غور کر اے انسان کے وہ کیا ہے کے جو نہیں ملتا۔فائزہ عباس

0
669

جن چیزوں کو مدرسوں، گھروں، اساتذۂ کی محفلوں، میں نہیں سکھایا جاتا۔ ۔ ۔
انکو تلاش کر۔ ۔ ۔
انکی جستجو فطرت میں پیوست ہے اپنی فطرت کو اجاگر کر۔ ۔ ۔کے طبیعتوں کا غلبہ جب فطرت پہ پڑجاتا ہے تو انسان گمراہ ہو جاتا ہے، بھٹک جاتا ہے، یا پھر ادھورے پن میں، محرومیوں کو اپنانا اور ان پہ رونا دھونا سیکھتا ہے۔ ۔ ۔نہ کے حل نکالنا سیکھتا ہے۔ ۔ ۔

جو تمہیں تمہارے مدرسوں، سکولوں، گھروں، یا سیکھنے کے مراکز سے نہیں ملتا کبھی غور کر اے انسان کے وہ کیا ہے کے جو نہیں ملتا۔ ۔ ۔؟

تو اسکو تلاش کر۔ ۔ ۔انکو صحراوں میں ڈھونڈ، انکو ویرانیوں میں تلاش کر۔ ۔ ۔
کبھی جا کر بیٹھ خلوتوں
میں کبھی طہارت میں تلاش کر ایسا صدف بن کے تجھ سے جوہر تخلیق ہوں۔ ۔ ۔
تجھ میں گوہر قیام پزیر ہوں ۔ ۔ ۔اپنی وجود ہستی کو کچھ تو ایسا خاص کر۔ ۔ ۔
اے وقت کے انسان تو کچھ تو احساس کر۔ ۔ ۔!!!!
۔ ۔ ۔کے وہ آخر کیا ہے جو نہیں ملتا اور کیوں ۔ ۔ ۔؟

جب فطرت پاکیزہ ہو تو عشق جنم لیتا ہے اور جس وجود کی سرزمین پہ عشق سرداری کرے وہاں درد کا راج ہوتا یے۔ ۔ ۔

اور جہاں درد راج کرے وہاں جنون کی کیفیت ہوتی ہے اور جہاں جنون کو فطرت، عشق اور درد کے بندھن میسر آجائیں وہاں پہ غلامی نہیں ہوتی، مایوسی نہیں ہوتی، خفگی، کم ہمتی، جھکاو، رکنا، ٹھرنا، سکوت ،خود غرضی، لاتعلقی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔

وہاں یقین ہوتا ہے۔ ۔ ۔امید ہوتی ہے۔ ۔ ۔حرکت، جہد، آگے بڑھنا، بیداری، شعوری ہر حرکت،
ہر شے بوجہ تسکین جنون، تسکین روح، تسکین جان عشق ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
وہاں اصول ہوتے ہیں عشق و جنون میں شامل خود کی چاہت نہیں ہوتی۔ ۔ ۔خود کی عقل، جزبات، کارفرما نہیں رہتے پھر، جستجو اپنے محبوب کی فقط خوشی نہیں ہوتی بلکہ اسکی رضا کے ساتھ راضی رہتے ہوئے زمہ داری لی جاتی ہے۔ ۔ ۔اپنی بندگی کے عروج کی ہر لمحہ ایک سعی ہی نہیں ہوتی بلکہ ہر اس رسم و رواج، ظلم،باطل، طاغوت، اور بے عدلی کا سر اصولوں، دانشمندی، جزبات سے پرے رہ کر عدل و انصاف کے ان حقیقی اصولوں کے مطابق کوشش ہوتی ہے جو کسی پھول پودے کو بھی نقصان نہیں پہنچاتے۔ ۔ ۔ ایک زرہ زمین بھی ان سے سوا خیر کے کچھ نہیں پاتا اور ایک زرہ طاغوت، ظلم و باطل بھی ان سے اطمینان سے نہیں رہ سکتا کے انکی بے خوفی نظام ظلم کو اسطرح سے اکھیڑ پھینکتی ہے کے جیسے زلزلے کے باعث پورے کا پورا شہر زمین بوس ہو جائے اور شایبہ تک نہ رہے کے کبھی یہاں شہر بھی بستا تھا۔ ۔ ۔

معرفت سے طواف کرتا ہو وجود جن کا۔ ۔ ۔
انکے وجود میں کچھ ایسی روشنی ہو گی۔ ۔ ۔

کے طواف واجب اور ہے، طواف جنوں اور۔ ۔ ۔
ایسے کب، کسی نے، کہاں، بھلا

دمکتے ستاروں سی رات ہی دیکھی ہو گی۔ ۔ ۔
کے جو مشاہدے کر سکیں زات برحق کا۔ ۔ ۔

اس جنوں میں کیسی طہارت کی روح ہو گی۔ ۔ ۔

علم تو بس سوال کرتا ہے، قانع کہاں کر سکتا ہے۔ ۔ ۔
عشق کمال کرتا ہے، حضور جمال دیتا ہے ۔ ۔ ۔
علم صفات عشق اور عشق تماشئہ زات ۔ ۔ ۔

عشق ہے روح میں درد،
آنکھ میں آنسو۔ ۔ ۔

علم ہے صفات و خوبیاں،

پڑھنے سے روشنی جو سچ میں لے لیتے ہیں وہ درد کے سمندر کو اپنا دراصل گھر کر لیتے ہیں ۔ ۔ ۔
جو بدل جاتے ہیں اور بدل دیتے ہیں، اپنے چار سو حق کو سحر دیتے ہیں، ہوتی ہیں ازانیں جو بیدار کرتی ہیں روحوں کو وہاں ازہان بھلا کہاں سو کر اٹھتے ہیں، بیدار فکرو قلب کے مالک
در اصل عشق کے مہاجر ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔!!!!

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY