جوکچھ بھی آجکل دنیا میں ہورہا ہے اس کو زباں پر لانا مشکل ہے کیونکہ جھوٹ کو سچ کہنے کا رواج جڑ پکڑ گیاہے؟ دنیا سے انصاف اٹھ چکا ہے، صبر اٹھ چکا ہے،قناعت اٹھ چکی ہے عہد کی پابندی اور زبان کی پابندی بھی ان میں شامل ہے۔ اب بات بنے تو کیسے بنے یہ وہ چند بنادی باتیں ہیں جوکہ میں نے گنائیں ورنہ تو فہرست طویل ہے۔ ابتولوگ آسمان سے ستارے توڑکر لانے کے دعوے کرلیتے ہیں یہ سوچ کر کہ وعدہ خلافی آج کے معاشرے میں کوئی عیب نہیں ہے۔ چونکہ یہ باتیں عیب مذاہب کی وجہ تھیں اور مذاہب کمیونزم کی وجہ سے کمزور پڑگئے بلکہ بہت سے توختم ہی ہوگئے جو ان میں سے کچھ بچے ہیں وہ بھی رسومات تک محدود ہیں؟ آج کل اگر مقامی طور پر دیکھا جائے؟ تو دینا کے زیادہ مسائل اسی وجہ سے ہیں کہ ان کی نہ اب اہمیت ہے نہ ہی ان پر کوئی گرفت ہے۔ بہتر سال سے اقوام متحدہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائیں گے مگر آج تک وہ حل نہیں ہوسکا اسی طرح دنیا بھر کے مسائل ہیں جو حل نہیں ہورہے ہیں بلکہ بڑھتے جارہے ہیں۔ جس کی ابتدا ء یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ اسلام نے آکر دنیا کو امن کے ساتھ جینے کہ کچھ اصول دیئے اور نبی ﷺ نے ان کو اپنے اوپر نافذ کرکے دکھایا اور یہ دعویٰ سچا کر دکھا کہ “ تنہا عورت مدینہ سے یمن تک سونے میں لدی ہوئی چلی جا ئے تو بھی وہ محفوظ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیگی “ اور لوگوں نے ایسا دیکھا بھی؟ جبکہ اس سے پہلے اسی ایک قدم جانا مشکل تھا۔پھر اسی معاشرے میں برائیاں پیدا ہوئیں اور پھیلتی چلی گئی؟ وہ مسلمان جو اپنی سچائی کے لیے مشہور تھے۔ اب اس منزل کوپہنچ چکے ہیں کہ ان کے اندر دنیا بھر کی خرابیاں موجود ہیں؟ انہیں اس حالت کو پہنچایا کس نے پہلی اوردوسری جنگ عظیم نے اور ایک انہیں کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو۔ مجھے جنگ عظیم اول کاتو علم نہیں مگر جنگ عظیم دوئم کے تمام واقعات کا میں خود چشم دید گواہ ہوں1938 تک دنیا امن اور چین سے رہ تھی البتہ بالکن ممالک میں ہمیشہ کی طرح جوتم پھٹول جاری تھی، کیونکہ یورپ وہاں مسلمانوں کا وجود برداشت کر نے کو تیار نہ تھا اور ہٹلر جرمنی میں یہودیوں سے الرجک تھا اور انہیں تنگ کر رکھا تھا۔ یہ تھے وہ دومسئلے جو جنگ کا باعث بنے اور اس کے بعد آج تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکا، جو دن بھی آیا پہلے سے برا آیا؟ لوگ امیدیں باندھتے رہے اور وہ یکے بعد دیگرے ٹوٹتی رہیں مگر کوئی بھی وعدوں پر پورا نہیں اتر سکا،اس لیئے کہ دین ہمیشہ امراء کا چلتا ہے اور امرا ء کے نزدیک وعدے توڑنا اب معیوب نہیں رہا ؟ یہ کشمیر کا مسئلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے اور وعدہ خلافی کا شاہکار بھی۔ ہندوستان میں ہندو مسلمان سکھ عیسائی سب میں بڑا ایکا تھا اور امن سے رہے رہے تھے جبکہ مستقبل کے لیئے ایک معاہدہ بھی کیبنٹ مشن کی کوششوں سے ہوچکا تھا اور مسلمانوں کے قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے1945 میں آل انڈیا ریڈیو پر آکر اعلان بھی کردیا تھا کہ میں قوم کو جو زیادہ سے زیادہ لیکر دے سکتا تھا وہ لیکر دیدیا ہے وہ معاہدہ کیا تھا؟ وہ مستقبل کے ہندوستان کانقشہ تھا جس میں باعزت طور پر سب کو رہنا تھا۔کہ پنڈت نہرو کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ پانچ سال تک کانگریس کے انتخابات نہیں ہوئے تھے کیونکہ اس کے صدر مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم جیل میں تھے اور کانگریسیوں کی غیرت نے یہ گواراہ نہیں کیا کہ ان کا صدر جیل میں ہو اور وہ ان کی عدم موجودگی میں انتخاب کرالیں؟ جبکہ کانگریس کے سالانہ اجلاس با قاعدہ ہوتے رہے اور ان کی جگہ کرسی پرانکی تصویر رکھی جاتی رہی؟ جیسے ہی جنگ ختم ہوئی وہ بے چین ہوگئے کہ یہ ذمہ داری وہ جلد سے جلد قوم کے سپرد کردیں ان کا جھکا ؤ چونکہ سوشیل ازم کی طرف تھا اور پنڈت نہرو اس سلسلہ میں ہندوستان میں بہت زیادہ متحرک تھے اس وجہ سے ان کی حمایت پنڈت نہرو کو حاصل تھی، جبکہ گاندھی جی پٹیل کو صدر بنانا چاہتے تھے۔ دوسری طرف پنڈت موتی لال نہرو جن کی کانگریس کے لیے بڑی خدمات تھیں، وہ چاہتے تھے کہ قیادت ان کے گھر میں ہی رہے؟ لیکن نہرو مان کر نہیں دے رہے تھے کیونکہ اسوقت تک کمیونزم کو پوری طرح آزمایا نہیں گیا تھا؟ کہ خدا کے تصور کے بغیر کسی شخص کو بدعنوانیوں سے روکے گا کون؟ اس وقت تک سب کا خیال یہ تھا کہ بس کمیونزم تمام مسائل کا حل ہے۔ دوسری طرف نہرو نے جب یہ دیکھا کہ ہندوستان میں اقتدار پر قبضہ کرکے کمیونزم لانے کا یہ بہترین موقعہ ہے تو وہ بھی راضی ہوگئے اور اس میں رکاوٹ اس لیئے کوئی نہیں تھی کہ کانگریس کے منشور کی بنیاد پہلے ہی سےسوشیل ازم پر تھی؟ اس لیئے اس مرتبہ جب انہیں یہ پیشکش ہوئی تو وہ فوراً تیار ہوگئے۔ جبکہ پہلے وہ اس کے لیے تیار نہ تھے اور جواب میں ہمیشہ یہ کہتے تھے “ یہ بوڑھے جوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟ جیسے ہی وہ کانگریس کے صدر منتخب ہو ئے ویسے ہی پہلی پریس کانفرنس میں انہوں نے اس معاہدے کی نفی کردی یہ کہہ کر“ کیسا معاہدہ اور کاہے کا معاہدہ؟یہ تو آنے والی پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا “ یہ وہ دوسری بد عہدہ تھی جس نے ان کی وجہ سے جنم لیا کیونکہ وہ اور ان کاخاندان کشمیری پنڈت ہونے کی وجہ سے اندر سے کٹر ہندو تھا کہ شادی تک صرف کشمیری پنڈتوں میں ہی وہ کرتے تھے اور ان کی دھرم پتنی کملا نہرو کشمیری پنڈت تھیں۔ جوکہ کمییریوں کی مصیبتوں کا باعث بنی؟ نہرو کی وجہ سے پہلے بھی ایک مرتبہ کانگریس اور مسلم میں اختلافات پیدا ہوئے کہ نہرو نے کانگریس رائٹ ونگ کے لیڈر مسٹر ٹنڈن سے ملکر جوکہ اس وقت کانگریس کے صدر بھی تھے؟مسلم لیگ اور کانگریس کے پہلے اتحاد کو ناکام بنا نے میں کامیابی حاصل کی۔ جس کی وجہ سے مسلم لیگ متحرک ہوئی اور اس میں دوبارہ 1936 میں جان پڑی ورنہ دونوں کے اجلاس تک ساتھ ساتھ ہوتے تھے حتیٰ کہ تحریک ِ خلافت میں بھی گاندھی جی ساتھ تھے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں اور ہندوؤں کا جھگڑا ہے وہ غلطی پر ہیں ہندوستان کے اصل مالک تو ڈرویڈین نسل کے لوگ ہیں جبکہ اعلیٰ نسل ہندو آرین ہیں اور باہر سے آئے ہیں؟ جنہوں نے بعد میں ہندوستان پر قبضہ کرکے ڈریویڈین کو ان ٹچ ایبل (اچھوت) بنا دیا تھا؟ اس طرح ایک مصنوعی اور خود ساختہ تفریق مذہب کے نام پیدا کرکے کہ ًسب انسان برہما جی کی اولاد ہیں سب سے اعلیٰ برہمن ہیں قیادت ان کے پاس رہے گی اور ان کے بعد چھتری ہیں جو برہما جی کے سینے سے پیدا ہوئے وہ فوجی خدمات انجام دیں گے۔ اس بعد کھتری ہونگے جوکہ برہما جی کے پیٹ سے پیدا ہوئےجو کارو بار کیا کریں گیا جبکہ جو مقامی اور اصل باشندے تھے یعنی ڈریویڈین وہ برہما جی کے پیر سے پیدا ہوئے تھے وہ ان تینوں کے خدمت گار بنیں گے جس پر وہ گزشتہ صدی تک قائم رہے؟ چونکہ ڈریویڈین اپنے رنگ سے پہچانے جاتے تھے،ان کو ان کی مذہبی کتاب گیتا تک کو سننے کی اجازت نہ تھی ان کی عبادت گاہیں الگ تھیں اِن کے مند ر میں بھی وہ نہیں جاسکتے تھے جس سے انہوں نے ہزاروں سال اصل باشندوں کو غلام بنا ئےرکھا جو کہ مودی صاحب تمام دنیا پر نافز کرنا چاہتے ہیں؟ گاندھی جی نہ آتے اور وہ چھوت چھات کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی کیونکہ اس وقت اعلیٰ ذات کے ہندو پندرہ کروڑ تھے، اچھوت دس کروڑ تھے اور مسلمان بھی دس کروڑ تھے، جبکہ سکھ، عیسائی پارسی وغیرہ ساری قومیں ملا کر پانچ کروڑ تھیں جبکہ اسوقت کے ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ تھی؟













