جوش ملیح آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے آپ 5 دسمبر 1898کو اتر پردیش ہندوستان کے ملیح آباد کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی جوش کونہ صرف اپنی مادری زبان بلکہ ہندی ،عربی،فارسی،اور انگریزی زبان میں بھی عبور حاصل تھا اپنی اسی خداداد صلاحیتوں کے وصف سے آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب وتالیف میں بھر پور علمی معاونت کی آپ نے انجمن ترقی اردو کراچی اور دارالترجمعہ (حیدرآباد) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔
جوش نہ صرف اپنی مادری زبان اردو بلکہ آپ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پربھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں روح ادب ،آوازہ حق ،شاعر کی راتیں ،حرف و حکایت،، دیوان جوش اوریادوں کی بارات خاص طورپر قابل ذکرہیں ۔ 22 فروری 1982ء میں جوش ملیح آبادی اس جہان فانی سے کوچ کرگئے لیکن ان کا کلام ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا
جوش صرف مرثیہ نگاری کا ہی آفتاب نہیں بلکہ نظم اور غزل میں بھی جوش نے اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا۔جوش کی شاعری کا دبدبہ آج بھی شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔الفاظ حقیقت میں انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔انہوں نے ایک دو درجن نہیں سینکڑوں نئے الفاظ کو جنم دیا۔زبان کی چاشنی اور لغت کی سحر آفرینی جوش کو صحیح معنوں میں جوش بناتی ہے۔
میں ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جس کو حضرت جوش ملیح آبادی کی صدارت میں ہونے والے مشاعرے میں پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے اور اس واقعے کو میں اپنی مرثیے کی کتاب‘‘فرات کے آنسو‘‘ مطبوعہ دو ہزار تین کے پیش لفظ میں اس طرح لکھ چکا ہوں
‘‘ مجھے آج بھی خوب خوب یاد ہے کہ انیس سو ستر کے اوائل میں لاہور کے علی پارک میں ‘‘یوم حسین‘‘ کی سہ روز تقریبات کے آخری روز کےجلسے کی صدارتشاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کر رہے تھے اور اس محفل کے اسٹیج سیکرٹری میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمٰدانی تھے۔اس جلسے میں منظور جھلا،تنویر نقوی،مشیر کاظمی،سیف زلفی،سائیں اختر حیسن،قتیل شفائی اور ایسے ہی بڑے نام پڑھنے والوں میں تھے۔ میں نے اپنے والد سے ضد کی کہ میں بھی پڑھوں گا۔ میری عمر اسوقت کوئی بیس بائیس برس تھی۔ والد نے مجھے بار بار منع کیا تو جوش صاحب نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ والد نے جب بتایا تو جوش صاحب نے مجھے پڑھوانے کا خود اعلان کیا۔
میں نے ان دنوں میں ایک مسدس تازہ لکھی ہوئی تھی اور اسی کے کوئی پانچ بند پڑھے۔اس مسدس کی ایک بیت جوش مرحوم نے مجھے سے دو بار پڑھوائی۔
پھر زمیں سوئے فلک اڑنے لگی ہے یا حسین
آج پھر کل کی طرف مُڑنے لگی ہے یا حیسن
حضرت جوش کی وہ ‘‘پھر پڑھیئے برخوردار‘‘ کی آواز کو میں نے تمغہ حسینیت کی طرح آج بھی ذہن و دل کی دیوار پر آویزاں رکھا ہوا ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ آواز آج بھی میری مرثیہ نگاری کے لیئے مہمیز ہے‘‘۔
تخلص کا انتخاب عام طور سے ابتدائی عمر میں کیا جاتا ہے سو اس میں لاشعور کا دخل زیادہ ہوتا ہے۔ شبیر حسن خاں کے لیے جوش سے بہتر تخلص ممکن نہیں تھا۔

جوش نے لکھنؤ کی نزاکت پسندی اور لسانی احتیاط کو ذاتی معیار کی جس سان پر رکھا اسے نرگسیت نہیں بلکہ ایسی خود پسندی کہنا چاہیے جو پشتوں کی مراعات یافتہ حیثیت سے پیدا ہوتی ہے۔ نظم ہو یا نثر، جوش کی لغت میں وسعت بھی ہے، جولانی بھی اور کاٹ بھی۔ معشوق صفت تھے مگر عشق کا دعوٰی رکھتے تھے۔
بیسویں صدی میں شاید ہی کسی نے انیسویں صدی کے مزاج کو ایسا نبھایا ہو۔
جوش نے ابتدا ميں عزيز لکھنوي سے اصلاح لي، ليکن بعد ميں اپنے وجد ان وذوق ہي کر رہبر بناليا اور فن ميں کمال حاصل کيا، ان کا شمار ان شعرا ميں ہے جو نظم و نثر پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے۔
تقسيم ملک سے پہلے جوش مليح آبادي دہلي سے ماہنامہ کليم نکالتے تھے، تقسيم کے بعد ماہنامہ آج کل کے چيف ايڈيٹر ہوگئے، بھارت ميں اپنا مستقبل تاريک ديکھ کر نومبر١٩٥٥ سے کراچي آگئے، جوش کے کلام ميں شکوہ الفاظ کے ساتھ ساتھ بڑيرنگا رنگي، وسعت اور تنوع ہے۔
جوش ملیح آباد ی کا اصل نام شبیر حسین خاں تھا۔ پانچ دسمبر اٹھارہ سو اٹھانوے کو اترپردیش ہندوستان کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آگرہ میں انگریزی مشنری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور لکھنئو سے میٹرک کیا۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ان کے زمانے ميں ہندوستان غلامي کي زنجيروں ميں جکڑا ہوا تھا اور جوش ايک حساس دل شاعر کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے سياسي شعور سے گہري آگاہي رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے فن برائے مقصد کي نظرئيے کے تحت سوئي ہوئي قوم کو جھنجھوڑنے کوشش اپني گھن گرج سے بھر پور آواز سے کي، تاہم اس کے باوجود ان کي فطري رنگين مزاجي اور حسن پرستي ان کي شاعري ميں صاف جھلکتي نظر آتي ہے۔
جوش نہرو کے ساتھ
جوش نہ صرف اپنی مادری زبان اردو میں ید طولیٰ رکھتے تھے بلکہ آپ کو عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر بھی عبور حاصل تھا۔ اپنی اسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف سے آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ آپ نے انجمن ترقی اردو کراچی اور دارالترجمہ حیدرآباد دکن میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ ادبی رسائل کلیم اور آج کل میں بھی کام کیا۔ آپ کثیر التصانیف شاعرومصنف تھے۔ آ پ کو شاعر انقلاب کے ساتھ ساتھ شاعر شباب بھی کہا جاتا ہے۔ انیس کے بعد آپکو رباعی کا بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے۔
جوش کے افکار کو مانے گی مستقبل کی روح
آج اگر رسوا یہ مرد نا مسلماں ہے تو کیا
جوش کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔ آپ کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں مندرجہ ذیل نام اہم ہیں۔
* روح ادب
* آوازہ حق
* شاعر کی راتیں
* جوش کے سو شعر
* نقش و نگار
* شعلہ و شبنم
* پیغمبر اسلام
* فکر و نشاط
* جنوں و حکمت
* حرف و حکایت
* حسین اور انقلاب
* آیات و نغمات
* عرش و فرش، رامش و رنگ
* سنبل و سلاسل
* سیف و سبو
* سرور و خروش
* سموم و سبا
* طلوع فکر
* موجد و مفکر
* قطرہ قلزم
* نوادر جوش
* الہام و افکار
* نجوم و جواہر
* جوش کے مرثیے
* عروس ادب (حصہ اول و دوم)
* عرفانیات جوش
* محراب و مضراب
* دیوان جوش
نثری مجموعے
* مقالات جوش
* اوراق زریں
* جذبات فطرت
* اشارات
* مقالات جوش
* مکالمات جوش
* یادوں کی بارات (خود نوشت سوانح)
دوہزار آٹھ میں جولائی کے مہینے میں لکھنئو میں شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی کی ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل کلیات کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ اس کو ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی نے مرتب کیا ہے۔ عصمت ملیح آبادی کا تعلق جوش کے خانوادے سے ہے اور انہوں نے جوش کی رومانی شاعری پر تحقیقی مقالہ لکھ کر لکھنئو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

کلیاتِ جوش ملیح آبادی میں ان کے تمام 15 شعری مجموعوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
بلاشبہ جوش ایک صاحب طرز اور قادر الکلام شاعر تھے۔ انہوں نے نصف صدی تک ادبی کائنات پر حکومت کی تھی۔ مگر اپنی افتاد ِطبع اورسرگذشت ‘یادوں کی برات’ کی اشاعت کے بعد ان کی شخصیت بے حد متنازعہ ہو گئی۔
مگر اس کے سبب ان کے شعری سرمائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اردو ادب کا قابل فخر سرمایہ ہے جوش کے ہم عصروں میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور حفیظ جالندھری جیسی نابغہٴ روزگار شخصیتیں تھیں، اس کے باوجود جوش نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ جہاں پاکستان میں راغب مرادابادی، خورشید علی خاں اور محمد علی صدیقی نے ان کے فن پر کام کرکے جوش شناسی کی فضا پیدا کی وہیں بھارت میں ان پر قابل ذکر کام نہیں ہو سکا۔
جامعات میں جو تحقیقی کام ہوا وہ اعلی درجے کا نہیں ہے اس کے علاوہ اردو اکادمیوں اور دوسرے اردو اداروں نے بھی جوش شناسی میں کوئی پہل نہیں کی۔
ڈاکٹرعصمت ملیح آبادی کی مرتب کردہ کلیات کے اجرا کے موقع پر لکھنئو میں منعقدہ جلسے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر شارب ردولوی نے کہا ‘ یہ المیہ ہے کہ جوش جیسے عبقری شاعر کو اتنے کم عرصے میں فراموش کر دیا گیا۔ حالانکہ ابھی ان کے انتقال کو ربع صدی ہی گزری ہے مگر اس درمیان ان پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ اس عرصے میں جوش شناسی کی روایت کو مستحکم ہونا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اب بھی اردو اداروں کو اس جانب توجہ کرنی چاہیئے، کیونکہ جوش ماورائے عصر شاعر ہیں۔’
جوش کے 15 شعری مجموعے شائع ہوئے تھے ان میں بیشتر اب بازار میں دستیاب نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے کئی جامعات کے نصاب میں شامل ہیں ان کی تلاش میں طلبہ کو لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ایسے میں عصمت ملیح آبادی کے ذریعہ کلیات کی اشاعت احسن قدم ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جوش نے محض نو برس کی عمر میں یہ شعر کہا تھا:
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فنِ خاندانی ہے
لیکن حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ شاعری جوش کو راس نہیں آئی کیونکہ اپنی افتاد طبع کے سبب ان کو زندگی میں بہت تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔ ساری زندگی انہیں یہی گلہ رہا کہ ان کے فن کا شایانِ شان اعتراف نہیں کیا گیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مرنے کے بعد بھی جوش کو اب تک وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کے وہ مستحق تھے۔
جوش ملیح آبادی مزاج کے عاشق تو تھے ہی لیکن انکی بذلہ سنجی بھی انکے احباب میں مشہور ہے
عبدالحمید عدم کو کسی صاحب نے ایک بار جوش سے ملایا اور کہا:یہ عدم ہیں۔عدم کافی جسامت والے آدمی تھے۔جوش نے ان کے ڈیل ڈول کو بغور دیکھا اور کہنے لگے:
عدم یہ ہے تو وجود کیا ہو گا؟
اسی طرح ایک بارجوش نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا۔لیکن اس کا جواب انہوں نے انگریزی میں دیا۔جواب میں جوش نے انہیں لکھا:جنابِ والا،میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
ایک مولانا کے جوش صاحب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔کئی روز کی غیر حاضری کے بعد ملنے آئے تو جوش صاحب نے وجہ پوچھی۔کہنے لگے:کیا بتاؤں جوش صاحب،پہلے ایک گردے میں پتھری تھی اس کا آپریشن ہوا۔اب دوسرے گردے میں پتھری ہے۔
میں سمجھ گیا۔جوش صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔الله تعالیٰ آپ کو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔
کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔اکثر شعراء آدابِ محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کیے جا رہے تھے۔گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا: قبلہ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا: منافقت۔اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔
سوزِ غم دے کر مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
برسات کی رات
بھری برسات میں، جس وقت آدھی رات کے بادل
سیہ پرچم اڑاتے ہیں، بُجھا کر چاند کی مشعل
مکاں کے بام ودر بجلی کی رو میں جب جھکتے ہیں
سُبک بوندوں سے دروازوں کے شیشے جب کھٹکتے ہیں
سیاہی اتنی چھا جاتی ہے جب ہستی کی محفل میں
تصور تک نہیںرہتا سحر کا، رات کے دل میں
ستارے دفن ہو جاتے ہیں جب آغوشِ ظلمت میں
لپک اٹھتا ہے اک کوندا سا جب شاعر کی فطرت میں
معاً اک حور اس روزن میں آ کر مسکراتی ہے
اشاروں سے مجھے اپنی گھٹاؤن میں بلاتی ہے
اندھیری رات
تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ
ایک میں، اور یہ اندھیری رات کی خونی سیاہ
کون ہے اُلجھی ہوئی شاخوں کے اندر بے قرار
کون مجھ کو گھورتا ہے جھاڑیوں سے بار بار
کون یہ آواز دیتا ہے کہ آتا کیوں نہیں
پردہ ہائے محملِ ظلمت اٹھاتا کیوں نہیں
ہاں لپک اُٹھا وہ کوندا سا دلِ سرشار میں
اب میں سمجھا کون ہے اِن پردہ ہائے تار میں
مجھ سے ملنے آئی ہے رتھ میں اندھیری رات کی
ہو نہ ہو یہ رُوح مُضطر ہے بھری برسات کی
بے تعلق ہوں دين و دنيا سے
حب ِ ثروت، نہ فکر ِ جنت ہے
نہ مجھے شوق ِ صبح ِ آسائش
نہ مجھے ذوق ِ شام ِ عشرت ہے
نہ تو حور و قصور پر مائل
نہ تو ساقي و مے سے رغبت ہے
نہ تقاضائے منصب و جاگير
نہ تمنائے شان و شوکت ہے
کيا کروں گا ميں نعمتيں لے کر
ميري ہر سانس ايک نعمت ہے
تجھ پہ روشن ہے، اے مرے مولا!
کہ مرے دل ميں سوز ِ وحدت ہے
“تيرے انعام” کي نہيں خواہش
بلکہ مجھ کو “تري” ضرورت ہے
تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے
انہيں اس کي نہيں پروا، کوئي مرتا ہے، مر جائے
دعا ہے ميري اے دل تجھ سے دنيا کوچ کر جائے
اور ايسي کچھ بنے تجھ پر کہ ارمانوں سے ڈر جائے
جو موقع مل گيا تو خضر سے يہ بات پوچھيں گے
جسے ہو جستجو اپني، وہ بے چارہ کدھر جائے؟
سحر کو سينہ ِ عالم ميں پر توَ ڈالنے والے
تصدق اپنے جلوے کا، مرا باطن سنور جائے
حيات ِ دائمي کي لہر ہے اس زندگاني ميں
اگر مرنے سے پہلے بن پڑے تو جوش مر جائے
۔۔۔۔۔۔
تجھے اس سے زيادہ کوئي سمجھا ہي نہيں سکتا
خدا وہ ہے جو حد ِ عقل ميں آ ہي نہيں سکتا
مرا دل عزت ِ فاني پہ اترا ہي نہيں سکتا
ترے دھوکے ميں اے دنيا کبھي آ ہي نہيں سکتا
رموز ِ معرفت کو معني ِ بے لفظ کہتے ہيں
يہ وہ باتيں ہيں جن کو ناطقہ پا ہي نہيں سکتا
جو ہر جنبش کے پيچھے اک سکوں محسوس کرتا ہے
کبھي وہ اضطراب ِ دل سے گھبرا ہي نہيں سکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اگر واپس نہ آتي بحر ِ ہيبت ناک سے
حشر کے دن تک دھواں اٹھتا بطون ِ خاک سے
ہات آ جاتا اگر تيرا نہ ميرے ہات ميں
دل پہ کيا کچھ بيت جاتي اس اندھيري رات ميں
اف وہ طوفاں، وہ بھيانک تيرگي، وہ ابر و باد
وہ ہوائے تند باراں، وہ خروش ِ برق و رعد
اور اس طوفان ميں، اے زندگي کي روشني
کود پڑنا وہ سمندر ميں ترا يک بارگي
اس دل ِ سوزاں ميں آتے ہيں بلا کے زلزلے
آسماں روتا، زميں ہلتي، ستارے کانپتے
موت، اور پھر موت تيري، الحفيظ و الاماں
ہڈيوں سے آنچ اٹھتي، اور بالوں سے دھواں
تو اگر واپس نہ آتي بحر ِ ہيبت ناک سے
حشر کے دن تک دھواں اٹھتا بطون ِ خاک سے
۔۔۔۔۔
زندگي خواب ِ پريشاں ہے، کوئي کيا جانے
موت کي لرزش ِ مژگاں ہے، کوئي کيا جانے
رامش و رنگ کے ايوان ميں ليلائے حيات
صرف اک رات کي مہماں ہے کوئي کيا جانے
گلشن ِ زيست کے ہر پھول کي رنگيني ميں
دجلہ ِ خون ِ رگ ِ جاں ہے کوئي کيا جانے
رنگ و آہنگ سے بجتي ہوئي يادوں کي برات
رہرو ِ جادہ ِ نسياں ہے کوئي کيا جانے
چاند کے انتظار ميں تارے
کس نے وعدہ کيا ہے آنے کا
حسن ديکھو غريب خانے کا
روح کو آئينہ دکھاتے ہيں
در و ديوار مسکراتے ہيں
آج گھر گھر بنا ہے پہلي بار
دل ميں ہے خوش سليقگي بيدار
جمع ساماں ہے عيش و عشرت کا
خوف دل ميں فريب و قسمت کا
سوز قلب کليم آنکھوں ميں
اشک اميد و بيم آنکھوں ميں
چشم بر راہ شوق کے مارے
چاند کے انتظار ميں تارے
سورہء رحمٰن کا منظوم ترجمہ بقلمِ جوش ملیح آبادی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اے فنا انجام انساں کب تجھے ہوش اٌئے گا؟
تیر گی میں ٹھو کریں اٌ خر کہا ں تک کھائے گا؟
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا؟
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٰٹھ جائے گا؟
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
یہ سحر کا حسن یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ یہ سبزہ یہ کلیاں دلربا
یہ بیاباں یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
خلد میں حو ریں تیری مشتاق ہیں اٌنکھیں اٰٹھا
نیچی نظریں جنکا زیور جنکی اٌرائش حیا
جن و انساں میں کسی نے ھی نہیں جنکو چھُوا
جنکی باتیں عطر میں ڈوبی ہوئ جیسے صبا
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
اپنے مرکز سے نہ چل منھ پھیر کر بہر خدا
بھولتا ہے کوی اپنی ابتدا و انتہا؟
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم سانسیں جھو متی ہیں رقص کری ہے صبا
پھل وہ شا خوں میں لدے ہیں دلفریب و خوشنما
جنکا ہر ریشہ ہے شہد و قند میں ڈوبا ہوا
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
پھول میں خوشبو بھری جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن خوشنما
آگ سے شعلہ نکالا ابر سے آب صفا
کس سے ہو سکتا ہے اسکی بخششوں کا حق ادا؟
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
ھر نفس طوفان ہے ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض و سما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیاء
کب تک اٌ خر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا ؟
جوش ملیح آبادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی لندن












