مجھے موسموں کی خبر نہیں
میری شاخ شاخِ ثمر نہیں
رہِ عشق خیر تیری ہو اب
یاں کسی کو شوق ِسفر نہیں
تمہیں اپنی رکھنی ہے خود خبر
یہاں باخبر کو خبر نہیں
ہوا اب یہ اپنے پہ منکشف
یہ سفر تو میرا سفر نہیں
میرے اردگرد ہجوم ہے
کوئی چارہ گر ہاں مگر نہیں
ثانیہ شیخ














ہوا اب یہ اپنے پہ منکشف
یہ سفر تو میرا سفر نہیں
واہ