میں نے کسی کو دیکھا جو ” ذہین اور شریف ” ہے۔
اس ( ذہانت اور شرافت ) کی وجہ سے مجھے اُس کی طرف کشش محسوس ہوئی اور محبت ہو گئی۔
اب اگر وہ چہرے اور جسم سے خوبصورت نہ بھی ہو ، اس میں کوئی بھی کسی بھی قسم کا عیب بھی ہو ، وہ بوڑھا ہو یا جوان ہو ، وہ قریب ہو یا دور ہو ، میرے دل میں اس کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ، میں کسی اور کی طرف نہیں دیکھوں گا اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی امید رکھوں گا۔
۔
لیکن اگر کبھی یہ وجہ ( ذہانت اور شرافت ) ختم ہو گئی۔ مثلاََ وہ جہالت دیکھانے لگا یا وہ شرافت کے بجائے ذلالت دیکھانے لگا ، تو میرے دل میں اس کیلئے کشش ماند پڑنا شروع ہو جائے گی ، میں بور ہونے لگوں گا ، آخر کار مجھے اس سے اتنی ہی شدید نفرت ہو سکتی ہے جیسی محبت تھی۔ کیونکہ میں ذہانت و شرافت کی قدر کرتا ہوں جبکہ وہ انہیں اقدار کو روند رہا ہے۔
پس جس وجہ سے میری اس کیلئے کشش ہو گی یہ وجہ اس میں سے ختم ہو گئی تو محبت ختم ہو جائے گی۔
۔
وقتی کیفیت میں ہم یہی سوچتے ہیں کہ یہ وجہ کبھی ختم نہیں ہو گی ، ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے ، ہمیں کوئی اور پسند نہیں آسکتا ، لیکن یہ کیفیت کا اثر ہوتا ہے جیسے ہی ہم اس سے نکل جاتے ہیں ، تب ہمیں خود بخود سمجھ جاتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ ایک ہی شخص کے ساتھ ہمیشہ رہا جا سکے۔
ایک اور نقطہ یہ ہے کہ چونکہ میں ذہانت اور شرافت کی وجہ سے کسی کی طرف کشش محسوس کرتا ہوں تو کیا وجہ ہے کہ اگر مجھے کسی اور میں اس سے بھی زیادہ ذہانت و شرافت مل جائے تو اس کی طرف نہیں جاوں گا؟ اس لیے میں کہتا ہوں کہ محبت بار بار بلکہ کئی بار ہو جاتی ہے۔
۔
دوسری بات یہ کہ اسی ( ذہانت اور شرافت ) کو ہم جنرلی حُسن کہتے ہیں۔ لیکن چونکہ جب بھی حُسن کا لفظ آتا ہے تو ہمارے ذہن میں چہرے اور جسم کا حُسن آجاتا ہے ، جبکہ اسے خوبصورتی کہتے ہیں ، یعنی صورت کی خوبی۔ لیکن حُسن میں ہر چیز شامل ہوتی ہے ، چہرے اور جسم کی خوبصورتی سے لے کر ذہانت ، اخلاق ، مسکراہٹ ، ہمدردی ، کسی کا جانثار ہونا ، کسی کا شاطر ہونا وغیرہ۔ مختصراََ کہا جائے تو حُسن ایک باکس کی طرح ہے ، اور ا سکے اندر ہر وہ خوبی ” موجود ہے جو کائنات میں پائی جاتی ہے ، اس باکس میں چہرے کی خوبصورتی بھی ہے اور جسم کی کشش بھی ، اس باکس میں معصومیت بھی ہے اور ذہانت بھی ، اس باکس میں دوستی بھی ہے اور شرافت بھی ، اس باکس میں وفادرای بھی ہے اور ذہانت بھی ہے۔
۔
اسی لیے ہر انسان کو مختلف وجوہات کی بنا پر محبت ہو جاتی ہے ، کسی کو ذہانت پسند آتی ہے کسی کو شرافت کوئی چہرے کا گرویدہ ہو جاتا ہے کوئی نخروں کا ، کوئی کسی کی ادا پر مر مٹتا ہے کوئی کسی کے اخلاق پر کوئی جانثاری و وفادری کا اسیر ہو جاتا ہے کوئی شہرت و دولت وغیرہ کا۔
اس لیے ہم اکثر یہی کہتے ہیں کہ محبت خوبصورتی سے نہیں ہوتی ، یہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم اس شخص سے محبت خوبصورتی کی وجہ سے ہوئی ہی نہیں تھی ، ہمارے دل میں اس کیلئے کشش کی وجہ خوبصورتی تھی ہی نہیں۔
پھر ایک یہ بات کی جاتی ہے کہ پہلی نظر یا فسٹ سائٹ میں ہو جاتی ہے اور یہ بس ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہ بات سچ بھی ہے اور سچ نہیں بھی ہے۔ کیونکہ یہاں سوال یہ ہے کہ آپ کو کسی کی ذہانت ہی کیوں پسند آئی ؟ جبکہ کسی اور کو اسی شخص کی ادائیں بھا گئیں؟ یہ دراصل ہمارے لاشعور کی کارستانی ہے ، جو تر آوٹ ہماری لائف میں ہماری پسند نا پسند کی انسٹرکشن ہم ہی سے لے کر محفوظ کرتا رہتا ہے اور جہاں انہیں دیکھتا ہے ہمیں خبر کر دیتا ہے کہ یہی چیز تمہیں پسند ہے اور ہمیں فوراَ وہ چیز کلِک کر جاتی ہے اور ہمارے دل کو گرویدہ بنا لیتی ہے۔
اور محبت بس ہو جاتی ہے ، کا جملہ اس لیے معروف و مشہور ہے کیونکہ ہمیں خود بھی یا تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیوں ہوئی ، یا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کیوں ہوئی لیکن ہم بتانا نہیں چاہتے ، کیونکہ وجہ ناپسندیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے سمپلی محبت کا تخیلاتی اور افسانوی تصور آگے پیش کر دیتے ہیں کہ بس ہو جاتی ہے۔
۔
لیکن سوال یہاں یہ بھی ہے کہ ہم آخر کیوں محبت کے بارے میں غرض ، فائدے ، مقصد ، جیسی اصطلاحات کو پسند نہیں کرتے؟ یا پریکٹیکل محبت کے بجائے افسانوی اور تخیلاتی محبت کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
اس کا جواب انسانی فطرت سے ہمیں ملتا ہے ، انسان اپنی فطرت میں ہمیشہ کامل چیز کو چاہتا ہے ، ہمیشہ بے عیب چیز کی آرزو اور چاہت کرتا ہے ، لیکن حقیقی دنیا میں کوئی بھی چیز بغیر عیب کے موجود ہی نہیں ہے ، اور یوں ہی حقیقی محبت کا روپ بھی چونکہ اپنے تمام تر عیوب کے ساتھ موجود ہے ، اس لیے ہم اسے قبول نہیں کر پاتے اور اپنی فطری ضرورت کو افسانویت اور تخیل سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ افسانوی اور تخیلاتی کتابوں ناولوں اور فلموں ڈراموں وغیرہ نے ہماری نفسیات میں جو فیڈنگ کی ہے اس کی وجہ سے بھی اب ہمیں حقیقت کو قبول کرنے میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سلسلے میں آخری پوائنٹ یہ ہے کہ یہ کائنات کا فطری اصول ہے کہ ہر چیز کے موجود ہونے کی ” وجہ اور مقصد ” ہوتا ہے ، دنیا کا کوئی بھی علم ایسا نہیں ہے جو اس بات کو رد کرتا ہو ، ہاں البتہ افسانوی ناولوں کا ذکر نہی کریں گے۔ یعنی کہ میرے دل میں کوئی جذبہ تو موجود ہے ، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں ہے یہ بس خود بخود ہی بنا کسی وجہ کے پیدا ہو گیا ہے اور یہ بلکل ہی بے کار ہے چونکہا س کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ بات تخلیقِ کائنات کے سراسر خلاف اور ناممکنات میں سے ہے کہ کوئی بلکل بے کار اور عبث ہو ، یہاں تک کہ خود عبث چیز کی بھی وجہ اور مقصد ہوتا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ا سکا علم نہ ہو۔
۔
آخری بات اگر کوئی یہ سوال رکھتا ہو کہ محبت جیسی بے کار چیز کے بارے میں اتنی گفتگو اور تذکرے کی کیا ضرورت ہے ، تو دراصل محبت ایک مثال ہے ، اصل مقصد انسان کو سمجھنے کا ہے جو کا کائنات کا سب سے سنجیدہ اور علوم کا سب سے مرکزی نقطہ ہے ، اور انسان کی فطرت سب سے بنیادی چیز ہے جس کے زریعے انسان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ محبت کا جذبہ فقط ایک کیس سٹڈی کی طرح ہے۔
جسٹن سنو ۔۔













