اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے مبینہ ’پراسرار طور پر فرار‘ ہونے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔
اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔
مذکورہ معاملہ رکنِ اسمبلی محسن داوڑ نے اٹھایا جبکہ قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی کے سید نوید قمر نے اس معاملے پر حکومت کی خاموشی پر سوال کیا۔
اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دو اراکین اسمبلی کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے وقت محض چند وزرا موجود تھے جنہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔
بعدازاں جب نماز مغرب کے وقفے کے بعد اجلاس ہوا تو اس کی سربراہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی عمران خٹک نے کی کیوں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں ایوان میں موجود نہیں تھے۔
سید نوید قمر نے سوال کیا کہ ’آپ کس طرح احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کا معاملہ پس پشت ڈال سکتے ہیں؟ انہوں نے حکومت سے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ کیا اسے ڈیل کے تحت رہا کیا گیا یا وہ سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں سے بچ نکلا‘۔
سید نوید قمر نے پوچھا کہ ’اگر امریکا سے بھی کوئی ڈیل ہوئی ہے تو ہمیں بتایا جائے‘۔
پی پی پی رکن اسمبلی نے یاد دہانی کروائی کہ حکومت نے اس حراست کی پر زور تشہیر کی تھی جس میں ’عالمی مجرم‘ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
رہنما پیپلزپارٹی نے پوچھا کہ ’اگر ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اس حوالے سے سوال کیا گیا تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ ہم کس طرح کی ریاست چلا رہے ہیں؟‘
دوران گفتگو سید نوید قمر نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر احسان اللہ احسان ’اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی کے احاطے‘ سے فرار ہوسکتا ہے تو اس سے ’خطرے کی سطح‘ کھل کر سامنے آگئی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ (ملک میں) کیا محفوظ ہے؟ ساتھ ہی ایوان کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ یا تو اس کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے یا اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوایا جائے کیوں کہ حقائق جاننا پارلیمان کا استحقاق ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ معاملے کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہوسکتا ہے۔
سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ ’ایوان کا تقدس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پارلیمان کو بائی پاس نہ کیا جائے بلکہ اعتماد میں لیا جائے‘۔
قبل ازیں رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ٹی ٹی پی رکن کے فرار ہونے کے حوالے سے حکومت کے سامنے 3 سوالات اٹھائے۔
محسن داوڑ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ کچھ روز قبل سامنے آیا تھا لیکن حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’احسان اللہ احسان کو کس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا؟ اسے کس عدالت میں پیش کیا گیا؟ اور کس جیل میں قید رکھا گیا تھا؟
رکن اسمبلی کی جانب سے مذکورہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوانے کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کرنے والے عمران خٹک نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے جواب آنے کے بعد ہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔
علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل کو ایوان میں تقریر کرنے کی اجازت نہ ملی تو انہوں نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی جس کے باعث اجلاس منگل کی شام تک ملتوی کردیا گیا، جس میں ملک کی معاشی صورتحال پر بات کی جائے گی۔












