ایف اے ٹی ایف کا فروری 2020 تک پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ

0
624

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے آئندہ برس تک ‘گرے لسٹ’ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے صدر نے اجلاس کے اختتام پر اس بات کا اعلان کیا کہ فروری 2020 تک پاکستان اسی فہرست میں رہے گا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی ‘بلیک لسٹ’ میں شامل کرنے کی کوششیں کی گئی تھی، تاہم یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں اور ایف اے ٹی ایم نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔

ٹاسک فورس کی جانب سے اسلام آباد کو ہدایت کی گئی وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے اقدمات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ٹاسک فورس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ‘ایف اے ٹی ایف پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے’۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔

خیال رہے کہ 16 اکتوبر کو ڈان اخبار کی ایک اسٹوری میں یہ بتایا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے آئندہ برس فروری تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو آئندہ 4 ماہ میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خاتمے سے متعلق مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے جسے گزشتہ برس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے میں غیر مطمئن اقدامات کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی زیر قیادت پاکستانی وفد نے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بتایا تھا کہ پاکستان نے 27 میں سے 20 تجاویز میں مثبت پیش رفت کی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس

واضح رہے کہ پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تھا، جس میں 205 ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور دیگر تنظیموں کے اراکین نے بھی شرکت کی تھی۔

اسی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت حماد اظہر نے کی تھی اور پاکستان کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بتایا تھا۔

پاکستان کے اقدامات کو چین، ترکی اور ملائیشیا نے سراہا تھا تاہم بھارت نے پاکستان کو اس درخواست پر بلیک لسٹ کرنے کی تجویز دی تھی کہ اسلام آباد نے حافظ سعید کو اپنے منجمد اکاؤنٹس سے فنڈز نکالنے کی اجازت دی۔

تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی توسیعی حمایت کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے اور دیگر اقدامات پر عملدرآمد کے لیے مزید مہلت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دریں اثنا پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلے کو بھی حکومت کی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے، مزید براں فناشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور مالی ذرائع تک دہشت گردوں کی رسائی کے خاتمے سے متعلق کیے جانے والے اقدامات کو تسلیم کیا، تاہم ادارے نے پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر مزید عملدرآمد پر زور دیا۔

خیال رہے کہ 36 ممالک پر مشتمل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے منشور کے مطابق کسی ملک کو بلیک لسٹ نہ کرنے کے لیے کم از کم 3 ممالک کی حمایت لازمی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY