دنیا چلتی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ سب کچھ اُس مالکِ کائنات ربِ کُل کے اختیار میں ہے انسان مرتا رہے گا جیتا رہے گا ۔کاروبارِ زندگی رواں دواں رہے گا ۔حالات بدلتے رہتے ہیں ہم سوچتے کچھ ہیں ہوتا کچھ ہے کیونکہ ایک ہماری سوچ ہے اور ایک فیصلہ اوپر ہوتا ہے ۔کچھ سالوں سے ہم سارے ہی چائنا کی طرف دیکھ رہے تھے اُس کی مثالیں دے رہے تھے ۔ہمارے ملک میں سی پیک کی باتیں زبان ضدِ عام تھیں کچھ اُس پر تنقید کرتے تھے تو کچھ اُسے اپنی قسمت بدلنے کا زریعہ سمجھ رہے تھے ۔چائنا ہمارا انتہائی مُخلص اور با اعتماد دوست ملک ہے جس نے ہمیں ہر موقعے پر اپنے ساتھ سے طاقت دی ،لیکن کون جانتا تھا کہ ایک ایسی بیماری پھیلے گی جو اسکی مشکلوں میں بے شمار اضافہ کر جائیگی وہ بھی ایک وباء کی صورت ۔اسکی اکانومی پر مشکل اآجائیگی اسکی تجارت خطرے میں پڑ جائیگی ،اسکے لوگ محصور ہو جائیں گے ۔اتنا بڑا دھکا چائنا کو لگا ہے کہ کوئی اور ملک شاید ہی اس ہمت اور استقلال سے اُسے برداشت کر پاتا جیسا چائنا کے لوگوں نے اور ان کی حکومت نے کیا ہے ۔
وہاں ہم نے کوئی بے تکی خبریں نہیں دیکھیں بلکہ خبر یہ دیکھی کہ ایک ہفتے میں ہزار بستر کا اسپتال کھڑا کر دیا گیا ۔خبر یہ دیکھی کہ پورے پورے شہر کرنٹائن کر دئے گئے ،خبر یہ پڑھی کہ سارے ڈاکٹر دن رات مریضوں کا علاج کر رہے ہیں نہ کوئی حکومت کو گالیاں دیتا نظر اآیا نہ کوئی ڈاکٹر اسٹڑائیک پر گئے، نہ دواؤں کی کمی کا رونا کھڑا ہوا اور نہ ہی حکومت کے بخئے اُدھیڑے گئے ،پہلے کہا جاتا تھا ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب دنیا کے کسی خظے میں وباء پھیلے یا زلزلہ اآئے یا سیلاب اآئے تو سمجھو کہ یہ تمہارے لئے ایک تنبیہ ہے کہ اپنے اعمال پر نظر کرو اور توبہ کرو ،
اب ہم نے ہر چیز کو “ لائٹ “ لینا شروع کیا ہے ۔ہم سوچتے سمجھتے نہیں بلکہ تنقید اور بحث بے کار کی بحث اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ہر بات میں حکومت کو گھسیٹ لیتے ہیں ۔اگر حکومت غلطی کر رہی ہے تو جائز ہے کہ اس سے پوچھ گچھ کی جائے لیکن صرف اپنا بغض اور کد نکالنے کے لئے ملکی مفادات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا جائے یہ کوئی زمے داری کی بات ہے نہ ہی کوئی قوم ایسا کرتی ہے ۔ہمارا ملک اب تک بچا ہوا تھا لیکن اب دو لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں جو ایران سے اآئے ہین زیارت کے بعد ،
جہاں یہ وائرس پھیلا وہاں لوگ مفت ماسک بانٹ رہے ہیں اور ہمارے یہاں دو کیسوں کے بعد ماسک مہنگے کر دئے گئے ،بے حسی کی انتہاء ہے اور ہماری بھی نا عاقبت اندیشی عروج پر ہے کم از کم اتنی سلائی تو سب کو اآنی چاہئے کہ خود گھر میں ماسک بنا لیں کیا ضروری ہے کہ خریدا ہوا ماسک ہی پہنا جائے ،ہم تو خود فروغ دیتے ہیں منافع خوری کو ۔پہلے خواتین کو اتنی سلائی ضرور اآتی تھی کہ وہ ا ن چھوٹی چھوٹی چیزوں کو گھروں پر خود بنا لیا کرتی تھیں ۔اب ہم نے بچیوں کو ان تمام ہنر سے بے بہرہ کر دیا ہے ۔کیونکہ ہم نے اپنی اقدار جس بے دردی سے ختم کی ہیں وہ ہمیں تکلیف ہی دیتی ہیں ۔ہم زرا زرا سی چیزوں کے لئے بھی تاجروں کے محتاج ہیں ۔
ہم جس طرح اخلاقی طور پر انحطاط کا شکار ہوئے ہیں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہم نے عزت اور احترام جیسی خاصیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ہم نے سب کو ایک لائن میں کھڑا کر دیا ہے ۔بلا شک کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں لیکن وہ جن باتوں میں ہے انہیں تو ہم جانتے بھی نہیں ۔پہلے بڑوں کا احترام تھا بچوں سے محبت تھی خواتین کا احترام کیا جاتا تھا ،اب تو سب ایک لائن میں کھڑے کر دئے گئے ہیں اور ہم نے خود کو کر بھی لیا ہے اسی قابل ۔یہ فتنہ کس طرح ہمارے اندر اآیا اگر دیکھیں تو ان سیاسی جماعتوں ہی نے یہ ماحول پیدا کیا ہمیں بے نظیر پر تنقید یاد ہے ۔جہاں سے یہ فساد شروع ہوا تھا لیکن پی پی پی نے پھر بھی کافی عرصہ بند باندھے رکھا لیکن اب وہ بھی اسی بھیڑ چال میں شامل ہو گئے ہیں ۔کیونکہ لیڈر بغیر جدو جہد کے نہیں بنا کرتے ۔اآنٹیوں اور انکلز سے اگر لیڈری اآجاتی تو شاید اآج ملک کا ہر بچہ لیڈر ہوتا ۔ایک خاتون ایم این اے کل جس طرح پختونخواہ اسمبلی میں سیٹی بجاتی رہیں اُس نے ہمیں بہت خوفزدہ کر دیا کیونکہ کوئی جوان بچی نہیں تھی بلکہ ایک عمر رسیدہ خاتون تھیہں جن سے ہم توقع رکھتے ہیں شائستگی کی ،سنجیدگی کی ۔یہ ہمارے کوٹے کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اسمبلی کی عزت کیا جانیں اول تو ہم نے ساری ہی عزتیں اور توقیریں ہتھیلی پر رکھ دی ہیں لیکن ہم نے وہ دور دیکھے ہیں جب کچھ نہ کچھ عزت تھی ان سب کی ۔جب اسمبلی سے تعلیم ختم کی گئی ہم نے جب ہی لکھا تھا کہ اب یہاں جو بازار لگے گا وہ کسی بھی قابل نہیں ہوگا ۔ہمیں تو خوف ہے کہ کچھ عرصہ اگر یہ ہی ماحول بنا رہا تو شاید کوئی بھی عزت رکھنے والا با ضمیر شخص سیاست کا رُخ نہیں کرے گا اور ہم ایسے گڑھے میں جا گریں گے جہاں سے نکلنا کسی کے بھی بَس میں نہیں ہوگا ۔
ہم سب کو ہی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وہ لوگ جنہیں بھیڑ بکری بنا دیا گیا ہے انہیں اُٹھانا ہوگا اس طرح کہ بجائے اس کے کہ صرف نشاندہی کریں کہ مافیاز ہیں ہمیں اُں مافیا کے نام لینے چاہئیں ہمیں انہیں سزائیں دینی چاہئیں ۔ایک دفعہ سب کو تیار کر لو کہ مشکل اُٹھانی ہے عوام پیچھے نہیں ہٹے گی یہ وہ عوام ہے جس نے ہمیشہ اپنے ملک کا ساتھ دیا ہے چاہے ملک سنوارو نعرہ ہو یا ڈیم بنانے کی بات لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمیشہ دھوکہ کھایا ہے اس لئے اعتماد بحال کرنا لازمی ہے ۔وہ جب ہی بحال ہوگا جب اآپ بلا تفریق سب کو سزائیں دیں گے جو ملوث ہیں چاہے آپ کے ساتھ ہوں یا مخالف ۔
شریف فیملی پھر خبروں میں ہے اول تو خبروں سے نکلتی ہے نہ ہمارے میڈیا سے جاتی ہے کاش نون کے کچھ اچھے اور مخلص لوگ اس پارٹی کو سنبھال لیں ۔اور ان سب کی چھٹی کر دیں جنہوں نے ملک کے لئے کچھ کیا نہ ہی عوام کے لئے ،عوام بھوک میں سڑک نہیں چاٹ سکتی یہ بات پہلے کسی کی سمجھ میں نہیں اآئی سب اپنا پیٹ بھر کر تمہیں سیلانی کے دسترخوانوں پر چھوڑ گئے ،بھوکے کی بھوک مٹانا سب سے بڑا ثواب ہے لیکن بھوکے کو بھی چاہئے کہ جیسے ہی پیٹ بھرے اس کوشش میں لگے کہ خود کماؤں گا خود کھاؤن گا کسی سے مدد نہیں لوں گا ۔بہت سے ان دسترخوانوں سے اپنے دسترخوان تک چلے جائیں گے انشاء اللہ ،ہمتِ مرداں مدد خدا ۔ لیکن ہمت لازم ہے
حالات بدل رہے ہیں اور انشاء اللہ بدلیں گے اگر ہم سب بجائے دوسروں کو بدلنے کے اپنی طرف نظر کریں گے ۔نصیحت کرنا بہت اآسان ہے لیکن خود اس پر عمل مشکل ہوتا ہے اس لئے پہلے خود عمل کریں پھر دوسروں کو اس طرف لائیں تاکہ اآسانی ہو ۔ہم بہت طاقتور قوم ہیں اگر صحیح راستہ دکھا دیا جائے پرانے گڑھوں سے نکال لیا جائے تو کچھ مشکل نہیں کہ لوگ ہماری مثالیں دیں بجائے اس کے کہ ہم چائنا اور ملائیشیا کی مثال دیں ۔ہماری تاریخ ان سب سے زیادہ سنہری ہے اور ہمارا علم ابَدِی علم ہے جس پر عمل کر کے ہم سب کو زیر کر سکتے ہیں ۔
اللہ میرے ملک پر اپنا کرم فرمائے ۔اور جہاں جہاں یہ وباء پھیلی ہے اللہ وہاں کے لوگوں کو نجات دے ،ہماری توبہ قبول فرمائے اآمین

SHARE

LEAVE A REPLY