حُسین شناسی کا سفر۔10۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
874

دسویں قسط

حضرت عبداللہ بن جعفر کے بعد عمر بن سعد حاکم
اہل مکہ کا سفارشی خط لے کر
امام حسین عليہ السلام سے ملے
اور انہیں بتایا
کوفہ کے لوگوں پر اعتماد مناسب نہیں
عمر بن سعد یہاں تک وعدہ کیا اور کہا
“ آپ مکہ لوٹ آئیں تو میں یزید کے ساتھ آپ کے معاملات طے کرادوں گا
اور وہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا“
لیکن ۔۔۔ امام حسین ع نے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا
اور ۔۔ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق
سفر کوفہ جاری رکھنے کا فیصلہ سنا دیا
عبداللہ بن جعفر واپس ہو گئے مگر عون اور محمد کو ساتھ رہنے دیا
راستے میں مشہور شاعر فرزوق
امام حسین عليہ السلام سے ملا اور عرض کی
”لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ “
لیکن امام حسین عالی مقام نے
اس کے باوجود سفر کو بدستور جاری رکھا
ابن زیاد کو امام عالی مقام کے سفر کی خبر ہو چکی تھی
اس کے حکم پر
چوکی کے افسر حصین بن نمیر نے
قادسیہ سے جبل لعل تک گھڑ سواروں کو مقرر کر دیا
اور تمام اہم راستوں کی ناکہ بندی کروا دی
اور امام حسین کے قاصد قیس کو
ابن زیاد کے آدمیوں نے گرفتار کرکے قتل کر دیا
جب امام عالی مقام بطن رملہ سے آگے بڑھے تو انہیں عبداللہ ابن مطیع ملے
انہوں نے آپ کو آگے جانے سے روکا ۔۔لیکن آپ نے سفر جاری رکھا
پھر ۔۔۔ مقام ثعلبیہ پر
محمد بن اشعث کے بھیجے ہوئے قاصد نے
آپ کو مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر دی
امام حسین ع پہلی بار
سفر کوفہ کے بارے میں متردد ہوئے
ساتھیوں نے واپس لوٹنے کا مشورہ دیا
مسلم بن عقیل کے بھائی خاموش تھے
وہ اپنے بھائی کی خاطر سفر جاری رکھنا چاہتے تھے
اب آپ ع پر تمام حالات آشکار ہو چکے تھے
اور ۔۔۔ آپ عالی مقام نے فیصلہ کر چکے تھے
دوران سفر آپ کے ساتھ
کئی بدوی بھی شامل ہو گئے تھے
آپ ع نے قافلے کو جمع کیا اور فرمایا
“ جو لوگ واپس جانا چاہیں انہیں اجازت ہے
یہ سنتے ہی
سوائے ان جان نثاروں کے
جو مدینہ سے ساتھ آئے تھے ۔۔۔ سب ساتھ چھوڑ گئے
آپ ع کا سفر جاری رہا
ابن زیاد نے
امام حسین عليہ السلام کی پیش قدمی روکنے کے لیے
ایک اور اہتمام کیا
حر بن یزید تمیمی کو ان کی طرف روانہ کیا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY