ترکی میں کم از کم 81 صحافی قید ہیں۔ کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ تعداد دنیا بھر میں قید تمام صحافیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

صحافیوں کے حقوق کے نگراں ادارے نے بتایا ہے کہ 2015ء میں ملک میں 199 صحافیوں کو قید کیا گیا؛ جب کہ جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے اب تک 259 صحافیوں کو قید کیا ہے۔

سی پی جے کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی میں 81 صحافیوں پر ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں قید کیے جانے والے صحافیوں کی کثیر تعداد پر عمومی طور پر ملک دشمنی کا ہی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد، ترک صدر رجب طیب اردوان نے اب تک صحافیوں، تعلیم دانوں، فوج اور سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے فوجی بغاوت کا راستہ روکنے کے لیے اب تک ملک میں 100000 سے زائد افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔

ادھر 35000 افراد کو، جن میں فوجی حکام اور حزب مخالف کے سیاستدان شامل ہیں، بغاوت کی سازش کرنے والوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قید کیے گئے صحافیوں کی فہرست میں چین اور مصر کے بعد، ترکی کا نام آتا ہے۔ چین میں 38 جب کہ مصر میں 25 صحافی قید ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY