تمہاری یاد بھی اس ٹؤور جیسی ہے
جانے سے پہلے کی بے ساختگی
تم سے ملنے کی خوشی کی مانند
چڑھائیوں جیسی تلخ
رنگینیوں سے بھرے مناظر
پانی کے طلاطم
اور گہرائی لئے ہوئے
میرے جذبات
جن میں کچھ بھی سما جائے
اور ان عمیق گہرائیوں سے
کچھ بھی ابھر کر سامنے نہ آ پائے
دُھند کی مانند چھپے ہوئے
تم اور ہماری تقدیر
گہری اس دھند کے پار
شاید مکتی ہے
یا پھر وہی ادھورہ پن
میں اسی آس پہ
دھند میں چھپے اس اداس نارنجی سورج کی مانند
محبت کی گرمائش سے محروم۔۔!!
قرۃ العین راٹھور













