بحمد للہ ۔۔۔۔ آغاز سفر بیت معمور سید الشہدا ء
ازن حضور آ گیا کربل کے نگر کا
احساس خوشگوار ہے جنت کے سفر کا
سلطان کربلا کی ہے جنت زمین پر
فیضان نور چھایا ہے ہاشم کے قمر کا
مجھ سا گنہگار کہاں اور یہ دن کہاں
مجھ پر بے حساب کرم تیری نظر کا
اے نور عین زھرا و حیدر نگاہ دار
آیا ہے در پہ تیرے گنہگار دھر کا
عرفان و معرفت سے ہے لبریز دل کا جام
معجز نما ہے مولا کرم تیرے بحر کا
جاتا کہاں یہ بندہ عاصی تیرے سوا
بدلا نصیب آپ کے دروازے پہ حر کا
فطرس کو دیکھ آگیا کاظم قصوروار
رکھ لو بھرم فقیر ہے یہ آپ کے گھر کا۔
کاظم کاظمی














بشکریہ علامہ منتظر عباس نقوی
9 دسمبر یوم وفات خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی کی مختصر سوانح حیات ، حالات اور واقعات
آپ 12 دسمبر 1912 کو یو پی، ہندوستان میں پیدا ہوئے ، آپکا نام سید محمد اظہر حسن زیدی اور رہبر حسین رکھا گیا ، لیکن بچپن میں آپکو عام طور پر رہبر کہا جاتا تھا۔
آپ 12 دسمبر 1912 کو دریائے گنگا کے کنارے سادات کی بستی رسول پور، ضلع بجنور، یو پی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
بستی رسول پور کو بادشاہان اودھ آصف الدولہ نے آپکے دادا ، پردادا کو بطور جاگیر عطا کیے تھے تاکہ سادات یہاں پر آباد ہو کر کھیتی باڑی کریں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام برپا کریں۔
جب خطیب آل محمد پیدا ہوئے تو مولانا صغیر حسن قبلہ جو کہ پورے برصغیر میں علمی حوالے سے مشہور و معروف تھی، نے آپکے کان میں آذان کہی تھی اور آپکو دیکھ کر آپکے والد گرامی کو کہا کہ آپکو علم دین کی تعلیم دلوا کر مولوی بنائیں۔ جب مولانا صغیر حسن صاحب نے آپکا زائچہ نکالا تو کہا کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا زائچہ ہے، آپ وطن میں ہی نہیں بلکہ پردیس میں بھی تکالیف اٹھائیں گے اور عزت بھی پائیں گے۔
جب آپ صرف سوا سال کے تھے تو آپکی والدہ گرامی نے آپکو انیس کا ایک بند سنایا تھا جو کہ آپ نے اسی وقت یاد کر لیا تھا ۔ وہ بند یہ تھا۔
عالم میں جو تھے فیض کے دریا وہ کہاں ہیں ؟
ہم سب سے جو افضل و اعلی وہ کہاں ہیں ؟
جو نور خدا سے ہوئے پیدا وہ کہاں ہیں ؟
پیدا ہوئی جن کیلئے دنیا وہ کہاں ہیں ؟
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا ؟
شام کو آپ نے یہ بند مولانا صغیر حسن صاحب کو اور بہت سے افراد کو سنایا اور آپکی بچپن میں ہی شہرت ہو گئی۔
جب آپ دو سال کے تھے تو تیس فٹ کی بلندی سے گر گئے اور آپکو سانس کی تکلیف ہو گئی تھی۔
چار سال میں ہی آپ نے انیس، میر، دبیر، غالب اور اسمعیل میرٹھی کے بہت شعر یاد کر لیے تھے۔ آپکی والدہ گرامی آپکو انیس اور دبیر کے شعر انہی کے لہجے میں سناتی تھی اور آپ اسی وقت اسی لہجے میں شعر سنا دیتے تھے۔
بچپن میں آپکے کان میں ایک ہیرا پڑا رہتا تھا اور آپکے گلے میں سونے کی ہنسلی اور کم از کم پچاس تعویز ہوتے تھے۔ کیونکہ آپ بہت منتوں مرادوں سے پیدا ہوئے تھے اور آپکی والدہ گرامی ہر آٹھویں دن نظر بد سے بچنے کیلئے آپکی پلکیں کتر کر انکی دھونی دیتی تھی۔ آپکی پرورش بہت ہی ناز و نعم سے ہوئی تھی۔ آپ باہر بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتے تھے بلکہ گھر میں ہی کھیلتے یا خاموش رہتے تھے ۔
جب آپ چار سال چار ماہ اور چار دن کے ہوئے تو آپ کو ایک مولانا کے سامنے بیٹھا دیا گیا اور آپکی بسم اللہ کروائی گئی۔ بہت بڑے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ آپکے سامنے قاعدہ رکھا گیا جس میں الف ب لکھی ہوئی تھی وہ آپ نے چار دن میں یاد کر لیا۔ چھ سال میں آپ اردو کی ہر کتاب کو پڑھ سکتے تھے۔
یکم مارچ 1920 کو 8 جمادی الثانی کے دن سید الفقہا علامہ سبط نبی صاحب کے سپرد کر دیا گیا جو کہ سادات کی بستی نوگانواں سادات میں رہتے تھے۔ جب آپ وہاں پہنچے تو ایک منشی اور ملازم آپکی خدمت کرنے کیلئے آپکے ساتھ تھا ، آپ نے سونے کے کام والی مخملی ٹوپی، بہترین لباس، سلیم شاہی جوتا اور چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا۔ آپکو دیکھ کر علامہ صاحب نے آپکے والد سے کہا کہ یہاں فقیرانہ ماحول ہے، بوریے پر بیٹھنا اور دال کھانی پڑتی ہے، آپ یہاں نہیں رہ سکیں گے لیکن آپکے والد نے آپکو علامہ صاحب کے سپرد کیا اور چلے گئے، رات کو آپکو بخار ہو گیا۔ لیکن آپ نے علامہ صاحب کے پاس اس بوری ے پر بیٹھ کر بارہ 12 سال تعلیم حاصل کی ۔ وہاں پر برصغیر کے بہت سے علاقوں سے طلباء علم حاصل کرنے آتے تھے اور آپ چونکہ کمسن تھے تو آپ بڑے طلباء کے درس کو بھی سنا کرتے تھے۔ پندرہ دن بعد بڑے طلباء سے استاد نے کہا کہ اب تک جو پڑھا وہ سناؤ، تو کسی کو نہ آیا تو آپ نے کہا کہ آپ سناتے ہیں ، اور آپ کو سب یاد تھا جو کہ آپ سنتے تھے حالانکہ انکے معنی آپکو نہیں آتے تھے۔
جب آپ یونیورسٹی میں منشی کا امتحان دینے گئے تو آپکی عمر آٹھ برس تھی جو کہ کم نکلی ۔ آپ نے فارم بھرنے والے سے کہا کہ اتنی عمر لکھ دو کہ امتحان دے سکوں۔ جب آپ امتحان دینے سنٹر میں گئے تو بچپن کیوجہ سے آپ میز پر بیٹھ کر لکھ نہیں پا رہے تھے تو انتظامیہ نے آپکے لیے علیحدہ انتظام کیا۔ امتحان دے کر آپ گھر آ گئے۔ جب نتیجہ آیا تو آپ اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تھے تو آپکی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی اور آپ کے استاد محترم بہت خوش ہوئے۔ پھر آپ نے 1922 میں مولوی کا امتحان دیا، اس امتحان میں علامہ علی نقی نقن رح نے بھی آپکے ساتھ تھے۔ آپ نے یہ امتحان بھی پاس کر لیا۔
23 دسمبر 1930 کو آپ ہندوستان سے لاہور پہنچے۔ یہاں امام بارگاہ خواجگان ناروالی میں معراج کے سلسلے میں جلسہ تھا۔ آپ پانچ منٹ شوقیہ منبر پر آئے تھے ، پانچ منٹ خطاب کے بعد آپ جانے لگے تو مجمع نے شور مچا دیا کہ ابھی اور ابھی اور، اسطرح آپ پانچ منٹ سے چالیس منٹ تک پڑھتے رہے۔ اور یہ جلسہ آپکے خطاب پر ختم ہوا ، آپکے ہوتے ہوئے کسی اور کو پڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
1931 میں آپ نے پانی پت ہندوستان میں مجالس پڑھی اور 1936 کو دوبارہ آپ لاہور واپس آئے۔ امام بارگاہ خواجگان میں دس تقاریر کیں جو کہ آپکا تعارف بنیں اور آپکی ہر جگہ شہرت ہو گئی۔ اسکے بعد آپ زیارات کیلئے عراق چلے گئے اور جس دن واپس آئے اس دن 21 اپریل 1938 کو علامہ محمد اقبال رح کا انتقال ہو گیا تھا اور رات کو مولانا ظفر علی خان کی زیر صدارت برکت علی ہال میں علامہ اقبال کے موضوع پر جلسہ تھا۔ آپ نے تقریر کی ، مولانا ظفر علی خان آپکی تقریر سے بہت متاثر ہوئے۔ پھر آپ نے پنجاب بھر میں تقاریر کیں۔ ایک چہلم امام حسین علیہ السلام کی مجلس پڑھ کر آپ کہیں سے واپس آ رہے تھے تو امام بارگاہ خواجگان میں چند آدمی فرش پر بیٹھے ہیں اور ایک آدمی سوز پڑھ رہا تھا ، پتہ چلا کہ مجلس ہے لیکن انکے پاس مجلس پڑھنے کیلئے کوئی خطیب نہیں ہے۔ آپ نے کہا کہ آپ مجلس پڑھیں گے ۔ اور پھر آپ نے اسی امام بارگاہ خواجگان میں بیس سال عشرہ پڑھا۔
آپ نے الہ آباد کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے بھی تمام اوریئنٹل امتحان اعلی درجے میں پاس کیے، اس وقت تمام عربی مدارس میں آپکی ذہانت کی شہرت ہو گئی تھی، اسکے علاوہ دیگر دینی تعلیم و اصول و فقہ و علم کلام وغیرہ بھی حاصل کئے۔
آپ آقاۓ سید کاظم شریعتمداری کے حکم سے آیت اللہ بروجردی کی تقلید پر قائم تھے۔
جب خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی،حماد اہلبیت سید محسن نقوی شہید کے گھر ڈیرہ غازی خان میں 1966 میں تشریف لے گئے تو محسن نقوی نے قبلہ زیدی صاحب کو ایک شعر سنایا۔
ہزار تہمتیں دنیا نے بخش دیں مجھ کو
میں آدمی تھا مگر چپ رہا خدا کی طرح
خطیب آل محمد نے اس شعر پر پورا عشرہ پڑھا تھا۔
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم اپنے دور کے جن شخصیات سے بہت زیادہ متاثر تھے ان میں سرفہرست سرکار علامہ ناصر الملت ناصر حسین اعلی اللہ مقامہ تھے۔ ناصر الملت علم فقہ و علم دینیات کے ماہر تھے۔ آقا ابوالحسن اصفہانی اور آقا بروجردی بھی آپکے علم کے قائل تھے ۔ نجف اشرف میں پانچ چھ سو علما اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سرکار ناصر الملت کے کسی مقالے پر صدر المحقیقین کا خطاب لکھ کر بھیجا تھا۔
خطیب آل محمد آٹھارہ سال کے نوجوان تھے تو ایران آیت اللہ مرعشی نجفی سے ملنے گئے ، کچھ باتیں کرنے کے بعد آیت اللہ مرعشی نے خطیب آل محمد کیلئے مسند بچھوا دی۔
ایک کمرے میں چند علمائے کرام بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر کتابوں کے ڈھیر رکھے ہوئے تھے، خطیب آل محمد نے آیت اللہ مرعشی نجفی سے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں جو ناصر الملت نامی شخص کے کچھ مضامین پر ریسرچ ہو رہی ہے۔
سرکار ناصر الملت چوبیس گھنٹے میں صرف ایک گھنٹہ کیلئے ملاقات کرتے تھے، تیئس گھنٹے مصروف رہتے تھے۔ کسی نے ناصر الملت سے پوچھا عقد ام کلثوم کیا ہے۔
سرکار ناصر الملت نے فرمایا
خدانخواستہ کفر و اسلام کا کبھی رشتہ نہیں ہوتا، نور و ظلمت میں کبھی تعلق نہیں ہو سکتا۔
سرکار ناصر الملت سولہ سال کے تھے، جب سے اپنے کتب خانے میں جاتے تھے، چھ گھنٹے کتب خانہ میں رہتے تھے، ایک دن ناغہ نہیں کیا، شیعہ سنی اور ہندو سب آپکو چلتی پھرتی لائبریری کہا کرتے تھے۔ 76 برس کے تھے جب سرکار ناصر الملت فوت ہوئے ۔
آپ 9 دسمبر 1986 کو اس جہان فانی سے رخصت فرما گئے اور کربلا گامے شاہ لاہور میں دفن کیے گئے –
التماس سورہ فاتحہ براۓ ایصال ثواب و بلندی درجات