باقائدہ انسانی لائبریری
(Human Library)
موجود ہے اور نہ اس کا تصور پایا جاتا ہے۔
ہیومن لائبریری کا تصورہے جو اب اتنا نیا بھی نہیں رہا اس لائبریری میں کتابوں کی جگہ انسان ہوتے ہیں جو الگ الگ موضوعات پر اپنی کہانیاں اور تجربے بیان کرتے ہیں۔ ہیومن لائبریری کا تصوراور قیام 2000 میں ڈنمارک میں شروع ہوا تھا۔اس کے بعد پچاس ممالک تک پھیل گیا ۔ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان میں تو ابھی تک ایک بھی باقائدہ انسانی لائبریری قائم نہیں ہوئی تاہم بھارت کے کئی شہرون میں ایسی لائبریریاں بن چکی ہیں اور کامیابی سے چل رہی ہیں۔
یہ انتہائی مختصر اعدادوشمار میں نے صرف اس لیئے تحریر کیئے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانک سکیں اور شاید کوئی شرمندگی محسوس کریں مگر مشکل یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ سب پڑھنا چاہیئے وہ بے حس اور خود مطالعہ دشمن پراپرٹی ڈیلر ذہنیت کے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معاشرہ انتہا پسندی،منافرت کی عروج پر اور انسانی تکریم سے عاری ہے

سٹور روم کی موجودہ صورت حال
شاہد بخاری اگر سرکاری زمینوں کے خرد برد اور کرپشن کی پیروی کرنے والے ہوتے تو انکی کامیابی کے راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے لیکن وہ علم دوست اور نئی نسل کو مطالعے کی نعمت دینے والے فرد ہیں۔ کاش پنجاب کی حکومت، وزیر اعلی پنجاب، وزیر تعلیم اس بات کا نوٹس لیں اور دوکمرے کی اس لائبریری کے لیئے احکامات جاری کریں
صفدر ھمدانی
برطانیہ













