تبدیلی یا عذاب۔ ایک سچا اور کربناک واقعہ

1
2575

ہمارے پڑوس میں ایک سفید پوش گھرانے کی خاتون خانہ نے اپنے محلے میں اپنی استعات کے مطابق 25۔ ہزار کی کمیٹی ڈالی اور انتظار کرنے لگی کہ کمیٹی نکلے گی تو ان پیسوں سے وہ بیٹی کے جہیز کے لیے کچھ سامان لے آئے گی۔ کمیٹی نکلنے والے مہینے سے کچھ دن پہلے وہ بازار گئی اور قیمتوں کے لحاظ سے اس نے کچھ سامان کی لسٹ بنائی۔
ایک لوہے کی پیٹی 8۔ہزار۔
کچھ کراکری 10۔ہزار تک کی
کچھ کچن کا دیگر سامان 6 سے 7 ہزار۔۔
مگر اسکی بدقسمتی کہ کمیٹی 5 ماہ لیٹ هو گئی اور بلآخر کل جب اسے کمیٹی کے پیسے ملے تو وہ بازار گئی مگر شام کو خالی ہاتھ روتی پیٹتی واپس آگئی۔
کیوں کہ 8 ہزار والی پیٹی اب 15۔ہزار کی هو چکی تھی اور اسکی کراکری کی لسٹ والا اور دیگر سامان بھی دگنی تگنی قیمت پر مل رہا تھا۔
سونے کا ریٹ پہلے ہی بہت هو چکا تھا اور اسنے اپنی بیٹی سے کہہ رکھا تھا کہ ہم شرمندہ ہیں مگر ہم تمہیں سونے کا کوئی بھی زیور نہیں دے پائیں گے۔
مگر اب وہ سوچ رہی تھی کہ اس مہنگائی کی وجہ سے شائد وہ اسے کچھ بھی نہ دے پائے گی۔
اسکے منہ میں جو بھی الٹا سیدھا آ رہا تھا وہ بول رہی تھی اور رو رہی تھی کیوں کہ بیٹی کی شادی پہلے ہی کم وسائل کی وجہ سے کافی لیٹ هو چکی تھی۔
وہ کہہ رہی تھی کہ ویسے تو مہنگائی ہمیشہ ہوتی تھی مگر اب اسکی رفتار بے قابو هو چکی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں غریب بیچارہ کہاں جائے گا۔
وہ کہہ رہی تھی کہ اگر حکومت نے اتنی مہنگائی نہیں کی تو وہ ان بے رحم دکان داروں اور تاجروں سے کیوں نہیں پوچھتی کہ یہ سب کیا ہے۔ کیوں کوئی انکو روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
کیا کوئی غریب ان حالات میں اپنی بیٹیاں باعزت بیاہ پائے گا۔
کیا حکومت اتنی گونگی بہری ہے کہ یہ تاجر جو مرضی کریں کوئی انکو پوچھ تک نہ۔
اور یہ سب دکان دار حکومت کو گالیاں بھی دیے جا رہے اور چیزیں عام آدمی کی قوت خرید سے زیادہ دام پر بیچے جا رہے۔۔۔
میرا سوال کیا مدینہ کی ریاست کا نام لے لے کر حکومت کرنے والےاور قوم کو الو بنانے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ وہاں ایک کتا بھی بھوکا مرنے کا ذمے دار وقت کا حکمران اپنے آپ کو کو سمجھتا تھا۔
کیا اس تبدیلی کےلئے لوگوں نے اس حکومت کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔
سوال ہم کم آمدنی والے آخر کب تک اس ناانصافی غربت مہنگائی اور ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔
قرضوں سے جکڑی حکومت اور قرضوں سے لدا غریب اس اشرافیہ کے ہاتھوں کب تک ذلیل و رسوا ہوتا رہے گا۔
شائد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ ۔
راجہ اشفاق۔۔۔۔۔

SHARE

1 COMMENT

  1. میری اس تحریر کو شائع کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ میں اس حوصلہ افزائی کے لیے بے حد ممنون و مشکور ہوں۔
    اللّه ہمارے اس ملک پاکستان اور اس میں بسنے والے کم آمدنی والے طبقے کا حامی و ناصر هو۔ آمین

LEAVE A REPLY