زینب کے لیئے آواز اٹھانے والی ساری عوام کیا بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو گئی ۔۔یا پھر چونیاں کی غریبوں کے بچے انسان نہیں تھے انکو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔
جون 2019 سے لے کر ستمبر 2019 کے درمیان چویناں میں چار بچے جن میں محمد عمران، فیضان، علی حسنین اور سلمان اکرم شامل ہیں، انہیں تین مہینے کے دورانیے میں چونیاں سے اغوا کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے ساتھ زیادتی کرکے انہیں قتل کر دیا گیا۔ انکی لاشوں کو چرند پرند نوچتے رہے یہاں تک کے صرف ہڈیاں رھ گئیں۔اور اتنی خاموشی ۔ہیومن رائٹس کے سوشل میڈیا کے شیدائی کیا ان بچوں کے ملزم کے لیئے آواز نہیں اٹھائیں گئے کیا اس درندے کو چوک میں سنگسار نہیں کرنے کے نعرے لگائیں گے ۔
کیا صرف بچی کے ساتھ زیادتی گناہ ہے ۔لڑکوں بچوں کے ساتھ زیادتی جرم نہیں کیا ۔۔۔۔کیا روح نہیں لرزتی یہ سوچ کے ہائے معصوم بچوں کی لاشوں کو جانوروں نے کیسے نوچا ہو گا ۔ایک عادی مجرم کی پانچ سال کی سزا کیسے ڈھیر سال میں ختم ہو گئی ۔
اسکو پہلی بار ہی کیوں نہیں لٹکا دیا گیا۔کیوں نہیں ایسا قانون بنایا جا رہا ۔پہلی بار ہی اسکو عبرت ناک سزا دی گئی ہوتی۔تو آج چار مزید گھروں کے چراغ گل نہ ہوتے ۔۔۔ کیا قانون بھی قوم لوط کا پیروکار ہے۔
مقدسہ بانو












