یوں تو دنیا کی تاریخ جنگ و جدل اور دوسری قوموں، ملکوں پر حملوں اور قتل و غارت گری سے بھری ہوئی ہے۔
دوسری عالمی جنگ میں ہونے والی تباہی تو ذہنوں میں ابھی تازہ ہے، مگر سوائے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی، جہاں امریکی ایٹم بموں نے لاکھوں بے گناہ زندگیوں کو چند لمحوں میں نگل لیا ، باقی ملکوں میں ۔زیادہ تر جنگ محاذوں پر ہوئی اورعام شہری گولہ بارود کی زد میں آئے سہی مگر کچھ جگہوں پر
مگر دنیا کو آج جس جنگ کا سامنا ہے وہ کرہ عرض کے گھر گھر میں لڑی جارہی ہے، کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس بلا سے محفوظ ہے
یہ حضرت انسان کی خود ساختہ کارستانی ہے یا قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا کوئی نتیجہ ہے،
یا پھر بندے کی فرعونیت پراللہ کی جانب سی بھیجا ہوا کوئی عذاب؟
اس کا فیصلہ ہونے میں تو وقت لگے گا
البتہ دنیا میں اس وقت اپنی اپنی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے کے لئے الزام بازی کا سلسلہ بہت زور شور سے جاری پے
یہ البتہ طے ہے کہ پاکستان ہو امریکہ یا یورپ سب نے آفت کی اس گھڑی میں اپنے اپنے عوام کو بہت مایوس کیا ہے
خیال تو یہ تھا کہ ایک مشترکہ دشمن کے سامنے دنیا ایک دوسرے کی تباہی کی خواہش کے بجائے انسانی بھلائی کی خواب دیکھے گی، انسانیت کی جانب لوٹ آئیگی
مگر کم از کم پاکستان کی حد تک ابھی ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا، یہ میں ایک فرقے کے مولانا صاحب کی دعا سننے کے بعد کہہ رہی ہوں
ان مولانا کے کافی پیرو کار ہیں
ان کی دعا سن کرکچھ کہنے سننے کو باقی نہیں بچا
کیونکہ سنا تو یہ تھا دوسرے کے لئے موت کے بد دعا کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا
اور پھر یہ دعا مانتے ہوئے مولانا یہ کیوں بھول جاتے ہیں اللہ تو رب العالمین ہے صرف رب المسلمیں نہیں
یہ ہی نہیں بلکہ ملک عزیز میں ایسے وقت میں
جب شہرویران اور بازار سنسان اور روزمرہ کے کاروبار ٹھپ پڑے ہیں، تو ایک کاروبار خوب چمک اٹھا ہے اور وہ ہے، کرونا وائرس سے بچاؤ اور حفاظت کے لئے جعلی سامان تیار کرنے کا کاروباراکثر مقامات پر فیس ماسک اور ہاتھ صاف کرنے کے لئے لوشن جعلی بنا ئے جارہے ہیں،
اور کچھ جگہوں پر پہلے سے دستیاب اس نوعیت کا سامان انتہائی مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے
گویا کچھ ذہنوں کے لئے انسانی زندگی سے کھیلنا کوئی بات ہی نہیں
رہی بات ذخیرہ اندوزی کی توخیر یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ عادت توپہلے سے موجود ہے اور اس وقت تو موقع بھی ہے دستوربھی ہے، تو کیوں نہ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جائے؟
اور یہ سب کچھ ہورہا ہے ایک اسلامی ملک میں
ماہ پارہ صفدر













