بھارت میں ہونیوالی عالمی اردو کانفرنس میں پاکستانی ادیبوں کو شرکت سے روک دیا گیا۔
چلیں میرے ذاتی خیال میں بھارت نے یہ ایک اچھا کام کیا ہے کہ ان دریوزہ گر نام نہاد پاکستانی ادیبوں کو اپنی اوقات یاد دلا دی اور آئینہ دکھا دیا
پاکستان سے محبت اور پاکستانی ہونے کا تقاضہ تو یہ تھا کہ جب یہ دعوت ملی تھی تو ایسے ضمیر فروشوں کو خود اس دعوت کو مسترد کر دینا چاہیئے تھا یہ کہہ کر کہ جو ملک ہر دم ہمارے ملک کا خاتمہ چاہتا ہے ہر کچھ عرصے پر چڑھائی کی دھمکی دیتا ہے اور عملی طور پر حملے کرتا ہے اس ملک میں کیا لینے جانا
لیکن انکو تو بھارت پلٹ کہلانے کا شوق ہے۔ کتنے ہی خواتین وحضرات ہیں جو بھارتی ساتھیوں کو دعوت کے لیئے سفارشیں کرتے ہیں۔ بے شرمی کی انتہا ہے
سبق جاوید اختر اور شبانہ اعظمی سے سیکھ لیں کہ انہوں نے کیسے کراچی کی ادبی تقریب میں شرکت سے انکار کیا
بھارت جو بھی ہے جیسا بھی ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں اس لیئے مجھے نہ انیس دبیر کی قبر دیکھنی ہے نہ غالب کا مزار اور نہ ہی لال قلعہ، افسوس ان ادیبوں شاعروں کو ہو گا جو ایک مہینے سے خاندان والوں کو ادبی دوستوں کو یہ بتا رہے تھے کہ انکو بھارت مدعو کیا گیا ہے
لیجئے اب مکمل خبر پڑھ لیجئے
ذرائع کے مطابق نئی دلی میں18تا20 مارچ عالمی اردوکانفرنس منعقد کی جارہی ہے اور اس میں 9 پاکستانی ادیبوں کو شرکت کرنا تھی تاہم بھارت نے پاکستانی ادیبوں کو جاری کیے گئے دعوت نامے منسوخ کردئیے جس کے باعث پاکستانی ادیب شرکت کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔
ذرائع کے مطابق عالمی اردو کانفرنس کی مینجمنٹ نے دعوت ناموں کی منسوخی سے متعلق پاکستانی ادیبوں کو آگاہ کردیا ہے۔
پاکستانی ادیبوں کو جاری دعوت نامے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث منسوخ کئے گئے ہیں۔
صفدر ھمدانی














یہ چوزے ہیں۔۔۔اللہ ان پر کرم فرماے۔ اگر چلے جاتے تو شاید امن محبت کی بات ہی کرتے۔
پاکستان کے کرنے کا کام یہ ھے کہ یہ کچھ دن کے لئے نمک تو بند کر کے دیکھے۔ ھے تو بری تجویز لیکن ان پاگل حکمرانوں کو کچھ تو احساس دلایا جاے۔ ھمالین سالٹ کا مزہ ھی نرالا ھے۔