امام حسین علیہ السلام وہ ثخصیت ھیں اگر انسان کا ضمیر بیدار ھے تو آپ ع ۔س کی قربانی آپ کی شجا عت آپ کے صبر اور آپکی ثابت قدمی سے متا ثر ھوئے بغیر نھیں رہ سکتا دین اسلام کی بنیاد انکے نانا رسول خدا نے رکھی اور اسی دین کی عصمت اور قائم رکھنے زند ہ و جاوید رکھنے میں امام عالی مقام کا ھی ھاتھ ھے – آج میں بات کرونگی ایک سفر کی ، کہ جس سفر کے سامنے دنیا کے تمام سفر اجتماع کی بات کی جائے تو بالکل الگ انداز میں کی جائے گی – اس سال چہلم امام حسین پہ مجھے جانے کی سعادت نصیب ھوئی اس سفر کی رودات اپنے احساس کے ساتھ آپکو بتانا چاھونگی –

ھمارا سفر ملتان شہر سے شروع ھوا ھمارا اسلئے لکھا کہ یہ باور کرا دوں میرا جانا ایک قافلہ کے ساتھ ھوا – بہر حال ملتان سے صبح 10 بجے ھماری روانگی تھی بورڈنگ کراتے 11 بجے تک جہاز روانہ ھوا اور ھم قطر پہنچے واضع رھے کہ ھمیں قطر کے دوحہ ایر پورٹ پر رکنا تھا پھر آگے بغداد کی فلائٹ تھی غرض یہ کے بغداد سے پھر آگے بسوں کے زریعے تمام زیارات کے لئے جانا تھا کوئی تین یا پونے تیں گھنٹہ کے بعد ھم قطر دوحہ پہنچے دوحہ کا ایر پورٹ دنیا کے بڑے آور بھترین ایر پورٹ میں شمار ھوتا ھے ۔ وہاں جاکر دیکھا تو ایسا ھی تھا جدید طرز پہ بنا کئ سو ایکڑ پر تعمیر کیا گیا یہ ایئر پورٹ دیکھنے سے تعلق رکھتا ھے لیکں ھمیں جو لگن تھی جو تمنا تھی اس میں اس دنیا کی ہر چیز کی چمک کم دیکھائی دے رھی تھی کافی دیر انتظار کے بعد اگلی پرواز کا عندیہ دیا گیا یوں ھم اگلی منزل کی طرف روانہ ھوئے یوں رات کی ڈھائی بجے کے قریب ھم بغداد پہنچے بغداد سے ائر پورٹ کی گاڑیاں ھمیں عا م بس سٹینڈ کے قریب چھوڑ کر آئیں ، جہاں سے پھر وین کے زریعے ھم کربلا کے لئے روانہ ھوئے

ساری رات جاگتے صبح سے ھی سفر میں تھے لیکن اپنی منزل پر پہنچنے کا شوق اور چاہت نے زرا برابر بھی تھکن کا احساس نھیں ھونے دیا بغداد سے سا ڑھے تین گھنٹے کا سفر ھے کربلا کا لیکن رش کے باعث جگہ جگہ ٹریفک بلاک کی وجہ سے ھم پانچ گھنٹے سے بھی زائد میں کربلا کی سر زمین پر پنہنچے ادھر بھی ھمیں ویگن نے تقریبا 12 کلو میٹر شہر سے دور اتار دیا کیوں کہ کربلا کی حدود میں رش کی وجہ سے گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا اب گاڑیوں سے اتر کر ھم نے پیدل چلنا شروع کیا ، راستہ میں عراقی عوام کی مہمان نوازی انکی فراخدلی اور امام عالی مقام سے انکی محبت دیکھ کر آنکھ حیران رہ گئی جگہ جگہ موکب سجائے گئے تھے موکب ایسی جگہ کو کھتے ھیں جو خدمت خلق کے لئے کسی انجمن یا این جی او کی طرف سے مفت عوام کی خدمت کے لیئے لگائے جاتے ھیں یہ ایک بہت بڑے ٹینٹ کو لگا کر بنایا جاتا ھے جس میں ہر انے والے مسافر یا زائر کے لئے بستر آرام کرنے کے لئے اور کھانے کے لئے خوراک کا بندوبست ھوتا کافی جگہ موکب میں ادویات کا یا طبعی سہولیات کا بھی انتظام ھوتا ھے

موکب کے پچھلی طرف زائروں کے لئے عسل خانے کی سہولت بھی ھوتی ھے جہوں غسل خانے نا بنائے جا سکیں وہاں کے رھائیشی اپنے گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ دیتے ھیں کسی گھر میں خواتین کے لئے غسل کا انتظام کیا جاتا ھے کسی گھر میں مردوں کے لئے غرض اس خدمت کے لئے گھر والے رات دین اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے ھیں اور صفائی کے لیئے بھی بہت اچھا انتظام کیا جاتا ھے اسی طرح کافی گھروں میں کھانے پینے کا بھی انتظام کیا جاتا ھے جہاں پر گھر مکین باہر ٹہر کر زائر ، زائر کی آوازیں لگا کر زائرین کو بلاتے ھیں کافی جگہ تو عورتیں مرد ہاتھ جوڑ کر منتیں کر رھے تھے کہ ھمیں موقع دو خدمت کا ھمارے گھر چلو کچھ کھا پی لو ، دس کلو میٹر تک یہ موکب تھے جگہ جگہ ھم نے بھی ایک موکب میں رک کر چائے پی جو دودھ کے بغیر عراقی قہوہ تھا عراقی اور ایرانی دودھ کے بغیر ھی چائے پیتے ھیں لیکن کافی جگہ پر مانگنے پر خشک دودھ کے پیکٹ بھی دئے جارھے تھے تاکہ باہر سے آئے لوگ اگر قہوہ نا پیتے ھوں تو اس میں دودھ ڈال لیں ، میں تمام راستہ بڑے غور سے ایک ایک علاقہ کو دیکھتی رھی تھی

کافی جگہ تباھی اور جنگ کے آ ثار تھے عراق میں کافی عرصہ سے جنگ ھو رھی ھے تو کئی بڑی بڑی عمارتیں کھنڈر کا ڈھیر بنی ھوئیں ھیں کافی جگہ تو پانی جوہڑ بنے ھوئے ھیں جو یقینا بم باری کی وجہ سے زمین میں گہرائی تک پانی نکلا ھو گا ، لوگ کے حلیہ کو دیکھ کر بھی عراقی عوام کی حالت کا اندازہ ھو رہا تھا لیکن ان کے جزبے انکی امام حسین اور دیگر آئمہ کرام سے عقیدت ایک معجزہ اور نا قابل یقین حقیقت ھے – کافی لوگوں سے سنا کے عراق میں نو بہاتا دلنھیں اپنے جھہز کو استعمال نھیں کرتی جب تک کے امام کے زائروں کے لئے لگائے گئے موکب میں نا دے دیں اس کام کے لئے انکو چاھے سال بھر کیوں نا انتظار کرنا پڑے یہ امام عالی مقام کا سب سے بڑا معجزہ ھے کہ جو خود بھوک اور پیاس کی شدت سے دنیا سے پردہ فرما گئے لیکن اپنی زیارت کو آنے والے کسی بھی انسان کو کوئی کمی یا تکلیف نھیں ھونے دیتے سلام ھو میرے مظلوم امام علیہ السلام آپکی عظمت اور ریاضت اللہ کے ہاں تو مقبول ھے لیکن آپ کی یہ کرامت بے دین لوگ بھی مانتے ھیں کافی غیر مسلم چینل فلمیں بنا کر اپنی حیرت کا اظہار کر رھے ھیں اور عراقی عوام کی اس خدمت کو ایک سبق ایک مثال بنا کر دنیا میں عام کرنا چاھتے ھیں کیوں کہ انسانی قدروں کی جو شکل عراق میں نظر آتی ھے اسکی مثال دنیا میں کھیں نھیں ملتی ۔ ایک سعودی خاتون جو صحافی ھیں انھوں نے بھی اپنی حکومت کو مخاطب کر کے قلم اٹھایا ھے اور بے دھڑک کہا ھے کہ اتنا پیسہ لینے اور اتنا خوشحآل ملک ھونے کے باوجود کیا ھمارے ملک میں اسی طرح کی کوئئ سھولت باہر سے آنے والے کو نھیں دی جا سکتی ؟

اب بات کی جائے امام علیہ اسلام کے دربار میں حاضری کی ، کافی چلنے کے بعد ھم کربلا امام کے حرم کے نزدیک پہنچے ۔ پہلے حضرت عباس علمدار کا مزار آیا اندر نھیں گئے باہر ٹھر کر سلام پیش کیا کیوں کہ سب کے ہاتھ میں سامان تھا اور ہوٹل میں پہنچنا تھا ، ھوٹل پہنچے سامان رکھا وضو کیا اور پھر امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کی طرف گئی کافی بھیڑ تھی راستہ میں تھوڑا سا فاصلہ بھی دیر میں طے ھوا لیکن زیارت کی خوشی اور عقیدت کے اس سفر میں کسی مشکل کی پیش نھیں چل رھی تھی نا رات کا جاگنا نا اتنا میل تک پیدل چلنا کچھ بھی یاد نھیں رہا تھا ،

امام حسین ع ، س کے حرم میں داخل ھوئے تو یوں محسوس ھوا جیسے کوئی بادشاہ کے حضور پیش ھونے ائے ھیں پھر حضرت علی اکبر حضرت قاسم حضرت علی اصغر بھی انھیں کے ساتھ مد فون ھیں انکی شہادت اور ان پر کئے گئے مظالم سے دل خون کے آنسو رو رہا تھا خود پہ قابو رکھنا مشکل تھا میں سوچ رھی تھی وہ وقت جب جناب علی اکبر کے سینہ سے امام مظلوم نے برچھی نکالی کیا گزری ھو گی دونوں پر ، پھر کم سن بھتیجے حضرت قاسم کے جسم اقدس جو کافی تکڑوں بٹ چکا تھا کیسے ھمت کر کے چنا ھو گا اپنے یتیم بھتیجے کے نرم نازک جسم کے ٹکڑوں کے یہ سب سہنے کے لیئے حسین جیسا حوصلہ صبر اور خدا پہ یقین چاھئے جو عام انسان کے بس میں نھیں ھے ۔ حبیب ابن مظاہر کا مرقد وھیں ھے ادھر حاضری دے کر حظرت غازی عباس کے مزار پر گئی غازی عباس علمدار کے مزار سے وفا ، شجاعت اور دین محمدی کی پاس داری کی خوشبو آتی ھے ، یہ احساس ھوتا ھے جس ہستی کے حضور پیش ھے اس پر تمام وفائیں محبتیں و عقیدتیں ختم ھیں – اسی عقید ت محبت اور روحانیت کے ساتھ 6 روز کربلا رھنے بعد نجف کا سفر کیا جہاں مولا کائنات کی بادشاہی ھے رسول خدا کی احادیت کو یار کر کے دل پھولے نھیں سما رہا تھا کہ کس ھستی کی زیارت کو آئے ھیں کے سر کار دو عالم کا ارشاد ھے علی کا نام لینا بھی عبادت ھے ، پھر یا علی میرا گوشت تمھارا گوشت ھے میرا خون تمھارا خون ھے میرا نفس تمھارا نفس ھے ۔ میں شہر علم ھوں اور علی اسکا دروازہ ھیں –

نجف میں دو دن رھ کر اگلی منزل سامرہ تھی وہاں امام عسکری ع ۔س امام تقی ، اور انکے گھرانے کی مستورات مطہرات کے مزار پر حاضری دی امام حسن عسکری اور امام تقی علیہ السلام دونوں اپنے اپنے دور کے بادشاھوں کے ستم کا نشانہ بنے حق کا پیغام پہنچانے اور اللہ کی توحید اور رسول خدا کی شریعت کی بات کرنے کی پاداش میں انکی زندگیاں تک چھین لی گئیں یہ بھی مظلومیت کی زندگی گزار کر بربریت کا شکار ھو کر دنیا سے رخصت ھوئے ، ادھر کی حاضری دے کر کاظمین کی طرف گئے جیاں امام موسی کاظم کا مزار شریف ھے یہ مظلوم امام اپنی تمام زندگی حق کی بات کرنے اور اللہ کا پیغام عام کرنے کی پاداش میں تمام عمر زندان میں رھے اور آکر زہر دے کر شہادت کی موت سے دنیا سے رخصت ھوئے غرض ہر معصوم کی زیارت کر کے دنیا سے دل اٹھ جاتا ھے حق کی بات کرنا اتنا بڑا جرم ھے اور پر ان ہستیوں کی ثا بت قد می سے خدا کے وجود پر یقین اور بھی پختہ ھو جاتا ھے ۔ یوں امام موسی کاظم زریت رسول کی حاضری دینا ھمارے سفر کا آخر تھا

اب آخر میں ایک بات بھی کسی اور جانے والے زائر کی رہنمائی کے لئے بتاتی چلوں آپ لوگ اگر مقدس سفر پر جائیں تو کسی واقف جاننے والے پر اعتماد انسان پر یقین کریں جو قول و فعل کا پاس کرنا جانتا ھو کیون کہ اکثر قافلہ والے ایجنٹ حضرات لٹیرے ھیں پیسے بچانے کے چکر میں زائرین کو بہت پریشان کرتے ھیں ھمارے قافلہ سلار نے بھی بہت تنگ انتہائی بد نظمی بد اخلافی کا مطاھرہ کیا جو پیسے لینے تک تو اور لہجہ تھا جب پیسے تمام ادا کر دئے اور پردیس میں پہنچے تو یک دم اسکا رویہ لہجہ بدل گیا ٓ سفر میں دشواریاں تو ھوتی ھی ھیں کہ گھر جیسا آرام سکون نھیں ملتا اوپر سے کسی بد اخلاق بد زبان آدمی کے ساتھ سفر کرنا سفری تکلیف کو بڑھانے نے مترادف ھے
رافیعہ گیلانی۔ راجن پور












