مادیت پرستی کے دیو نے انسان سے اسکی خوشیوں کے سبھی احساس چھین کر اس کے اندر کو محروم اور بے رحم بنا دیا ہے…. صنیعت کاروں اور کاروباری دنیا ہو سیاستدان ہوں یا سیاستدان اور وڈیرے انسان اپنے اپنے معاشرے کے بڑے گروہوں کا قیدی ہے….. جو انسان کی قیمت دولت… پیسہ… بینک بیلنس اور نوکر چاکر بڑے گھر بتاتے ہیں…اور دوسرے لفظوں میں کہیں تو باحثیت انسان اگر میرے پاس مندرجہ بالا چیزیں نہیں ہیں تو میرے اس دنیا میں ہونا ہی بیکار ہے… بجائے اسکے کے میری جہد انسان ہونے کی سعی ہوتی میری جہد اختیارات، رتبے، دولت اور ریاکاری کا حصول بن گیا حتی کے انسان دیکھنے میں تو لگتا تھا پر رفتہ رفتہ سفاکیت اور درندگی سے بھی بد تر اوصاف میرے وجود میں پنپنے لگے کے کب یہ دیو میرے اندر کے انسان کو کھا گیا مجھے خطربھی نہ ہوی اور جس نے خبر دی اسی سے د شمنی محسوس ہونے لگی…..
انسانی اوصاف یعنی نیکی کرنا انسانی جزبے…. یعنی بھلائی کے احساس سب کے سب خریدو فروخت کیے جانے لگے حتی کے میرے آنسو، مھبت، ہنسی، ٹوٹ پھوٹ کے سارے رنگ بکنے لگے اور میں اس بکنے پہ خوش اور خود کو خوش نصیب ترین سمجھ کر اپنے وجود کے ہر حسن کو بیچنے کو اپنی کامیابی کا معیار سمجھنے لگا…
کیا خود کے سوداگر اور گمشدہ انسان کامیاب کہلا سکتے ہیں…؟
اگر میرے پاس بڑا گھر…
بڑی گاری..
برانڈڈ لباس… پرس… میک اپ… یا دوسری سہولیات نہیں ہیں تو یقین جانیے یہ زیادہ سکون اور شکر کا مقام ہے…..
دوسری بات یہ کے مجھے اپنی اس سادگی… یا یہ سب لوازمات نہ ہونے پہ کوئی رنجیدگی اختیار کرنے کی 3نہین ہونی چاہیے….
بلکہ نفاست کیساتھ صاف ستھرے لباس پر وجود میں تشکر کے احساس کیساتھ بلند ظرفی آپ آتے ہوئے دوسروں کی بلندی، ترقی، حسن دیکھکر بہت خوشی… اور بڑے ظرف کا اظہار کرنا چاہیے…..
یہ زندگی بس سیکھنے کی جگہ ہے….. اور بہترین شے بے نیازی سیکھنا ہے….
فقر سیکھنا ہے… خودداری… رضا رب کو سیکھنا ہے….
اور اگر رب میرا سب چھین لے مجھ سے تو مجھے اسے ٹریننگ ورکشاپ کے طور پہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے بھلے…
اس میں درد ہو گا… کرب… تکلیف… ازیت ہوگی….. لگے گا یہ کیا مصیبت مجھ ہی پر آن پڑی…..
پر اصل ھدف غربت و فقر میں رہ کر شکر و رضا…. کی تربیت کا حصول ہے…. جسکی سعی ہم نہیں کرتے… اگر…
ہر مشکل… کمی…. محرومی کو زندگی میں پارٹ آف ٹریننگ بائ رب سمجھکر لیا جائے کے اچھا اب یہ مشکل پار کرنی ہے….
تو مجھے ہر گز کم ظرف… کم فکر… کمزور دل…. نہیں ہونا…
مجھے رب کو پانا ہے….
اپنا سب لٹانا ہے…
سارا کچھ دیکر بھی…
خوشی سے مسکرانا ہے..
یہی ہے حسن و خوبی…
یہی حسن کیجانب سفر ہے….
….
شجاع اور دلیر لوگ ہی ان مشکلات کو سرخروئی سے پار کرتے ہیں…
کسی کی کامیابی… امیری… خوش لباسی… قیمتی زیورات….
کو دیکھکر حسد… جلن… چبھن…. کم فکر کمزور انسانوں کی علامت ہے….
جنکی خود کی قیمت محض یہی سب ہے…
جبکہ رب نے انسان کی قیمت قرب رب رکھی ہے…..
قرب رب کے واسطے ارادہ….
اختیار…. عمل کی طاقت دی ہے….
نیت کی توفیق دی ہے…. سو اہل دل…. ان چیزوں کو اپنی قیمت نہیں رکھتے….. وہ تو بے نیازی….
بے فکری سے جیتے ہیں…. ڈر خوف مرعوبییت انکی کاینات کا حصہ نہیں اور نہ ہی مادی چیزیں انکی قیمت میں کمی یا اضافہ کر سکتی ہیں….
البتہ ہر آزمائش یا ٹیسٹ…. کو پار کر کے اور مشکل آزمائش یا ٹیسٹ کا سامنا کرنا انکا میعار زندگی ہوتا ہے….
کیوں کے ہر ازما یش کچھ سکھاتی ہے انسان کو اور یہ سیکھ…. ہر بار ایک بلند درجے پر لیجاتی ہے….
رب سے کھینچکر اور قریب کر دیتے ہیں….
اس لیے اپنے اھداف واضح جو رکھتے ہین وہ ان کمزور لمحوں کا شکار نہیں ہوتے بلکہ شکاری کے ہر تیر کو شکست دے دیتے ہیں….
کیوں یہ ضروری ہے… کہ اگر انسان مادی اعتبار سے( عام الفاظ میں) غریب ہو تو کم ظرف بھی ہو…. اصل غربت و محرومی رزق، پیسے، دولت، اختیار، ظاہری جاہ و جلال کی کمی نہیں بلکہ…..
اصل غربت….
فقر….
محرومی….
اپنے ہونے کی قیمت کو نہ سمجھنا ہے….. اوراپنے ہونے کی قیمت کو ان سب چیزوں کے اعتبار سے سوچنا ہے…. اور خود کی طاقت… حسن و خوبی و کمال کو ان مادی چیزوں مین تلاش کرنا ہے…..
اصل حسن بے نیازی ہے…
اصل لطف….. خالی ہاتھ ہو کر بھی…. رب کے زکر سے… اسکے شکر سے روح و قلب کا جڑنا ہے….
انسان کی اصل… طاقت اور اختیار…..
اپنے وجود کی کایینات… میں چھپے خزانوں کو درک کرنا اور اپنے وجود سے وابستہ ہنر، وسائل، ھسن و خوبی کا استعمال ان ظاہرا کم ترین وسائل کے ہوتے ہوئے کر کے دکھانا ہے….
اپنی زات کو تربیت کر پانا کے رب تک سرخروئی سے پہنچ پائے انسان یہ اصل توفیق…. اور حقیقی دولت و رزق ہے…. جسے انسان دنیاوی تزیین و ارایش اور مال و اسباب نہ ہونے کے باعث خود کو محروم اور کم ترین سمجھ کر یا غیر ضروری اکڑ و غرور میں غرق ہو کر گنوا دیتا ہے….
کیوں کے آج کے انسان کی گھٹی میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کے دولت، رتبے، بینک بیلنس، بڑی گاڑیوں اور بڑے گھروں کے بنا اسکی کوئی وقعت اور ہستی نہیں……
جبکہ یہ تو سب سے بڑی جہالت ہے جسے وہ نہ تو درک کرتا ہے نہ سمجھتا ہے…. اصل طاقت….
ان سب چیزوں سے بے نیازی… اختیار کرنا ہے…. یعنی اسکا مطلب یہ نہیں ہے کے انسان محنت… کوشش…. اور اچھے مقام تک پہنچنے کی سعی نہ کرے بلکہ اس سب سے بے نیازی کا مطلب یہ ہے کے زندگی میں اس سب کو ہی جینے مرنے کی وجہ نہ بنا لے……
کیونکہ یہ معمولی ترین وسائل زندگی ہیں…. نہ کے ھدف زندگی…. اور جو وسائل کے بت پوجنے لگتے ہیں وہ کبھی بلندی اور بھلائی کے سفر کو اختیار نہیں کر سکتے……
سو بہت اہم ہے کے انسان بلندی کا سفر کرے…
محبت… لطافت… بے نیازی کا سفر کرے…
خودی کیساتھ بے خودی کاسفر کرے…
جینے کے لیے اچھی کوششیں کریے
مگر اپنے وجودکی قیمت ظاہری چیزوں
کو نہ بنائے بلکہ
اپنی قلب، روح اور فکر کی تربیت کرے کے
وہ نورانیت کو پا ئے… رب کے قرب کا سفر کرے….!!!
فائزہ عباس…













