اردو ادب میں بہت کم ایسی نظموں کی مثال دی جا سکتی ہے جو آپ کے فکری سوتوں کو بیدار کرے ۔ ہمارے اردو ادب میں تو نہیں لیکن مغرب کے اعلی ادب میں ناقدین نے یہ بات زور دے کر لکھی ہے کہ جو شاعری آپ کو سوچنے پر مجبور نہ کرے وہ بہت کچھ اور تو ہو سکتی ہے لیکن شاعری نہیں ۔ پھر غزل کے مقابلے میں نظم میں جامعیت اور وسعت زیادہ موجود ہے کہ آپ قافیہ ردیف کی پابندی سے آزاد ہو کر اپنی بات کو پوری قوت سے بیان کر سکتے ہیں ۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ غزل کے مقابلے میں نظم میں فکری ، فنی اور ہیتی تجربات کی بہت زیادہ گنجایش موجود ہے ۔
یہ بہت مختصر سی تمہید اگرچہ خالد ندیم شانی کی اس نظم کے تبصرے کے طور پر توکافی تھی لیکن مجھے اس کے اس پہلو کی جانب قاری کو متوجہ کرنا ہے جو اس نظم کا جوہر ہے ۔ پوری نظم ایک طرف اور نظم میں “ دائرے اور عمودی “ کے دو الفاظ ایک طرف ۔ میرے اپنے ذاتی خیال میں یہ نظم ایک فکری تجربہ بھی ہے کہ ایک ہی وقت میں قاری کی فکر کی کتنی ہی پرتوں کوکھولتی ہے اور بیدا رمغز قاری کتنی جہتوں سے لفظوں کی اس کہکشاں کو فکر کی دوربین سے مشاہدہ کرتا ہے ۔
میں نے جن دو الفاظ “عمودی اور دائرے “ کو اس نظم کاجوہر قرار دیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ میری سمجھ میں آنے والا خالق کائینات کا نظام کائینات ہے ۔ “ حیات اور نظام حیات “ دو ایسے ہی الفاظ ہیں ۔ یعنی “ حیات دائرہ ہے“ اور “ نظام حیات “ اپنے عمودی سفر کے ساتھ رواں ہے ۔ حیات کا دائرہ اپنی ابتدا پر پیدائیش ، شیر خواری ، بچپن ، لڑکپن ، نوجوانی ، جوانی ، ادھیڑ عمری اور بڑھاپا ، دائرے کی آخری شکل ہے جو ایک سا ہے ۔ لیکن نظام حیات اسی حیات کی ہر سیڑھی پر اپنے عمودی سفر کی جانب رواں دواں رہتا ہے ۔
سورت البقرہ کی آیت ایک سو چوسٹھ میں خالق کائینات نے فرمایا کہ “ ارض و سماء کی تخلیق اور اختلاف لیل نہار ، سمندروں میں تیرنے والی مفید کشتیوں اور اس گھٹا میں جو زمین اور آسمان کے درمیان خیمہ آراء ہیں ، ارباب عقل کے لیئے نشانیاں موجود ہیں ۔۔۔ “
پھر سورہ جاثیہ کی آیت نمبر چار میں فرمایا “ زمین و آسمان کی پیدائیش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اہل یقین کے لیئے فکر و دانش کی باتیں ہیں “
عزیزس دوستو !
فکر و تدبر کا یہ رستہ ہی نظام حیات کا عمودی سفر ہے ۔۔۔ اسی سفر کو اختیار کرنے کے لیئے اللہ پاک نے سورہ عنکبوت کی آیت نمبر بیس میں اپنے حبیب سے کہا “ اے رسول ! دنیا ئے انسان کو حکم دے کہ وہ زمین پر چل پھر کر دیکھے کہ خدا نے کس طرح اس کائینات کی ابتدا کی اور پھر اسے سجایا “
میری نظر میں خالد ندیم شانی کی نظم میں “ عمودی سفر “ مطالعہ کائینات کی طرف اشارہ ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قران پاک میں ، وضو، نماز ، صوم و زکوات ، حج ، طلاق اور قرض جیسے کئی اور معاشرتی مسائل پر صرف ایک سو پچاس آیات آئی ہیں اور مطالعہ کائینات پر سات سو چھپن آیا آئی ہیں ( حوالہ ؛ ڈاکٹر غلام جیلانی برق “ کتاب ؛ دو قران “ ) ۔ یقین جانیئے اگر قران ہمیں زمین کے دفینوں اور اس کی ارض پر پھیلے خزانوں کا نہ بتا تا تو نعوز باللہ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا دعوی غلط ہو جاتا ۔ جہازوں ، کشتیوں ، پلوں ، سڑکوں ، روشنیوں کا علم ، ستاروں سے آگے کا جہاں ۔۔ آسمانوں کا سفر ۔۔ یہ سارے نظام حیات کے عمودی سفر ہیں جو ہم نے صرف حیات کے دائرے میں بند کر دیئے ہیں ۔
ہم نے قران کو فقط کار ثواب کی کتاب سمجھا ہے جبکہ قران خود بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ ہم قران کوپڑھناثواب سمجھتے ہیں ۔ قران عمل کو ثواب کہتا ہے ۔ ہم قران کو تیز تیز پڑھتے ہیں جبکہ قران خود کہتا ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر سمجھ سمجھ کر پڑھو ۔ یقین جانیئے فکر کا یہ عمودی سفر ہم اپنی ناداستگی کی وجہ سے دائرہ بنا دیتے ہیں ، اور پھر حیات اور نظام حیات میں الجھاؤ پیدا کر لیتے ہیں ۔
اب میں یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ بہت ممکن ہے کہ شاعر نے نظم لکھتے ہوئے اور خاص طور پر یہ دو الفاظ “ دائرے اور عمودی سفر “ استعمال کرتے ہوئے ایسا کچھ بھی نا سوچا ہو جو تشریح میں نے کی ہے لیکن میں اسی کوشاعر کی کامیابی قرار دیتی ہوں کہ اس کی ان دو الفاظ نے مجھے ایک منفرد رخ سے سوچنے پر مجبور کیا ۔ اس نظم کو نظم کی طرح نہیں فکر کےدر کھولنے کی طرح زہن پر دستک دے کر پڑھیں تو اس میں ایک رخ “ سامری “ کابھی ملے گا ، اور یہ سامری سچ تو یہ ہے کہ مجھے کبھی “ نفس کی شرارت “ لگا تو کبھی“ ایمان کی کمزوری “ ۔۔ کج فہمی پیدا کرنے کا ماہر جادو گر سامری ہر ایک کے اندر موجود ہے جو شیشے سے چیزوں کو کچھ سے کچھ دکھا دیتا ہے حالانکہ ان کی ماہیت ، تاثیر اور اصلیت کچھ اور ہوتی ہے ۔
حیات کے عمودی سفر کو دائروں میں قید کرنے کے ماہر سامری کی ساری چالوں کو سمجھتے ہوئے بھی ہم کیوں فریب کھاتے ہیں ۔۔۔؟ خالد ندیم شانی کو اسی سوال کی بے چینی نے یہ نظم لکھوائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کیوں فریب دیتے ہو !
جو سفر عمودی ہے
اس کو کس لئے آخر
دائرہ بتاتے ہو
گردشوں کے ماروں کی گردشوں کو ماپو تم
پر ہمیں بتاؤ تم . .
ہم نے اک کہانی میں
خود پڑھا تھا بچپن میں
سامری کے ہاتھوں میں
ایک شیشہ ہوتا تھا
جب بھی اس کا جی چاہا
جس کو اس کا جی چاہا
اس کو دیکھ لیتا تھا
تم ہمیں بتاؤ ناں . .
اس جہان _ تازہ سے
اس کا کیا کنکشن تھا . .
زندگی بھی مادہ ہے روشنی بھی مادہ ہے
مادیت کے ماروں سے
کس لئے گریزاں ہو
کس لئے پریشاں ہو
جس طرف بھی جانا ہے
آؤ ساتھ چلتے ہیں
پر ہمیں بتاؤ تو . .
جو سفر عمودی ہے
کس طرح سے تم اس کو
دائرہ بناؤ گے . .
اک عمل جو جاری ہے
کس طرح سے تم آخر
اس کو روک پاؤ گے . .
کیوں فریب دیتے ہو . . .
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی ، آسٹریلیا













