آصف خان کھیتران ، پینشن کے انتظار میں دن نہیں مہینے گن رہے ہیں

0
2048

زندگی ساری انا پرستی کا لبادہ اوڑھے عمر کے اس حصے میں اپنا دکھ دنیا کو سنانے کا حوصلہ نہیں ہوتا مگر کیا کیجئے کہ اب تو روح اور جسم کا رشتہ جوڑنے رکھنے کے لئے اپنے لیے آواز بلند کرنا پڑ گئی ہے

عمر کا سنہری دور آواز کی دنیا میں گزارا، اور کیا خوبصورت گزارا، پاکستان بھر کے تمام علاقوں کی ثقافت تاریخ ادب موسیقی سے خود بھی روشناس ہوا سامعین کو بھی اس سے متعارف کرایا، کیسے کیسے ہیرے جو گمنامی کی زندگی گزار رہے تھی انہیں میڈیا کو سب سے بڑا پلیٹ فارم میسر کیا، میرے سینئرز نے تو بہت بڑے لوگوں کو مائیکروفون تک رسائی دی مگر اس میں اپنے تئیں حصہ ڈالا، آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں

ریڈیو لاہور پہ پوسٹنگ کے دوران میڈم فریدہ خانم کا انٹرویو کرنے انکی رہائش گاہ جانے کا موقع ملا، گفتگو کے دوران جب بھی انہوں نے ریڈیو کا ذکر کیا میرا ریڈیو کہہ کر کہا، حالانکہ وہ پی ٹی وی پر بھی ایک طویل عرصہ پرفارم کرتی رہیں، کہنے لگیں جب بھی ہمیں کسی اپنے فنکار سے ملنا ہوتا تھا ہم اپنے ریڈیو چلے جاتے تھے، امانت علی،غلام علی خان یا کسی اور آرٹسٹ سے جب کافی دن سے ملاقات نہیں ہو پاتی تھی تو پتہ ہوتا تھا ریڈیو کینٹین پر ملاقات ہو جائے گی بھلے ریکارڈنگ ہو نہ ہو،
حیدر آباد کی ریشماں، مائی بھاگی، الن فقیر، ملتان کے پٹھانے خان ناہید اختر،
ایک لمبی فہرست ہے ان نامور فنکاروں کی جنہیں ریڈیو پاکستان متعارف کروایا اور وہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچے،
ایک اور طرف بھی مجھے بات کرنی ہے، ہمارے روایتی سازوں اور سازکاروں کی۔ ستار، سارنگی، وائلن بانسری شہنائی طبلہ ڈھولک۔ آپ لاکھ کی بورڈ سے ان سازوں کی آوازیں نکال لیں مگر وہ سر وہ لے اور وہ رچاؤ آپ کو سننے کو نہیں ملے گا جو ان روایتی سازوں سے ملتے تھے۔

صرف گلوکاروں تک ہی محدود نہیں ادب دانش غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات ریڈیو سے اپنے تعلق کو باعث فخر سمجھتے تھے۔ اور حکومت پاکستان اس ادارے کی مکمل سرپرستی کرتی تھی،

زوال کا ایک ایسا دور شروع ہوا کہ یہ عظیم ادارہ آج کسمپرسی کا شکار ہے، خود کمال اور کھاو، دنیا میں ریاست کا کوئی ریڈیو کمرشل نہیں ہے، ہم ویسے تو بی بی سی اور اس طرح کے اداروں کا حوالہ دیتے ہیں کہ معیار ایسا ہونا چاہیے میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ آپ نے بی بی سی یا وائس آف امریکہ ریڈیو چائنا، آل انڈیا ریڈیو یا کسی بھی بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے اشتہارات سنے ہیں،پھر ریڈیو پاکستان پے یہ قدغن کیوں،

اور اس میں یہ ظلم بھی مسلسل روا رکھا جا رہا ہے کہ وہ سینئر براڈکاسٹر جو اپنی جوانی کا کا بہترین حصہ اس ادارے کو دے چکے ہیں آج پینشن کے انتظار میں دن نہیں مہینے گن رہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے،

آصف خان کھیتران

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامور براڈ کاسٹر اور دانشور آصف خان کھیتران کو ریڈیو پاکستان ملتان کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے سے حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ آصف خان کھیتران جن کا تعلق ضلع لیہ کے علاقے چوک اعظم سے ہے انہوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرڈگری حاصل کی اور 20 جون 1987 کو ریڈیو پاکستان میں بطور پروڈیوسر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔انہوں نے اکیڈمی سے تربیت کی تکمیل پر ریڈیو پاکستان خضدار جوائن کیا بعد ازاں انہوں نے ریڈیو پاکستان ملتان بہاولپور،اسلام آباد انچارج ایف ایم 93 اور ایف ایم 101 ملتان، اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لورالائی،ڈپٹی کنٹرولر ریڈیو پاکستان لاہور،اسٹیشن دائریکٹر ریڈیو پاکستان ملتان،اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد اور ڈپٹی کنٹرولر پروگرام ملتان خدمات انجام دے چکے ہیں۔

آصف خان کھیتران نے ریڈیو پاکستان ملتان سے کئی مقبول پروگرام پیش کیے اور موسیقی میں کئی بڑے نام متعارف کرائے جن میں شہزادہ آصف علی،اعجاز راہی،ساجد ملتانی،صوبیہ ملک،کوثر جاپانی،نجمہ شکیل،گلناز جبیں،شفاعت حسین اور کئی دوسرے بڑے نام شامل ہیں۔انہیں 2002 میں بہترین میوزک پروڈیوسر موسیقی کے پی بی سی اکسیلنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا.

آصف کھیتران نے دوران کیرئیر ریڈیو میلے بھی منعقد کئے جو کہ شہر سے دوردراز علاقوں میں وہاں کے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کے لئے ھوتے ھیں. ان ریڈیو میلوں میں ھزاروں کی تعداد میں بھرپور شرکت ھوتی ھے.

عالمی اخبار کے مدیر اعلی صفدر ھمدانی اس تحریر کے لیئے آصف کھیتران کے شکرگزار ہیں۔ کاش دیگر احباب بھی اس مشکل وقت میں اپنا قلمی حصہ ڈالیں

SHARE

LEAVE A REPLY