جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ممکنہ آزادی مارچ و لاک ڈاؤن پر وفاقی کابینہ کی مشاورتی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، حکومت مولانا کے احتجاجی مارچ سے نمٹنے کے حوالے سے تاحال تذبذب کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے ممکنہ آزادی مارچ و لاک ڈاؤن پر کابینہ ارکان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مقاصد غیر واضح اور مشکوک ہیں، بظاہر مولانا کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ خاص ایجنڈے کی تکمیل ہے،
ذرائع کے مطابق انصارالاسلام جیسے جتھے سامنے آنے پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، مغربی میڈیا انصارالاسلام کو پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرسکتا ہے، طاقت کےاستعمال کو حکومت کے سیاسی عدم برداشت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی مارچ و دھرنے کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل کو حتمی شکل دے گی، آزادی مارچ و دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس آج ہوگا۔













