گجرات کی ڈسٹرکٹ جیل میں عمرقید کاٹنے والا 101 سالہ قیدی مہدی خان

0
889

لاہور ہائی کورٹ نے 101 سالہ بزرگ قیدی مہدی خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے مہدی خان کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے محکمۂ داخلہ کو جیل مینوئل کے تحت درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

تحریری حکم میں محکمۂ داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ فیصلے کی مصدقہ نقول جاری ہونے کے 3 ہفتوں میں درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔

تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ 3 مارچ 2020ء کو اے آئی جی پنجاب جیل خانہ جات عدالت میں پیش ہوئے تھے، جنہوں نے بتایا تھا کہ مہدی خان کی درخواست محکمۂ داخلہ میں زیرِ التوا ہے۔

بزرگ قیدی نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔

101 سالہ مہدی خان کے وکیل حمزہ حیدر ایڈووکیٹ کے مطابق بزرگ قیدی علیل ہیں جن کی عمر 100 سال سے زائد ہے، مہدی خان کو 2006ء میں گجرات میں قتل کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔

بزرگ قیدی کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ خاندانی دشمنی پر 7 افراد قتل ہوئے تھے، مہدی خان کی اس وقت عمر 86 سال تھی، 2009ء میں ٹرائل کورٹ نے مہدی خان کو بری کیا تھا۔

حمزہ حیدر ایڈووکیٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مخالف فریق نے فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا، مہدی خان کو 2019ء میں لاہور ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY