ایران میں روسی خاتون صحافی کو اسرائیل کی سیکیورٹی ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ روس نے ایرانی سفیر کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں روسی سفارت خانے کے ترجمان آندرے گانینکو کا کہنا تھا کہ مشن کی جانب سے گرفتار صحافی تک قونصلر رسائی کی درخواست کردی گئی ہے۔

انہوں نے گرفتار صحافی کی والدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘خاتون صحافی پر اسرائیلی سیکیورٹی سروسز کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے’۔

روسی میڈیا کے مطابق خاتون صحافی کی شناخت یولیا یوزیک کے نام سے ہوئی ہے اور ان کے سابق شوہر کا کہنا تھا کہ انہیں تہران میں گرفتار کر کے 3 اکتوبر کو جیل بھیج دیا گیا ہے اور عدالت میں اگلی سماعت 5 ساکتوبر کو مقرر کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یولیا یوزین کو ان کے ہوٹل سے ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیداروں نے گرفتار کرلیا تھا اور انہیں اپنے اہل خانہ سے مختصر رابطے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار 38 سالہ خاتون صحافی روس کے اخبار ‘نیوز ویک’ سمیت مختلف اخبارات کے لیے کام کرتی رہی ہیں اور ایران سے رپورٹنگ بھی کرتی تھیں۔

انہوں نے دو کتابیں بھی تحریر کیں جس میں ایک کتاب 2004 میں بیلسن اسکول میں ہونے والے قتل عام میں بچ جانے والے افراد کے بیانات پر تحریر کی تھی جس کا نام ‘بیلسن ڈکشنری’ ہے، اس واقعے میں بچوں سمیت 330 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY