نہیں ہے دل میں کسی کے اگر ولائے حسین ع
تو خلد خواب ہے ، ملتی نہیں سوائے حسین ع
ہمارے پاس فقط ایک ہی خزانہ ہے
یہ اشک آنکھ سے بہتے ہیں جو برائے حسین ع
رواں ہیں قافلے اس دن سے جانبِ مقتل
سنی تھی خلق نے کربل سے اک نوائے حسین ع
یہ دن وہ دن ہیں کہ ذاکر کی بھی نہیں حاجت
دلِ حزیں کو کرے اشک بار “ہائے حسین” ع
یزید نام بدل کر محاذ ِِ جنگ پہ ہے
زمانہ چیخ رہا ہے کہ پھر سے آئے حسین ع
اجل کو دیکھ لیا کربلا میں مرتے ہوئے
رگ ِ حیات شگفتہ ہے بر عزائے حسین ع
رخشندہ بتول













