خوبیِ قسمت پہ نازاں کیوں نہ ہو اب سعدیہ۔۔سعدیہ صدف

1
1638

مہرباں جب ہم پہ وہ کافر صنم ہونے لگا
فاصلے مٹنے لگے لطف و کرم ہونے لگا

تھا جو مثلِ گل حصار غیر میں کل تک وہی
آج میری ذات کے گلشن میں ضم ہونے لگا

دل پہ یوں اُس شوخ کا تیرِ نظر آکر لگا
یک بہ یک کافور ہر رنج و الم ہونے لگا

تجھ سے شکوہ تو نہیں مقصود لیکن جانِ جاں
“دن بہ دن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا”

ایک مدت بعد مجھ سے مسکرا کر وہ ملا
دل سے سب شکوے مٹے رشتہ بہم ہونے لگا

دوست ایسے بھی یہاں دیکھے گئے ہیں دوستو
اک ذرا جی خوش ہوا یاروں کو غم ہونے لگا

اک نشہ سا چھا رہا ہے اب کسی کو دیکھ کر
دیدۂ اخلاص مثلِ جامِ جم ہونے لگا

خوبیِ قسمت پہ نازاں کیوں نہ ہو اب سعدیہ
آج اس کے نام سے بیمار دم ہونے لگا

سعدیہ صدف

SHARE

1 COMMENT

  1. سعدیہ صدف کی حالاتِ حاضرہ پہ گہری نظر ہے اور ان کی یہ نظم ان کے احساسات کی بھرپور ترجمانی ہے
    شاعر و ادیب معاشرے کے عکاس ہی نہیں نباض بھی ہوتے ہیں جنہیں معاشرے کی زخم دکھانے اور پھر ان پر مرہم بھی رکھنی ہوتی ہے اس حوالے سے سعدیہ صدف کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے
    ڈھیروں دعائیں
    میثم علی آغا
    اٹلی

LEAVE A REPLY