سپریم کورٹ نے غیر قانونی جرگوں سے متعلق کیس میں چاروں صوبائی اور گلگت بلتستان حکومت سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ملک میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں، وہ آئین سے متصادم ہونے کے ساتھ عالمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں غیر قانونی جرگوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ قائم مقام چیف جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صوبے میں غیر قانونی جرگے کا کوئی کیس نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی پنجاب سے بھی جرگے کے کیس آ جاتے ہیں۔ جرگے اور پنچایتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کرتے، عدالت کی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں، وہ آئین سے متصادم ہونے کے علاوہ حکومت پاکستان کے عالمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
عدالت نے معاملے پر چاروں صوبائی اور جی بی حکومت کو 6 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔












