مجھے پہلی جماعت میں ہی اردو پڑھنی آگئی تھی۔ مشکل الفاظ توڑ جوڑ کرکے پڑھ لیتی تھی۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے نانی امی نے رسالہ بچوں کی دنیا لے دیا۔ یہ وہ لت ہے آج تک لگی ہوئی ہے اب بھی رات پڑھے بغیر نیند نہیں آتی۔ جب بھی میں ان کے ساتھ تفریح یا خریداری کیلئے اسلم مارکیٹ واہ کینٹ جاتی تھی تو کتابوں کی دکان سے فیروزسنز کی باتصویر بچوں کی ایک کہانی ضرور میرے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ اس وقت شاید کہانی کی وہ کتاب چار روپے کی تھی۔ کہانی پڑھ لینے کے بعد ڈرائینگ پیپر پہ ان تصاویر کا سکیچ بنانا مجھے مرغوب تھا۔ کئی بار وہ سکیچ صبح کی نشریات میں بھیجے جاتے۔ تیسری جماعت سے میں بچوں کا رسالہ تعلیم و تربیت لے رہی تھی جو کہ 2010 تک لیتی رہی۔ کئی بار اس میں میرے بھیجے ہوئے لطائف چھپتے تھے۔ بچپن الہٰ دین، علی بابا چالیس چور، گلیور، سنڈریلا پڑھ کر ہم تھوڑے بڑے میرا مطلب ہے چوتھی جماعت میں پہنچے تو کرنل شفیق الرحمان کی کتاب #حماقتیں پڑھی۔ نیلی جھیل آج بھی میرا پسندیدہ افسانہ ہے۔ اس کے لطائف میں اپنے چھوٹے بھائیوں کو سناتی اور ہم تینوں روفی، لینکی اور مقصود گھوڑے پر جامع تبصرہ کرتے۔ آج تک ہمارے گھر میں ڈھیٹ انسان کو #مقصودگھوڑا ہی کہا جاتا ہے۔ گھر میں ماموں کی ایک چھوٹی سی لائیبریری تھی۔ کتابوں کی الماری پر ایک کاغذ پہ مارکر سے لکھا ہوا تھا ” کتاب نہ مانگیں، نہ اٹھائیں، بلکہ گزشتہ کتابیں بھی واپس کریں.” اس کے باوجود لوگ کتابیں لے جاتے تھے اور واپس نہیں کرتے تھے۔آٹھویں جماعت میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ایک نئی کتاب کا ٹائیٹل آنکھوں میں سما گیا۔ یہ یتھی #بیسویںصدیکےشاہکارافسانے جس کا ترجمہ صغیر ملال نے کیا تھا۔ پہلا افسانہ ٹالسٹائی کا افسانہ #پیالہ تھا۔ اس ،،،،،؛کتاب نے مجھے کئی مغربی مصنفوں کے نام سے واقفیت دی جن میں ارنیسٹ ہیمنگوے، سارتر، موپساں، سلویا پلاتھ وغیرہ وغیرہ۔ کئی افسانے سر پر سے گزر گئے لیکن بڑے ہوجانے کے بعد اور کئی بار پڑھ لینے کے بعد میں ان افسانوں کو آج تک فراموش نہ کرسکی۔ میٹرک کے دوران ایکبار پھر صرف تعلیم و تربیت کا ساتھ رہا تاکہ پاس تو ہوجائیں۔ فرسٹ ائیر میں پاپا کی ایک افسانوں کی کتاب ہاتھ لگی جس کا عنوان تھا #اردوکےگیارہافسانے
یہ تھا میرا اردو سے باقاعدہ تعارف جن میں منشی پریم چند کا افسانہ #کفن سب سے پہلے تھا۔ پھر کرشن چندر کا #مہالکشمی، غلام عباس کا #آنندی، منٹو کا #ٹوبہٹیکسنگھ، احمدندیم قاسمی کا#مہمانخانہ، ممتاز مفتی کا #آپا، قرۃالعین حیدر کا #نظارہدرمیاں_ہے قابلِ زکر ہیں۔
یہ وہ کتاب ہے جس نے اردو ادب پڑھنے کی تحریک دی۔ میں نے ایف اے بعد شاید تین چار مہینوں میں امی کے کئی سال پرانے خواتین ڈائجسٹ پڑھے پھر ردی والوں کو بیچ دئیے۔ میرا کہنا تھا کہ جہاں سے زندگی شروع ہوتی ہے وہاں پہ کہانی ختم کردیتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں پھر کبھی ڈائجسٹ ریڈر نہ بن سکی۔ میرا آغاز ہی ثقیل ادب سے ہوا تھا میں ہلکا پھلکا کیسے پڑھ پاتی۔ یہی حال اردو شاعری کا تھا ایک تو استاد مشہور شاعرہ ڈاکٹر ناہید قاسمی جو احمد ندیم قاسمی کی بیٹی تھیں۔ دوسرا آغاز ہی احمد فراز کی کتاب جاناں جاناں سے کیا تو پھر وصی شاہ کو کون پڑھتا۔
یوں تو میرے جیسی خوابوں میں رہنے والی عورت جب بھی کوئی کتاب پڑھنے لگتی ہے اگلے کچھ دن تک اس کتاب اسکے کرداروں اور کہانی کے علاوہ کچھ اور سوچ نہیں پاتی۔ مجھ پر کسی ایک کتاب کے اثرات نہیں ہیں بلکہ کئی کتابوں کے مشترکہ اثرات پائے جاتے ہیں۔ کالج کے تھرڈ ائیر کے زمانے میں شہاب نامہ ہاتھ لگ گئی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اس لئیے ورق گردانی میں آسانی رہتی تھی۔ اس کے کئی واقعات مجھے آج بھی زبانی یاد ہیں۔ ایک میں اور ایک میرا امیجینیشن ۔۔۔۔۔ میں اس کی اردو اس لئیے نہیں کرتی کہ تخیل بہت بڑی چیز ہے میرے جیسا عام انسان صرف امیجین ہی کرسکتا ہے۔ ایک باب پڑھنے کے بعد تمام منظر میری آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے۔ اور کہانی کے مناظر میں کھلی آنکھوں سے اس طرح دیکھنے لگتی ہوں کہ گویا ٹی وی پہ پروگرام دکھایا جارہا ہو۔ ابھی لکھتے لکھتے شہاب نامہ کا پہلا باب #جموںمیںپلیگ نظر میں گھومنے لگا۔ حکیم گوراندتہ مل کی دکان سے گلقند چراتے ہوئے شہاب صاحب اور اگلے ہی لمحے مولوی صاحب کی حُور شمائل بیگم نظروں میں پھرنے لگے۔ اور شہاب صاحب کا اشتیاق سے پوچھنا کہ گُٹھلی نکل آئی؟ یہ سب سوچنے میں کس قدر مزیدار ہے۔ میری اپنی سوچ اور امیجینیشنز جس پہ میں خود مسکراتی جاتی ہوں۔ میرے نزدیک میں خود بہت سے لوگوں (کرداروں) میں گھری ہوئی ہوں۔ اسی لئیے مجھے اپنے ارد گرد لوگوں کا ہجوم کبھی متاثر نہیں کرپاتا۔
میں چونکہ تاریخِ پاکستان کی طالبہ تھی اس لئیے شہاب نامہ سے پھرپور طریقے سے مستفید ہوئی۔ درسی کتب میں چونکہ لکیر کے فقیر کے طور پر تاریخ بتائی جاتی ہے شہاب نامہ نے مجھے بھرپور مدد دی۔ ہمارے سیاست دانوں کے وہ بھرم بھی کھول دئیے جن پر ہمیشہ پردہ ڈالا گیا۔ جب کلاس میں ٹیسٹ ہوا تو میرے لکھے ہوئے جوابات میری استاد میڈم فردوس بٹ نے پڑھ کر سنائے اور مجھے پوچھا کہ آپ کوچنگ کس سے لے رہی ہیں۔ اور میرا جواب تھا شہاب صاحب سے۔ کلاس فیلوز شہاب صاحب کی اکیڈمی کا پتا معلوم کرنے پر بضد تھیں۔ شہاب نامہ کا دوسرا حصہ صوفی ازم سے متصل ہے۔ فلسفہ میں صوفی ازم کا پرچہ بھی ہوتا ہے اس لئیے بی اے میں میرے دونوں مین مضامین شہاب نامہ سے تیار ہوئے۔ لیکن مجھے اصل دکھ چندراوتی کا لگ گیا جس نے ہر بار مجھے یہ یقین دلایا کہ اصل محبت میں وصل کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے اور اسی وجہ سے #عشق-لاحاصل پر میرا اعتقاد پختہ ہوگیا۔
دوسری کتاب جس نے مجھے آج تک گرویدہ کر رکھا ہے وہ #بانوقدسیہ کا شہرہ آفاق ناول #راجہگدھ ہے۔ راجہ گدھ اپنے قاری کو یکدم حصار میں نہیں لیتا۔ اگر اس کے ہر حصے کا پہلا باب قاری ہضم کرجائے تب ہی وہ ناول سمجھ آنا شروع ہوتا ہے۔ ایک مڈل کلاس انسان کے لاحاصل عشق کی داستان۔۔۔۔ جو خود تو حرام کھانے کا مرتکب نہ ہوا لیکن اس کی پرورش میں حرام رزق کا دخل تھا۔ جس کے حصے میں ہمیشہ جوٹھن ہی آئی خواہ وہ سیمیں شاہ ہو، امتل ہو، عابدہ ہو یا پھر اس کی اپنی بیوی۔ ایسا سب ہونے میں اس حرام کا دخل تھا جس پر اس کی پرورش ہوئی۔ عشق لاحاصل کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے عرفان کے قریب تھا کہ دیوانہ ہوگیا۔ ڈاکٹر سہیل کا حلیہ اور کردار میرے اپنے استاد پروفیسر جواد سے بہت ملتا جلتا تھا۔ جنہیں کبھی کورس پڑھانا نہ آیا۔ وہ باتوں باتوں میں کب لیکچر شروع کردیتے ہمیں گمان تک نہ گزرتا تھا۔ عزیز گاتن کا کردار مجھے ازحد پسند ہے جسے اپنے اور اپنی والدہ کے بارے میں فحش گفتگو سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ اس کی ماں ماسی الفت گاؤں کے مردوں کو عزیز تھی۔ اور یہ سب وہ عزیز گاتن کیلئے کررہی تھی۔ عزیز گاتن کا اوپر کا ہونٹ کٹا ہوا تھا اس وجہ سے اس کا چہرہ ہنستا ہوا لگتا تھا۔ میں آج بھی اپنی کھلی آنکھوں سے عزیز گاتن کو ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں جو جوٹھن کھا کھا کر گدھ بن چکا تھا۔ راجہ گدھ پہلی بار
پڑھنے کے بعد مجھ پر ایک عجیب طرح کا ڈپریشن طاری رہا۔ ناول کے کئی حصے سر پہ سے گزر جاتے جنہیں بار بار پڑھنا پڑتا تھا اور پھر بھی پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔ ہر بار کورس کی کتاب کی طرح کچی پنسل سے ریفرینس اور تشریح بھی لکھ دیتی۔ تقریباً دو سال میں کئی بار اسے بغور پڑھنے کے بعد مجھے اس میں کچھ شُدبد ہوئی۔ پھر ایک مرتبہ میں نے ناول کبھی لارنس گارڈن میں ترت مراد شاہ کے پاس بیٹھ کے پڑھا، کبھی کافور کے درختوں کے تلے، کبھی گورنمنٹ کالج کے اوول میں بیٹھ کے پڑھا اور کبھی پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں نہر کنارے پڑھا۔
شہاب نامہ اور راجہ گدھ کے بعد جیسے ذہن کی کئی گرہیں کھلنے لگیں۔ پھر دوستوں کے اس گروپ کی تقریباً تمام کتابیں پڑھنا جیسے فرض ہوگیا۔ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی اور شہاب صاحب کی کتابیں بھی تلاش کرکے پڑھئیں اور ان سے ایک انجان عقیدت ہوگئی جو بانو آپا سے ملاقات کا باعث بھی بنی۔ ان چار ادیبوں نے مجھ سمیت ان گنت لوگوں کا بھلا کیا ہے اور کائنات کی تیسری جہت کی جانب توجہ دلائی ہے۔ مجھ سمیت اور بھی بہت سے لوگ ان کے احسان مند ہیں۔ اب بھی جب کبھی راولپنڈی جانا ہوتا ہے میں شہاب صاحب اور مفتی صاحب سے ملنے ضرور جاتی ہوں۔ کیوں نہ جائیں ہم پاکستانی ایسے ادیبوں کے مقروض ہیں۔
قرۃالعین حیدر













