گاہے گاہے باز خواں ایں……. ,قسط 9, نصرت نسیم

0
1343

ہاں تو میں ذکر کر رہی تھی شادی بیاہ کے رسم و رواج کا توبچپن میں پشاور کی شادیوں میں شرکت میں شرکت اورقریب سےدیکھنے کا موقع ملا۔۔۔۔بہت بچپنے میں جوپہلی شادی میں شریک ہونے وہ دور پار کی کوئی پھوپھی تھیں۔مگر بہت مہمان نوازوملنسار۔قصہ خوانی کے قریب بازار مسگراں کے سامنے ہی کسی گلی میں پشاورکے مخصوص روایت طرزتعمیرلئےہوے اس گھر میں بارہا انکی میزبانی کالطف اٹھایا ۔جہاں اکثر ناشتے میں مٹی کے بڑے بڑے مٹکوں میں پکے ہوئے کلے پائنچے اور نان سے لطف اندوز ہوئے ۔
ان کے بیٹے کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی ۔مگر چونکہ یہ میرے بہت بچپنے کی بات ہے سو کچھ باتیں یاد رہ گئ ہیں ۔رات گئے بارات کے لیے تانگوں میں لد کر روانہ ہوئے ۔اورسحری کے قریب رخصتی ہوئی ۔پھولوں کے سہرے سےدلہن اور دولہا کاچہرہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا ۔گھر پہنچ کر مختلف رسمیں اداکی گئیں ۔جس میں سب سے دلچسپ آر سی مصحف کی رسم تھی ۔سہرے کے اندر آئینہ رکھا گیا اوردلہا دلہن نے شرماے لجاے انداز میں ایک دوسرے کو آئینے میں دیکھا ۔دولہا سے پہلے کوئی دلہن کاچہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔اب تو دلہن پارلر سے تیار ہوکر آتی ہے تو الگ کمرے میں فوٹو سیشن ہوتا ہے ۔ویڈیو والا طرح طرح کے پوز بنوا کر پازیب سے کان کےجھمکےتک کے کلوز اپ لیتا ہے )

دلہن ڈولی میں رخصت ہو کر آئیں ۔جیسا کہ اس زمانے کارواج تھا ۔مگر نئ اور انوکھی بات یہ دیکھی کہ جب جب وہ میکے گئ۔چھوٹی سی پالکی لئے چار کہار آتے۔دلہن اس میں بیٹھ جاتی ۔اور وہ اسے کندھوں پراٹھا کر چل دیتے ۔دلہن کو ساس نے ووہٹی (یعنی دلہن)کہنا شروع کیا تو آخرتک ووہٹی ہی رہیں ۔
ایک اور اہم شادی میرے رشتے کے ماموں کی تھی ۔جن کی بچپن سے منگنی میری سگی خالہ سے طے پائی تھی ۔مگر اچانک انہوں نے یہ منگنی توڑ کر اپنے دوست کی خالہ سے اپنی پسند سے منگنی کر لی ۔(جو پشاور کے معروف ومشہور وکیل پیر بخش کی بھانجی تھی )ان کے اس عمل پر دکھ صدمے اورغم کی جو کیفیات خالہ اورسب پر گزریں ۔سو گزری ان تمام باتوں سے قطع نظر بچے چونکہ سانجھے ہوتے ہیں پھر میں تو یوں بھی تمام مامووں کی لاڈلی تھی وہ مجھے اپنے ساتھ پشاور لے آئے ۔ان کی منگیتر نے میری خوب آو بھگت کی ۔رات کو مجھے اپنے ساتھ سلاتی یہ سخت سردیوں کے دن تھے رات سوتے ہوئے وہ بستر میں مٹی کی کانگڑی میں سلگے ہوے کوئلے ڈال کر بستر میں رکھ لیتی جس سے بستر گرم اور پاوں تپ جاتے ۔یہ نئی چیز تھی کوہاٹ میں تو چمڑے کی مشک میں گرم پانی ڈال کر بستر میں رکھتے ۔
جس سے بستر اورپاوں گرم ہوجاتے۔ پشاور اورکوہاٹ کی ثقافت ورہن سہن میں زمین وآسمان کافرق تھا کوہاٹ کے گھر ڈیوڑھی کھلا ساصحن دوچار سیڑھیاں چڑھ کر دالان اوراس میں کمرے اسی طرح گھڑونچی اوراس پر مٹی کے گھڑےدھرے ہوتے۔ عورتیں زیادہتر شٹل کاک برقعہ پہنتیں اورگھر کاسوداسلف مرد حضرات ہی لاتے ۔جبکہ پشاور میں اسکے بلکل برعکس طور طریقے اور گھر تھے

اندرون شہر گھنٹہ گھر کے قریب ایک کشادہ سی گلی میں ممانی کاگھر تھا ۔دروازہ کھلتے ہی نیم تاریک صحن میں قدم رکھتے ۔ایک طرف چھوٹی سی سجی سجایی بیٹھک اورساتھ ہی اوپر کو جاتی ہوی بل کھاتی پر اسرار سی سیڑھیاں جہاں موڑ مڑتے ہوےدیوار میں طاقچہ سابناہوا تھا جس میں پھول رکھے تھے دیا اور اگربتیاں بھی موجود تھیں ۔ماموں اس جگہ کو جنات کامسکن بتا کر خودبھی ڈرتے( شایدایکٹنگ کرتے) اورہمیں بھی خوب خوب ڈراتے۔ صحن مسقف تھا ۔اوراس میں منگ سے آتی ہویی ہلکی روشنی اس جگہ کو مزید پر اسرار بناے ہوےتھی سو تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے۔ اوپر گو کہپھر اسی طرح کامسقف صحن ساتھا۔ جس میں کھلی کھلی سی منگ سےآتی ہوی روشنی نےاس حصے کو منور کر رکھا تھا
آمنے سامنے دالان تھے ۔جن کے بستے رات کو گرا دیتے توکمرہ سابن جاتا۔ صبح ہوتے ہی بستے اٹھادیتے دوسری طرف یعنی گلی کی طرف بھی ایک دوبستے اٹھا کر چک گرادیتے ۔گلی میں کھانے پینے کی اشیا یاچھابڑی والے اپنی مخصوص آوازیں لگاتے گزرتے توممانی رسی کے ساتھ برتن اوراس میں پیسے رکھ کر چک اٹھاکر خوانچہ فروش سے بات کرتی وہ مطلوبہ چیز برتن میں ڈالتا اورہم رسی اوپر کھینچ لیتے ۔
گلی سے گزرتے ہوئے خوانچہ فروشوں کی مخصوص صدائیں اور طرح طرح کی چیزیں رسی نیچے پھینک کر کھینچ لینا ۔دالان کے اندر چینی خانہ بنا ہوا جسکے طاقچوں میں مختلف سجاوٹی اشیا اورنفیس چینی کے برتن سجے ہوتے ۔باہر صحن میں چم چم کرتےقلع شدہ مس کے گھڑے اوربڑا سا چمکتا ہوامٹکا رکھا ہوتا ۔گھڑے کے گلے میں اکثر موتیا چنبیلی کے ہار پڑےہوتے ۔جن کی بھینی بھینی خوشبو سارے میں پھیلی ہوتی صبح ناشتے میں بڑا سا پیالہ بالائی کا اور گرم گرم روغنی نان کے ساتھ ہوتا ۔ناشتے کے بعد ممانی کی امی تھیلا لےکر بازار سے سودا سلف لے کر آتی اور ایک طرف بنی رسوئی میں کھانا بناتی اور کھانے کے وقت ایک بار پھر بازار جاکرروٹیاں لے کر آتی پشاوری پھولی پھولی روٹی مشہور تھی اورگھروں میں شاذ ہی روٹی بنانے کا سامان نظر آتا ممانی کے ابو فوت ہو چکے تھے ۔ایک اکلوتا بھائی سیاسی قیدی تھا غفار خان کا پیروکار طویل عرصے سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہا تھا سوان کی امی لمبی سی فراک پہنے سوگوار سی مشینی انداز سے چپ چاپ کام میں جتی رہتی ۔

اندر باہر کے سارے کام خود کرتیں ۔اچھی خاصی عمر رسیدہ تھیں اب سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے ۔یہ 3منزلہ گھر تھااوربیت الخلا چوتھی منزل پر تھا ۔دن میں کئی دفعہ وہ سیڑھیاں چڑھتی اترتی رہتیں ۔تیسری منزل پر چھوٹی سی کھڑکی بنی ہوئی تھی اگر کوئی دروازے پر دستک دیتا تو اس منے سے جھروکے سے جھانک کر دیکھتے پوچھتے کہ کون ہے اطمینان ہونے پر اوپر سے رسی کھینچتے تو مرکزی دروازہ کھل جاتا ۔اسےہوڑا کہتے ۔پشاوری گھروں کا یہ ہوڑا سسٹم مجھے بہت پسند آیا کہ اپنے گھر میں تو دروازہ کھولنے کے لیے نیچے آنا پڑتا ۔
خیر جلد ہی ماموں کی شادی کے ہنگامے شروع ہوگئے ۔آمنے سامنے دونوں دالانوں میں چاندنی بچھی ہوئی گاو تکیے لگے ہوے بارات کے لئے الگ دالان مختص تھا اپنی طرف کے مہمانوں کے لئے الگ ۔مہندی والے دن ایک نئی بات دیکھنے میں آئی پشاور کی ڈومنییاں طبلے کی تھاپ پر مہندی کے روایتی گیت گارہی تھیں ۔ماحول میں گلاب کے ہاروں اورگجروں کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔رنگ و نور کا گویا سیلاب آیا ہوا تھا ۔رات بھیگ چلی تھی خواتین تھیں کہ رقص و موسیقی میں مگن تھیں پھر رقص کرتے کرتے لگا جیسے یہ مست وبےخود ہو گئ ہیں کسی نے سرگوشی کی ان پر جن آگئے ہیں دوسری نے کہا یہ حال کھیل رہی ہیں طبلے پر تھاپ ان کے جوش و جذبے کے ساتھ تیز ہوتی چلی گئی انہوں نے اپنے بال کھول لئے سر کو ادھر ادھر پٹخنے لگیں ساتھ ہی تکیوں کو بھی میں بے طرح خوفزدہ ہو گئ جب کہ باقی خواتین یوں محظوظ ہو رہی تھیں ۔جیسے ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہ ہو بعد میں پتہ چلا جنات وغیرہ نہ تھے اس طرح حال کھیلنا بھی روایت کاحصہ ہے ۔
مہندی میں ڈھیروں ڈھیر پھول گجرے، کنٹھے پہنے پہنائے گئے تو بارات میں اس سے بھی زیادہ اہتمام تھا ۔خاص مہمانوں کو گلاب کے پھولوں کے کنٹھے پہنائے گئے تو باقی لوگوں کو پھولوں کے ہار
ماموں کے دوستوں نے ان کا سہرا پڑھا اور فریم کر کے تحفہ دیا ۔تازہ پھولوں سے تیار کردہ سہرا دولہا کو باندھا گیا تو دلہن کو بھی سہرے سے لاد دیا گیا
ہر جگہ پھولوں اور مہندی کی خوشبو رچی بسی گویا مجسم خوشبو ۔ایک عرصے تک دلہن کا کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہکتا رہتا
ولیمے کے لئے خوانچہ روٹی بھی منفرد تھی ۔پشاوری دیگی پلاو اور آلو بخارے والے کوفتے بھی کھانے سے تعلق رکھتے ۔پشاوری ثقافت میں ایک تہذیب، نفاست اورتکلف پایا جاتا تھا ۔جب کہ اس کے برعکس کوہاٹ کے رسم و رواج میں سادگی اورکفایت شعاری نظر آتی ۔شادی پر بلانے کے لئے یہاں بھی سدہ دینے کا رواج تھا ۔پھول چینی جوڑے سدے میں دینے کا رواج بھی تھا ۔لڑکی کو مایوں بیٹھانے کی رسم کو گوٹھ میں بیٹھانا کہتے کیونکہ ہندکو میں گوٹھ کونے کو کہتے ہیں
یوں تو شادی کی تقریب کا آغازدس پندرہ دن پہلے سدے (بلاوا دعوت )دینے سے کیا جاتا رشتے دار خواتین کا ایک بڑا گروپ تمام رشتے داروں ملنے ملانے والوں کے گھر باری باری جاتے اورشادی کی دعوت دیتے جس کے جواب میں اہل خانہ چینی پھول اورجوڑا یا دوپٹہ بطور سدہ دیتے اپنی حیثیت و رشتے کے لحاظ سے کمی بیشی ہو سکتی ہے )نیز کھانا چاے مشروبات سے خاطر تواضع کی بھی کی جاتی ۔جس دن چاول صاف کیے اس دن بھی قریبی لوگوں کو بلوا لیا جاتا ۔سب مل کر چاول صاف کرتے ہنسی مذاق ڈھولک ساتھ ساتھ چلتی ۔گھر کی بیٹھک میں لڑکے جھنڈیاں اپنے ہاتھ سے بناتے جو بعد ازاں گھر اورپوری گلی میں لگا دی جاتیں ۔باورچی خانے میں ایک دو خواتین بیٹھا دی جاتیں جوہمہ وقت چائے کھانےوغیرہ تیا رکرکے مہمانوں کے آگے پروستی رہتیں ۔شادی کی باقاعدہ تقریب کا آغاز گوٹھ میں بٹھانے سے ہوتا لڑکے والے آکر لڑکی کو کمرے کے کونے میں جو مختص کرکے سجایا گیا ہوتا

لڑکے والے آکر پہلے خوب ہلاگلا ناچ گانا کرتے پھر رسم کرنے کے لیے کمرے کی طرف بڑھتے تو اکثر سکھی سہلیاں شرارتا”کنڈی لگا لیتیں ۔دروازہ کھلوانے پر دونوں طرف خوب نوک جھونک ہوتی۔آخر کار دروازہ کھلتا اوررسم ادا کی جاتی ۔یہ رسم وہ خاتون اداکرتی جو سہاگن اورخوش قسمت ہو۔لڑکی کو کونے میں چوکی یا پیڑھےپربیٹھاکرسر پربنارسی ڈال ،گود میں بڑی سی پوٹلی میں بندھے ہوےخشک میوہ جات رکھ،ہاتھ پر مہندی لگادی جاتی۔پھر اس کے بالوں کی ایک لٹ نکال کر مینڈھی سی بنا دیتے ۔چلیں جی اب لڑکے بغیر کچھ کھائے پیے رخصت ہوے۔دوسرے دن عصر کے وقت سے ہی لوگ جمع ہونے شروع ہو جاتے مہندی گھولی جاتی ۔دولہا کی ماں کو سب لوگ مہندی کے پیسے دیتے ا۔اور ساتھ بیٹھی عورت لکھتی جاتی کہ کس نے کیا دیا ۔ساتھ ساتھ ڈھولک ناچ گانابھی چلتا رہتا ۔مغرب کی اذان کے ساتھ ہی کھانا لگنے کا اعلان ہوجاتا۔اور صحن میں بڑی بڑی چار پائیوں پر بیٹھی خواتین سے کہا جاتا کہ پینڈےبنالومطلب 4یا5 کادائرہ سابنالو ۔اب ان کے درمیان غوری پلاو کے اوپر قورمہ رکھا ہوتا۔تو دوسری طرف زردہ رکھ دی جاتی ساتھ ساتھ گرم چاول وغیرہ مزید ڈالتے جاتے ۔گھر کی خواتین سب کے آگے خود کھانا بھی رکھتیں اور پوچھتیں کہ کچھ اورچاہیے ۔کھانے سے فراغت پاکر سب لوگ گاتے بجاتے دلہن کے گھر جاتے پھر خوب خوب تماشہ ہوتا موج مستی گانا بجانا آخر میں رسم ادا کی جاتی کل جومینڈھی بنائی تھی اسے کھول کر رسم ادا کی جاتی ہے

جاری
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY