کہتے ہیں جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے ،لیکن ہم آپ کو ثابت کرینگے کہ ہمارا ملک اس معاملے میں بھی ساری دنیا میں منفرد ہے ۔ہمارے ملک میں جھوٹ کے پیر بھی ہیں وہ چلتا پھرتا بھی ہے ۔کھاتا پیتا بھی ہے ،دیکھتا بھی ہے سنتا بھی ہے اور بولنا تو یقینا` اس کا حق ہے ہی کہ وہ جھوٹ ہے جسے بارہ خون معاف ہیں ۔آپ حیران ہونگے کہ ہم نے تو جھوٹ کو کاغز پر لکھا اور پھر پڑھا جاتا دیکھا ہے کہ ہمارے نا اہل صاحب بغیر لکھا کچھ پڑھتے ہی نہیں ۔ اس لئے ہمارے ملک میں جھوٹ پڑھا بھی جاتا ہے اور لکھا بھی جاتا ہے ۔
ہمیں دُکھ ہے کہ ہمارے ملک میں جھوٹ گھنگرو باندھ کر ناچ رہا ہے اور سچائی چھپتی پھر رہی ہے ۔کیونکہ کہتے ہیں پرانی کہاوت ہے کہ جھوٹے کے آگے سچا رَو کر اُٹھتا ہے ۔یہ بات ہمیں عجیب لگتی تھی لیکن خلائی مخلوق دیکھنے والوں نے یہ بات بھی ہمیں سچ کر کے دکھا دی ۔کیونکہ ہم سب انہیں سُن بھی رہے ہیں وہ ہمارے ملکی زرائع استعمال کر رہے ہیں دھڑلے سے کوئی نہیں بولتا ۔۔۔ وہ پنجاب ھاؤس استعمال کر رہے ہیں وہاں سے ریاستی اداروں کو للکار رہے ہیں ۔لیکن خورشید شاہ صاحب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔زرداری صاحب کے منہ سے آواز بھی نہیں نکلتی ۔بلاول صاحب ایک بیان بھی نہیں دیتے ۔عمران صاحب بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونسے بیٹھے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک نااہل شخص حکومتی جگہیں استعمال کر رہا ہے اپنے زہریلے بیانات دینے کو ۔کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم حکومت میں دوبارہ اآئے تو سب ٹھیک کر دینگے ۔کیا آپ سب کو وقت نہیں ملا تھا ؟؟؟یہ ہی وہ باتیں ہیں جو وقت پر نہیں پکڑی جاتیں اور بعد میں نقصان کا باعث بنتی ہیں ۔ہم نہ ماضی سے سیکھتے ہیں نہ حال کو دیکھتے ہیں نہ مستقبل کی سوچتے ہیں ،کیونکہ ہمارا کام صرف اور صرف دما دم مست قلندر کرنا ہے ،جہاں بھی مجمع لگا ہو سب ہی کھڑے ہو جاتے ہیں دیکھنے کو کیا ہو رہا ہے ۔لیکن کوئی اآواز نہیں اُٹھاتا کہ غلط ہو رہا ہے ۔بلکہ وزیر تو بجائے وزرتیں دیکھنے کے صرف اور صرف خلائی مخلوق کو دیکھ رہے ہیں شاید نہیں جانتے کہ یہ مخلوق ہی تباہی کا باعث بن جایا کرتی ہے کیونکہ نظر نہیں اآتی ۔
آج کل جس قدر بھر مار ہے جھوٹ کی اُس نے ہماری کھوپڑی کو اڑا کر رکھ دیا ہے ہم نے کھوپڑی اس لئے کہا کہ جس کھوپڑی میں دماغ ہو وہ سَر کہلاتا ہے اور ہمارے یہاں کھوپڑیوں کی بُہتات ہے ،جو بغیر سوچے سمجھے ہر بات پر یقین کرتے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوتے اور اُچک اُچک کر فریم میں آنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔ہمارے یہاں یہ حال ہے کہ جھوٹ کھلے عام آزاد ہے جلسے کرنے ،بیانات دینے اور اپنی بات لوگوں تک پہچانے کے لئے تاکہ جھوٹ کی افزائش ہو سارے ملک میں ۔یہاں ہمیں کوئی ایک پارٹی نہیں ساری ہی پارٹیاں فعال نظر آتی ہیں ہمیں دُکھ صرف اُس وقت ہوتا ہے جب سیاست میں آنے والے نئے جوان لوگ جن کے خمیر میں بقول اُن کے سیاست بھری ہوئی ہے جب وہ غلط بیانی اور جھوٹ کی طرف راغب نظر آتے ہیں تو دل دکھتا ہے ،کاش ہمارے ان نئے لوگوں نے سچ کو سچائی کو آگے لانے کی کوشش کی ہوتی تاکہ ہم ان چلتے پھرتے جھوٹوں سے نجات پانے کی طرف قدم اُٹھا سکتے ۔لیکن وہ بھی افسوس کے ساتھ ان پرانے سیاست دانوں کی سوچ کو ہی پروان چڑھا رہے ہیں جو مایوسی کا باعث ہے ۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ نیب اپنا کام اسی طرح کرتی رہے چاہے اُس پر کتنا ہی دباؤ ہو کتنا ہی مشکل وقت ہو ،کہ آپ اَمَر جب ہی ہوتے ہیں جب ایسے کام کر جائیں کہ ملک اور قوم فخر کر سکے آپ پر اور آپ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوں آنے والی نسلوں کے لئے ،جھوٹ صرف ایک شخص یا ایک پارٹی کے کارکن نہیں بلکہ دوسری پارٹی کے لوگ بھی اور پارٹیوں میں شامل ہونے والے بھی شاید بہت کم ہی سچ بو ل رہے ہیں یا جھوٹ نہیں بول رہے ۔میڈیا جس طرح ہر بات کو پرکھ رہا ہے اور سچ سامنے لا رہا ہے وہ قابلِ قدر بھی ہے اور عوام کے لئے اہمیت کا حامل بھی کیونکہ ان دنوں جس طرح میڈیا نے ہمیں سارا قانون عدلیہ کا بھی اور نیب کا بھی سکھایا شاید ہی ہم کبھی کتابوں سے سیکھ سکتے کیونکہ پڑھنے کی طرف تو بہت کم دھیا ن رہ گیا ہے بس قبول وہ ہی کرتے ہیں جو آسانی سے مل جائے محنت نہ کرنی پڑے ۔کچھ میڈیا فساد بھی پھیلا رہا ہے لیکن خوشی یہ ہے کہ فورا` ہی وہ سامنے آجاتا ہے ۔
میڈیا پر آنے والے تجزیہ نگار اکثر اپنی پسند کی بات کرتے ہیں ہمیں دُکھ ہوتا ہے کہ ملک کی بات کرنے والے کم ہیں یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان باتوں سے جو کھلی ہیں یا کھولی جارہی ہیں مستقبل میں ملک پر کیا اثرات ہونگے ۔بلکہ پڑھے لکھے اور قابل لوگ جب کرپشن کا ساتھ دیتے اور جھوٹ کو صاد کرتے نظر اآتے ہیں تو ہمیں مستقبل کہیں دور نظر آتا ہے ۔
ہم تو سوچتے ہیں کہ حال ہی ماضی بن جاتا ہے اور حال ہی مستقبل ۔جتنا اچھا آج ہوگا اتنا ہی اچھا ماضی بن جائیگا اور اتنا ہی اچھا مستقبل ہوگا ۔اس لئے حال کی فکر کر لو سب کچھ سنور جائیگا بدل جائیگا جو آج کروگے کل کاٹو گے ۔بیج اچھے ڈالو تاکہ فصل اچھی ہو ،زمین کتنی ہی اچھی ہو اگر بیج خراب ہو تو کبھی پھل اچھا نہیں آسکتا اس لئے ہماری تو یہ ہی خواہش ہے کہ سچائی کو فروغ ملے سچ بولیں اور سچائی کی طرف سب ہی راغب ہوں تاکہ کرپشن بھی نہ ہو اور برائی بھی نہ بڑھے ۔
ہم وہ قوم ہیں جسے دیکھ کر ساری دنیا بدل گئے جس کے علم کو پڑھ کر لوگوں نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لی لاکھ کہیں کہ ہم تمہیں نہیں مانتے لیکن ہماری کتاب سے ہی علم لے کر کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم نے اپنے علم کے زخیرے سے کچھ نہ لیا بلکہ اُسے تہہ کر کے رکھ دیا ۔ہمارا علم تو کہتا ہے کہ جھوٹا مسلمان ہو ہی نہیں سکتا اور ہم بہ بانگِ دُہل ساتھ دے رہے ہیں ہر جھوٹ کا ہر غلط بیانی کا ۔بلکہ بڑے جوش اور جزبے سے تقریریں دکھا کر تبصرے لئے جاتے ہیں جو عجیب سا لگتا ہے کہ کیا ہم سب بھی عدلیہ کا تمسخر نہیں اُڑا رہے کہ جسے آپ نے نااہل کیا وہ ہر طرف اپنا بیانیا پھیلا رہا ہے ۔کیا ہوگا ہمیں نہیں پتہ لیکن اتنا جانتے ہیں کہ اگر نہ سنبھلے تو پھر انجام برا ہی ہے ۔
کالم ختم ہی ہوا ہے کہ ایک اور انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ خبر سنائی دی کہ ہمارے نا اہل صآحب نے دشمن ملک کو ایک اور موقعہ فراہم کیا ہے دشنام ترازی کا ۔ہم حیران بھی ہیں اور پریشان بھی کہ یہ اپنی دولت بچانے کے لئے کہاں تک جائینگے ،اور ہمارے حفاظتی ادارے انہیں کہاں تک چھوٹ دینگے ۔کیوں نہیں ان پر پابندی لگتی کیوں یہ آزاد ہیں ہر قسم کی بیان بازی کے لئے ۔کیوں ملک کے دشمنوں کو نہیں پکڑا جا رہا یہ سوالیہ نشان ہے جو شاید ہی حل ہو سکلے ۔اور سچ یہ ہے کہ ہم موقے پر جاگتے ہی نہیں ۔۔
اللہ ہم سب کو سچ اور حق بات کا ساتھ دینے اور سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے ،ملکی معاملات میں سچ بولنے اور قومی دولت کوایمانداری سے خرچ کرنے والے حکمران عطا فرمائے ۔آمین
جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے ۔ عالم آرا وینکوور
749
0












