اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق بل پر حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن کی جانب سے تنقید کے بعد سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی سربراہ سجاد حسین طوری نے کہا کہ اگر بل پر اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا تو واپس لے لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سجاد حسین طوری آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے تاہم بعد ازاں گزشتہ برس انہیں سینیٹ میں پی ٹی آئی کا پارلیمانی سربراہ مقرر کیا گیا تھا، یہ بھی یاد رہے کہ ان کی جانب سے کل (2 فروری کو) سینیٹ میں تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کیا جانا تھا۔

ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے سجاد حسین طوری نے کہا کہ کچھ لوگ نمبر گیم کی وجہ سے بل کی مخالفت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت ہے اور دعویٰ کیا کہ 104 اراکین میں سے 85 فیصد نے بل کی حمایت کی ہے۔

سجاد حسین طوری نے مزید کہا کہ وہ بل سے متعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور اگر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو بل واپس لے لیں گے۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تنخواہوں میں تجویز کردہ اضافے کو نامناسب قرار دے دیا اور کہا کہ ملک اب تک معاشی بحران سے باہر نہیں نکلا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی تنخواہوں میں اضافہ کریں گے تو خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑے گا۔

اسد قیصر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ تب کیا جائے جب ملکی خزانہ اس بوجھ کو برداشت کرسکے۔ ‎

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں دو گنا اضافے کے بل کی مخالفت کردی جو کل سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات اسد عمر نے کہا کہ امید ہے کہ میڈیا میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہ بڑھانے سے متعلق سینیٹ کی قرارداد کی خبریں درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ان حالات میں بالکل بھی مناسب نہیں کہ عوامی نمائندے اپنی مراعات میں اضافہ کریں’۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بیان دیا کہ ان کی جماعت بل کی حمایت نہیں کرے گی۔ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں شیری رحمٰن نے کہا کہ ‘اس وقت پاکستانی عوام کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور ایسے موقع پر دیگر افراد سے تنخواہوں کی برابری نہیں کی جاسکتی’۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری پیسے کو اس وقت عوام کے ریلیف پر خرچ ہونا چاہیے۔

…………….

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اراکین سینٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے مجوزہ بل کی مخالفت کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی رہنما و سینیٹر فیصل جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان نے قومی وسائل کی بچت کی ہدایات دے رکھی ہیں اور ان کی اور تحریک انصاف کی ترجیح عوام خصوصاً غریب طبقہ ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘قومی خزانے کو خود پر استعمال نہ کرنے کی ابتدا وزیر اعظم نے خود سے کی، وہ اپنی ذاتی رہائش گاہ میں مقیم رہ کر وزیر اعظم کے دفتر کے اخراجات میں تاریخی کمی کر چکے ہیں، بیرون ممالک دوروں کے معاملے میں بھی عمران خان نے خود کو مثال بنایا اور کم از کم سرمایہ خرچ کیا، لہٰذا جب تک ملکی معیشت مکمل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوجاتی عوامی نمائندوں کو بھی وزیر اعظم کی تقلید کرنی چاہیے۔’

فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ‘تحریک انصاف اس مرحلے پر سینٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کی کوششوں کا حصہ نہیں بنے گی اور اس حوالے سے ایوان میں مجوزہ مسودہ قانون کی مخالفت کریں گے۔’

یاد رہے کہ رواں ہفتے سوشل میڈیا میں یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی تنخواہ میں اضافہ کرلیا ہے جس کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق من گھڑت خبریں پھیلائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ تجزیہ نگاروں کی جانب سے مبالغہ آرائی کی گئی کہ چونکہ وزیراعظم کا اپنی تنخواہ میں بھی گزارا نہیں ہورہا تھا تو انہوں نے اپنی تنخواہ بڑھا لی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے من گھڑت خبریں پھیلائی گئیں جبکہ وزیراعظم نے حکومتی اخراجات میں کمی کا اطلاق سب سے پہلے خود پر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہر ممکنہ طریقے سے حکومتی اخراجات میں کمی کی مہم چلا رہے ہیں تاہم من گھڑت خبر کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے کے لیے بیانیہ پیش کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دونوں اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ‘ہم نے وزیر اعظم ہاؤس اور دفتر کا خرچ 30 سے 40 کروڑ روپے کم کردیا حالانکہ مہنگائی ہے، آج میں اپنے گھر کا خرچ خود اٹھاتا ہوں، خزانے سے نہیں لیتا جبکہ مجھے جو تنخواہ ملتی ہے اس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔’

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے شاہ خرچیوں کو کنٹرول کیا اور سادگی کی مثال بنے، اس کے علاوہ انہوں نے اپنا صوابدیدی فنڈ بچا کر قومی خزانے میں جمع کروائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY