اب تو ہر سمت ہے شبیرؓ کا سجدہ بیٹھا

0
789

سلام
ریت آنکھوں میں پڑی کَرب میں اُٹھا بیٹھا
شرم سے ظلم کا چڑھتا ہوا دریا بیٹھا
منتظر تھا اسی ساعت کا عروجِ اسلام
آگ خیموں میں لگی کُفر کا بھٹہ بیٹھا
فتحِ حق لکھی تھی شبیرؓ نے خود ماتھے پَر
تھام کے سینہ جب آنکھوں کا اُجالا بیٹھا
صَبر کے بوجھ سے اس طرح کمر ٹوٹی کہ بس
پھر نہ اُٹھا کبھی بیعت کا جو ناقہ بیٹھا
کربلا سُن کے دَہل جاتے ہیں کچھ لوگ ابھی
خوف سا جیسے کہ دل میں ہو کسی کا بیٹھا
اب بھی محتاط قدم رکھتا ہے دشمن ڈر سے
جب سے ساحل پہ ہے اُن آنکھوں کا پہرہ بیٹھا
کربلا کے سوا ملتی بھی کہاں جائے اَماں
پایا شبیرؓ نے ہر موڑ پہ فتنہ بیٹھا
زلزلے چوم کے لوٹ آئے ترا نقش قدم
ظلم جس راہ چلا تھا وہی رستہ بیٹھا
ماں بھلا دیکھے گی کیا سینۂ اکبرؓ کا شگاف
خشک ہونٹوں کو جو دیکھا تو کلیجہ بیٹھا
شاخ گریہ سے بہت پوچھتی ہے بادِ صبا
وہ جو اشکوں کا پرندہ تھا کہاں جا بیٹھا
چھِد گئے گردن بے شیر،دل اُمِّ رباب
تیر بھی ٹھیک نشانے پہ کچھ ایسا بیٹھا
شعلہ جرم نے پھر چین سے رہنے نہ دیا
حُرملہ اُٹھا تڑپ کر جو ذرا سا بیٹھا
اقتدار آتا ہے ہر صبح کو سجدہ کرنے
دل میں کچھ اس طرح زینبؓ کا ہے سکہ بیٹھا
ظلم کیا بولے گا اب دیکھ کے دربارِ حسینؓ
اُس کی آواز تو بیٹھی ہی تھی لہجہ بیٹھا
دل کے ہمراہ ہمیشہ رہا شبیرؓ کا غم
دَرد نے کب اُسے پایا کبھی تنہا بیٹھا
جائے،کس راہ سے نکلے گا کوئی منکر حق
اب تو ہر سمت ہے شبیرؓ کا سجدہ بیٹھا
٭رضا قیصرزیدی
( مرحوم )

SHARE

LEAVE A REPLY