عام مسلمان کی سوچ بھوک، چھت اور روزگار،اس سے آزادی کیسے۔؟فائزہ عباس

0
991

جس قوم میں کے اور قلم کی حکومت ہو علم ہو، بصیرت و آگہی ہو وہی دوسری قوموں پہ حکمرانی کرتی ہے ۔ ۔ ۔جسطرح انسان چونکہ صاحب عقل و علم ہے باشعور و بابصیرت ہے ۔ ۔ ۔رب کا حقیقی نائب ہے خلیفہ ہے زمین پر تو اسی باعث رب نے اسے۔ ۔ ۔اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا ہے کیونکہ رب سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اسکی عظمت کا علم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔علم کے پاس جانا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔جیسے پیاسا پانی کیطرف رخ کرتا ہے علم روح کی زندگی ہے ۔ ۔ ۔اسکی حیات اور طاقت ہے ۔ ۔ ۔اس کا ستون ہے ۔ ۔ ۔علم نور ہے ۔ ۔ ۔معرفت کی چاشنی کا ذریعہ ہے ۔ ۔ ۔عقل کی زرخیزی کی سبیل ہے ۔ ۔ ۔بصیرت و آگہی کے لیے اجالا ہے کہ جس باعث انسان دیکھنے لگتا ہے اور اس دیکھ سکنے کے عمل کے باعث اسمیں اپنی جہالتوں کا احساس بیدار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔علم مہک ہے ۔ ۔ ۔وہ خوشبو کہ جو اپنے ارد گرد کو مہکار عطا کرتا ہے انسانییت۔ ۔ ۔محبت۔ ۔ ۔اعلی اخلاقی اوصاف ۔ ۔ ۔اداب زندگی کی ایک مکمل مہکتا گلستان۔ ۔ ۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ھیں کہ “علم دلوں کی حیات ہے ۔ ۔ ۔نابینائ میں آنکھوں کا نور ہے ۔ ۔ ۔اور کمزوری میں بدن کی طاقت ہے ۔ ۔ ۔”

حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “. ۔ ۔دین کی حفاظت علم سے کرو ۔ ۔ ۔علم ہر رتبے سے بڑھ کر ایک رتبہ ہے ۔ ۔ ۔”

جہاں علم ہو وہاں جہالت نہیں ہوتی یعنی تعصب، بد خلقی، کم فہمی ، جزباتیت ، خود غرضی ، لالچ ، ریا کاری ، تنگ نظری نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔

علم ہر مسلمان مرد و عورت پہ علم فرض ہے ۔ ۔ ۔
انسان کی بہترین حالتوں میں سے یا تو صاحب علم ہونا ہے ۔ ۔ ۔یا پھر طالب علم ہونا ۔ ۔ ۔
حدیث نبوی ص ہے کے

“. ۔ ۔گود سے گور تک علم حاصل کرو ۔ ۔ ۔”

علم کے معنی “جاننے” کے ہیں ۔ ۔ ۔

مثال کے طور پہ آپ کسی شہر کا سفر کرتے ہیں اب ایک حالت سفر سے پہلے کی ہے کہ آپ پہلی بار اس شہر کا سفر کر رہے ہیں جتنی بھی معلومات اکھٹا کیں ، زہن میں ایک نقشہ ابھر گیا اس شہر کے متعلق مگر پھر جب وہاں پہنچے اور دیکھا تو اس زہنی نقشے سے مختلف پایا اب پہلی حالت جہل ہے اور دوسری حالت علم ہے ۔ ۔ ۔

جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس فرشتہ تشریف لایا فرمایا کے اے سلیمان کے رب کا حکم ہے کہ ان میں سے ایک شے کو منتخب کر لیجیے ۔ ۔ ۔

شہرت، عزت، حکومت، علم آپ کس شے کو رکھنا چاہیں گے ۔ ۔ ۔تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں “علم ” کو رکھنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔چونکہ ایک شے رکھنے اور باقی واپس لانے کا حکم تھا تو فرشتہ ۔ ۔ ۔علم چھوڑ کر ۔۔ ۔عزت، شہرت اور حکومت کو واپس لیکر رب کی بارگاہ میں پہنچا تو رب نے حکم دیا کہ یہ تینوں بھی سلیمان کو دے او ۔ ۔ ۔فرشتہ حیران ہوا اور رب سے حکمت پوچھی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پہلے حکم کیمطابق ایک ہی شے کو چھوڑ نے کا حکم تھا اور اب آپ باقی کو واپس بھیج رہے ہیں ۔ ۔ ۔

تو رب نے فرمایا ۔ ۔ ۔کہ جہاں علم ہو گا ۔ ۔ ۔عزت ،شہرت، اور حکومت بھی وہیں ہونگے ۔ ۔ ۔

سو آج کے انسان کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس شے کے پیچھے بھاگ رہا ہے علم کے پیچھے ۔ ۔ ۔یا کہ روزگار کے پیچھے ۔ ۔ ۔اہل علم وہی ہوتے ہیں جو مسائل کے حل نکالنے کی اہلییت رکھتے ہیں جنکے وجود نہ کہ خود متحرک ہوتے ہیں بلکہ وہ ارد گرد کو بھی تحریک ، بیداری اور قوت اخلاص عمل سے بیدار کرنے کی لائق کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
آج مسلمان دنیا کی شرکت و پستی کی وجہ ہی اسکا علم سے منہ موڑ لینا ہے ۔ ۔ ۔فکری ، زہنی، روحانی، عملی تربیت کے بنا اپنے اھداف بھلے زاتی ہوں، گھریلو ہوں، معاشرتی ہوں ، قومی ہوں یا ملی ہم ان کی آبیاری کر ہی نہیں سکتے اگر آج کی نسل حکمت، علم، دانش کے بیج ہی نہ بوئے گی ۔ ۔ ۔مستقبل کے لیے دور اندیشی سے سوچے ہوئے اھداف ہی سیٹ نہ کریگی تو آنے والی نسل کا کیا زہنی ، فکری عملی و علمی میعار ہو گا ۔ ۔ ۔؟

جس قوم کے اھداف زندگی روٹی، کپڑا، مکان، عورت، مرد، شادی ہونگے، گھر،اور آسائشیں ہونگی تو اس قوم کی منزل کیا ہو گی بھلا ۔ ۔ ۔؟

اس بات کی وضاحت ایک عالم دین کہ مثال سے لیتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے تو وہ بچہ کہنے لگا کہ بابا میں آپ جیسا بنوں گا (وہ عالم دین فقیہہ دین، مجتہد، بہت بلند پایا۔ ۔ شخصیت تھے کہ جنکے علم و حکمت کی بہت دور دور تک پہچان اور احترام تھا اور مجتہد اور فقیہ کی پوری زندگی طہارت اور علم ہی میں صرف ہوتی ہے ۔ ۔ ۔)

تو انہوں نے بیٹے کو جواب دیا کہ بیٹا پھر تم کچھ نہیں بن سکو گے ۔ ۔ ۔بیٹے نے افسردگی سے پوچھا کہ آخر کیوں بابا جان آپکا اس قدر نسم، رتبہ، علم اور پہچان ہے ۔ ۔ ۔تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا تمہاری عمر میں میرا خواب امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرح اہل علم بننا تھا ۔ ۔ ۔سو میرا رول ماڈل اس قدر بلند تھا تو میں یہ بنا ۔ ۔ ۔تو تم خود سوچو کہ اگر تم مجھے رول ماڈل بناؤگے تو کس حد تک بلندی پہ جا پاؤگے ۔ ۔ ۔

جب تلک اھداف زندگی بلند نہ ہوں ۔ ۔ ۔انسانی فکر ، عمل، سوچ اور احساس کو بھی گہرائی نہیں مل پاتی تو جو قوم صرف روٹی کپڑے کو منزل سمجھے گی تو فقیری، غربت، حقارت کیا اسکی منزل نہ ہو گی۔ ۔ ۔؟؟؟

یہ سوچنا کس کا کام ہے ۔ ۔ ۔ کہ ہم اپنے اور اپنے مستقبل کے لیے کیا چاہتے ہیں اور

کیوں چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔

کیا وہ سب صرف مادی اھداف ہیں جو ہماری فکر میں ہیں یا کہ علمی ، فہری، معنوی، روحانی، ہنر اور اھداف بھی ہیں ۔ ۔ ۔؟

اور جو سیٹ کر رہے ہیں انکے زہنی میعار کیا ہیں اور درحقیقت میعار اھداف کیا ہونا چاہییے ۔ ۔ ۔؟

کہ آج ارب سے زائد مسلمان دنیا میں بستے ہیں اور اجتماعی طور سے دیکھا جائے تو سب طرح کی دولت ، وسائل، علم ہنر، جواہر ہمارے پاس ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ ہم مادیت پرست قوموں سے بھی کم تر زندگیاں گزارنے پہ مجبور ہیں یا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس حال میں دھکیل دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔سو اس سے نکلنے کے لیے کیا ہر صاحب شعور کا کوشش کرنا فرض نہیں ۔ ۔ ۔؟

کہ ایک عام مسلمان کی سوچ کو بھوک، چھت اور روزگار نے جکڑ رکھا ہے اس سے آزادی آخر کون دلوئے گا اور کسطرح۔ ۔ ۔؟

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY