زندگی مشکل فقط ہم سوختہ جانوں کی ہے
انتہا کی اب کمی دنیا میں انسانوں کی ہے

شہر بھر کی سب فضا ماحول کی آلودگی
اب ہوا خالص اگر ہے بھی تو زندانوں کی ہے

دوسروں کے سچ کو کہنا کسقدر آسان ہے
اور اپنا سچ بتانا راہ دیوانوں کی ہے

حضرت واعظ کی دستار وقبا سے نفرتیں
میکشوں کا دوش ہے سب چال پیمانوں کی ہے

اسقدر پرچار نفرت کا مساجد سے ہوا
ہر طرف اب عزت وتکریم میخوانوں کی ہے

آنکھ سے دیکھی نہیں جاتی تباہی شہر کی
دیدنی اب باخدا رونق بیابانوں کی ہے

کوئی بھی تیار صفدر ماننے کو سچ نہیں
ایک ہی حالت یہاں اپنوں کی بیگانوں کی ہے
صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY