وصل میں سہارے کی کون بات کرتا ہے
دھوپ میں اجالے کی، کون بات کرتا ہے

سب ہی بات کرتے ہیں بات کرنے والے کی
کام کرنے والے کی، کون بات کرتا ہے

آگہی کے آنے سے منزلیں بدلتی ہیں
راستہ بدلنے کی، کون بات کرتا ہے

میں تو جاگتے سوتے تجھ کو یاد کرتا ہوں
یہ تجھے بھلانے کی، کون بات کرتا ہے

سب دیئے جلانے کی یوں تو بات کرتے ہیں
یوں دیئے بجھانے کی، کون بات کرتا ہے

آسماں سے گرنا تو صرف اک کہاوت ہے
گر کے سر اٹھانے کی، کون بات کرتا ہے

بخت کو تو جب دیکھو کوستے ہیں ہم طاہر
اس کو آزمانے کی، کون بات کرتا ہے

طاہر حفیظ تارڑ

SHARE

LEAVE A REPLY