مجھے موسموں کی خبر نہیں۔ ثانیہ شیخ

1
1193

مجھے موسموں کی خبر نہیں
میری شاخ شاخِ ثمر نہیں

رہِ عشق خیر تیری ہو اب
یاں کسی کو شوق ِسفر نہیں

تمہیں اپنی رکھنی ہے خود خبر
یہاں باخبر کو خبر نہیں

ہوا اب یہ اپنے پہ منکشف
یہ سفر تو میرا سفر نہیں

میرے اردگرد ہجوم ہے
کوئی چارہ گر ہاں مگر نہیں

ثانیہ شیخ

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY