جب ہم آنکھیں بند کرتے ہیں تو ہم ایک لائٹ بلیک کلر دیکھتے ہیں جس کا شیڈ گرے کی طرح ہوتا ہے ، لیکن اندھا آنکھیں بند کر کے کونسا رنگ دیکھتا ہے ؟
کوئی بھی نہیں۔ لیکن کوئی ، ” کوئی بھی نہیں ” رنگ کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ اس لیے کیونکہ اسے دیکھنے کی حِس کا ادراک اور شعور ہی نہیں ہے۔
ہم سوچتے ہیں کہ پیدائشی اندھا کیسے رہتا ہو گا ، اور کتنی مشکل سے گزر بسر کرتا ہوتا جبکہ ایسا نہیں ہے وہ ہماری طرح بلکل نارمل ہی جیتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اندھا ہے ، دراصل اُسے اس بینائی کا شعور اور احساس ہی نہیں ہوتا ، کیونکہ اس نے کبھی اس حِس کو جانا ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ کے سر کی پچھلی طرف آنکھیں نہیں ہیں لیکن آپ کو اس سے محرومی کا احساس ہی نہیں ہے ، جیسے کُتے کی بو سونگھنے اور اس کے زریعے پہچاننے کی حِس انسان سے کئی گنا زیادہ تیز ہے لیکن انسان کو اس کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ انسان ان حسیات کا ادراک و شعور ہی رکھتا ، اسی طرح اندھے کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اندھا ہے۔
تو ایسی صورت ہم کسی پیدائشی اندھے کیسے بتائیں گے کہ وہ اندھا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اسے کبھی نہیں بتا سکتے کہ وہ اندھا ہے ، کیونکہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اندھا ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے اور آنکھیں کیا ہوتی ہیں۔ تو اسے یہ سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ وہ اندھا ہے۔
ایگزیکٹلی سیم exactly same صورتِ حال جاہل کی ہوتی ہے ، آپ اسے یہ کبھی نہیں سمجھا سکیں گے کہ وہ جاہل ہے ، نہ ہی اسے یہ سمجھ آئے گی۔
جاہل کی یوں تو کئی طرح کی خصوصیات بیان ہوتی ہیں جیسے کہ خود کو عقلِ کُل سمجھنا ، اپنی رائے اور بات کو حرفِ آخر سمجھنا ، ہر چیز جاننے کا دعویٰ کرنا ، اپنی بات کو ناقص نہ سمجھنا ، اپنے عقائد و نظریات میں غلطی کے امکان کو رد کرنا کہ نہیں جو میرے نظریات و عقائد ہیں وہ سب حق سچ ہیں اور ان میں کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، ” میں نہیں جانتا ” کہنے سے شرم محسوس کرنا اور احتراز برتبا وغیرہ۔
لیکن جہل کا سادہ کا مطلب ” بے خبر ہونا ” سمجھ لیجیے۔ تو اس لحاظ سے ہر انسان ہی جاہل ہوا کیونکہ ہر انسان کسی نہ کسی چیز سے بےخبر ہوتا ہے یعنی کسی نہ کسی چیز سے جاہل ( بےخبر ) ہوتا ہے۔ اس کو جہلِ بسیط کہتے ہیں۔
لیکن عموماً جاہل اس شخص کو کہا جاتا ہے جو ایک تو ” بےخبر ” ہو ، اور اس سے بھی بےخبر ہو کہ وہ بےخبر ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں نہ جانتا ہو لیکن یہ بھی نہ جانتا ہو کہ وہ نہیں جانتا ، اور دعویٰ کرے ، ڈٹ جائے کہ جانتا ہے ، بلکہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کو جہلِ مرکب کہتے ہیں ، مرکب یعنی کہ اس میں دو جہالتیں ہیں ، پہلی یہ کہ کوئی چیز نہیں جانتا دوسری یہ کہ یہ بھی نہیں جانتا کہ نہیں جانتا۔ اس کو جاہلِ مرکب کہا گیا ہے اور یہ جہالت انسان کو جانور سے بھی بدتر اور کمتر کر دیتی ہے۔
ہم میں سے تقریباً اکثریت ہی اسی جہل مرکب کی جہالت کے شکار جاہل ہیں مثلاً ہم ایک خاص نظریاتی اور عقائدی بیک گروانڈ میں پیدا میں پیدا ہوتے ہیں ، جہاں کچھ شعور آنے پر ہمارے والدین اپنے آباء و اجداد سے ملے نظریات ہمارے شعور میں فیڈ کرنے لگتے ہیں ، مثلاً وہ ہمیں بتائیں کہ معاذ اللہ خدا دو ہیں ، خیر کا خدا الگ اور شر کا خدا الگ ہے ، گائے مقدس ہے ، اونٹ کی نجاست میں شفا ہے ، ہمارے اجداد اور مقدس شخصیات کبھی غلطی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ معصوم تھے پس ان پر تنقید جائز نہیں ہے ، مخالف نظریے والے سب کافر اور ناپاک ہیں ، زمین گول نہیں بلکہ سیدھی ہے ، زلزلہ گائے کے سینگ سے آتا ہے ، سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ، فقط ہماری کتابیں ہی من و عن سچ کہتی ہیں اور درست تاریخی واقعات بیان کرتی ہیں ، ہمارے مسلک کا ہر عقیدہ ہر نظریہ ہر بات ہر رسم ہر رواج ہر تاریخی واقع بلکل سچ ہے ، مخالف نظریے کا گروہ پروپیگنڈہ اور جھوٹ کہتا ہے وہ جھوٹے واقعات بیان کرتا ہے اور کچے ذہنوں کو ورغلاتا ہے ، تاریخ کی تلخ اور حقیقی اختلافات اور بنیادی اصولی باتیں چھپا کر سب میٹھا تھا اور آل واز ویل کو سبق پڑھا دیا جاتا ہے ، اور تسلی کیلئے یہ بات فلاں کتاب میں ہے یہ بات فلاں بڑے نے کہی کی گولی کھلا کر غفلت کی نیند سُلا دیا جاتا اور اعتراض سوال وغیرہ کو بھی ناجائز قرار دیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب نظریات اور عقائد آپ کو والدین ، ماحول ، رشتہ داروں اگر دینی نظریہ ہو تو مدرسے اور مسجد یا ٹی وی ، ناولوں ، رسالوں وغیرہ سے پکے پکائے وراثت میں مل جاتے ہیں ، اور وراثتی اور آبائی نظریات ہم من و عن یقین کے ساتھ کھا پی کر ہضم کر لیتے ہیں اور اپنے خون میں شامل کر لیتے ہیں اگرچے ہمیں خود بھی معلوم نہیں یوتا کہ ان میں سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے ، لیکن ان کے جھوٹ ہونے کا تصور ہی ہمارے سر سے آسمان چھیننے کے مترادف ہے اس لیے ہم وہ سوچنا ہی نہیں چاہتے ، یہ امکان ہی نہیں رکھتے کہ یہ ساری عمارت کی بنیاد ہی جھوٹ ہو سکتی ہے ، چونکہ ہمیں ان کے جھوٹ ہونے کا خوف ہے اور وہ ایسا خوف ہے کہ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
لیکن معاملہ اس سے سنگین ہے ، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ سب غلط بھی ہو سکتا ہے ، ہم ان سارے عقائد و نظریات پر اندھی تقلید کے باوجود ان کا دفاع سر تن من دھن سے کرتے ہیں ، چونکہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ سب غلط بھی ہو سکتا ہے ، یہ بات ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ جو باتیں ہم بچپن سے لوریوں میں سنتے آئے ہیں وہ غلط ثابت ہو جائیں اور جھوٹ ثابت ہو جائیں ، جبکہ ہم نے خود تحقیق بھی نہیں کی خود ان سب کو پرکھا ہی نہیں ہے کہ یہ سب سچ ہے بھی یا نہیں ہے ، اور عجیب بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس ان سارے نظریات کی ، سوائے ” فلاں فلاں کتب میں ہے ” کے کوئی دلیل بھی نہیں ہے ، ہم یہ بھی نہیں جانتے ، ہمارے پاس کسی بھی نظریے کے بارے میں ” کیوں ” کے کسی سوال کا جواب موجود نہیں ہے۔ پھر اگر کوئی کہیں سے درست بات لے آئے ، تو وہ ہمارے لیے غیر مانوس اور اجنبی سی ہوتی ہے اور اسے ہم گمراہی اور شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور سب سے پہلے یہی سوچ آتی ہے کہ میرا نظریہ درست ، اس نے جو کہا وہ مکمل غلط ، اب اس سے بحث کرتے ہیں۔ گویا وہ سچ ہمارے لیے ایسا نیا اور اجنبی اور نامانوس ہوتا ہے جیسے پیدائشی اندھے کیلئے بینائی اجنبی اور نامعلوم چیز ہوتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود ہم یہ وراثتی اور آبائی نظریات ہر جگہ پھیلاتے رہتے ہیں بلکہ دوسروں پر مسلط کرتے رہتے ہیں اور ان کے مخالف سچ کو بھی بغیر کسی دلیل کے ہی اپنے عقائد سے جڑے جذبات اور احساسات کی بنیاد ہر مکمل رد کر دیتے ہیں اور جاہل بھی انہیں کو کہتے ہیں اور خود ہمیں یہ کبھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ اصل جہالت تو ہم میں ہے۔ ہمیں اپنی جہالت کا شعور اور ادراک ہی نہیں ہے ، ہم نہیں جانتے کہ ہم نہیں جانتے ، ہم پیدائشی اندھے ہیں۔
…. جسٹن سنو













