انڈونیشیا میں بدھ کو آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ جمعرات کو بھی امدادی ٹیمیں عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

جزیرہ سماٹرا کے شمالی حصے میں آنے والے 6.5 شدت کے زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بس ہو گئی تھیں اس میں 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ہنگامی امداد کے ادرے کے حکام اور کارکنان متاثرہ افراد میں امدادی اشیا تقسیم کر رہے ہیں جب کہ طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اپیل بھی کی جا رہی ہے۔

ہزاروں افراد نے رات مساجد، عارضی پناہ گاہوں اور کھلے آسمان تلے گزاری۔ حکومت نے صوبہ آچے میں دو ہفتوں کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ جزیرہ سماٹرا اسی صوبے میں واقع ہے۔

امدادی کاموں میں ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ کارکنان مصروف ہیں اور حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرے گی۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ترجمان سوٹوپو پروو نوگرہو کے مطابق جمعرات کی صبح تک 102 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہم اب زندہ بچ جانے والے متاثرین پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔”

بتایا جاتا ہے کہ بدھ کی رات تقریباً آٹھ ہزار افراد نے عارضی پناہ گاہوں میں قیام کیا جن میں انڈونیشیا کے ریڈکراس نے کمبل اور بنیادی اشیائے ضروری تقسیم کیں۔

مہاجرت کی بین الاقوامی تنظیم “انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن” نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بھی صوبہ آچے میں اپنے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں جو نقصانات کا اندازہ لگائیں گے اور ان کے کارکنان مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY