سرتاج عزیز بھارت پہنچ گئے، انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے عشائیے میں بھی شرکت کی ہے، اس موقع پر انہوں نے پیغام دے دیا کہ پاکستان تمام مسائل کا حل بات چیت سے چاہتا ہے۔

امرتسر میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے عشائیے میں ملاقات ہوئی، بھارتی وزیر اعظم نے مشیر خارجہ سے مصافحہ کیا اور اس دوران بات چیت بھی کی۔

نریندر مودی نے سوال کیا کہ وزیراعظم نوازشریف کیسے ہیں؟

مشیر خارجہ نے انہیں جواب دیا کہ نواز شریف صاحب ٹھیک ہیں اور انہوں نے آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ میری طرف سے بھی وزیر اعظم نواز شریف کو سلام اور نیک تمنائیں پہنچا دیں۔

اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں آنا پاکستان کی افغانستان میں امن اوردلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

مشیر خارجہ کی وہاں ایرانی ہم منصب سے بھی ملاقات اور بات چیت ہوئی۔

نئی دہلی میں متعین پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بات چیت کے لیے کوئی درخواست نہیں کی، بھارت کی جانب سے بھی بات چیت کے لیے کوئی تجویز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم سےمشترکہ ملاقات تھی جس میں مشیرخارجہ نےبھی شرکت کی،آج مشیرخارجہ سرتاج عزیز نےافغانستان پرپاکستان کی پالیسی بیان کی ہے،وہ کل کانفرنس سےکلیدی خطاب کریں گے۔

عبدالباسط نے مزید کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس افغانستان سے متعلق ہے، افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا ہمیشہ مثبت کرداراور اہمیت رہی ہے، اسی کا مشیر خارجہ نےآج اظہاربھی کیا۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز آج خصوصی طیارے کے ذریعے امرتسر پہنچے، انہوں نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو گل دستہ بھی بھجوایا اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مشیرخارجہ سرتاج عزیز کی آمد پر بھارتی میڈیا نے واویلا شروع کردیا اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا،متعصب بھارتی میڈیا نے دو طرفہ مذاکرات سے فرار کے لیے اپنی حکومت کو ورغلانا شروع کردیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY