لفظوں میں کوئی منظر, منظر نہیں رہتا ہے
بادل جو برس جائے وہ پھر تر نہیں رہتاہے
تعمیر عمارت میں ہے محتاط بہت رہنا
اینٹوں سے چنا جائے جو, وہ گھر نہیں رہتا ہے
سنسانی یا ویرانی ہے, نئی بات نہیں اسمیں
انصاف جہاں نہ ہو وہ شہر نہیں رہتا ہے
کوئ ساتھ ہمارے ہو کیونکر یہ ضروری ہے
تم ساتھ چلو گر تو, پھر ڈر نہیں رہتا ہے
احسان کے بدلے کی احسان ہی صورت ہے
جو سر کو اڑاتا ہے وہ سر نہیں رہتا ہے
سوچا ہے کہ اپنا لیں بستی کی سبھی رسمیں
زردار نہیں رہتا… بے زر نہیں رہتا ہے
کچھ وقت بچا لینا تم وقت کی گردش سے
ورنہ تو یہ لمحہ بھی پل بھر نہیں رہتا ہے
طالبِ سحر













